جی۔این۔پروانہ
آج جمعہ ہونے کی وجہ سے وسیم چھٹی پر ہے ہے اس لیے وہ سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ میں اپنے والد کے اولڑ ایج پینشن کیس کی تازہ ترین نوعیت جاننے کے لیے آفیسر سے خود ملنے آیا ہے کیونکہ اب دو سال ہونے کو آئے مگر کیس کا کچھ پتہ نہیں چلا وسیم کمپیوٹر سائنس میں بیچلر ڈگری رکھنے کے باوجود ایک ٹھیکے دار کے پاس روزانہ اجرت پر مزدوری کرتا ہے وسیم کے والدین نے غربت کی سطح سے نیچےگزر بسر کرنے کے باوجود اسے بی۔سی۔اے کی ڈگری تک کی تعلیم دلانے میں اپنے خون پسینے کی کمائی اس امید کے ساتھ لگائی کہ کوئی قابل قدر نوکری ملنے پر وہ اپنی دو چھوٹی بہنوں کی شادی کرنے کے ساتھ ساتھ والدین کے لیے عصائے پیری بھی بن جائےگا دن کے ساڑھے گیارہ بج رہے تھے لیکن دفتر کے صاحب کا کمرہ ابھی تک تالا بند تھا جو اس بات کا اعلان کر رہا تھا کہ صاحب آج دفتر نہیں آئیں گے دفتر کے چپراسی نے معلوم کرنے پر اس بات کی یہ کہہ کر تصدیق بھی کی کہ آج ڈائرکشن آفس میں صاحب کی میٹنگ ہے۔وسیم نے صاحب کے پی۔اے۔سےملنے کی خواہش ظاہر کی تو اسے ویٹنگ روم میں بیٹھنے کے لئے کہا گیا گھنٹہ بھر انتظار کے بعد اسے بتایا گیا کہ صاحب یا صاحب کے پی اے سے ملنے والوں کے لیے تین بجے کے بعد کا وقت مقرر ہے جب وسیم سے چپراسی نے تین بجے کے بعد آنے کو کہا تو وسیم کو بہت ناگوار گزرا اور وہ چپراسی سے یہ پوچھنے پر مجبور ہوگیا “بھائی یہ بات تو آپ ساڑھے گیارہ بجے بھی کہہ سکتے تھے تمہیں دوسروں کے وقت کا زرا بھی خیال نہیں “۔ ‘چپراسی کو اور بھی بہت کام ہوتے ہیں یہ کہہ کر چپراسی گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہو گیا بہرحال وسیم زہر کے گھونٹ پی کر دفتر سے باہر نکل آیا اور دفتر کے آس پاس تین بجنے تک کبھی بیٹھ کر اور کبھی غیر ارادی طور پر ٹہل کر وقت گزاری کی تین بجتے ہی جب وسیم پی۔اے۔صاحب کے کمرے کے پاس ان سے ملنے کے لیے گیا تو وسیم کے اوسان یہ سن کر کہ پی۔اے۔صاحب کو بڑے صاحب نے ڈائرکشن آفس بلایا ہے خطا ہوگئے۔وسیم نے بڑی مشکل سے اپنے غصے پر قابو پا کر۔چپراسی سے پوچھا” چپراسی بھائی” ‘ میرا نام سلطان ہے چپراسی نے قدرے بگڑ کر کہا۔جی سلطان بھائی بھائی آج سارے کا سارا دن ضائع ہوگیا کیا کل صاحب جی آئیں گے” ‘وہ تو ہے اس میں میں کیا کر سکتا ہوں ویسے تمہیں کیا کام تھا یہ تو بتاؤ چپراسی نے اب کےزرا نرم لہجے میں پوچھا۔” سلطان بھائی بات دراصل یہ ہے کہ میرے والد آج سے ڈیڑھ سال پہلے تمام تر لوازمات پوری کرکے اپنا اولڑ ایج پینشن کیس یہاں دے گئے تھے مگر نجانے کیوں ابھی تک انکے کھاتے میں کوئی پیسہ کیوں نہیں آیا” ‘ضرور اس میں کوئی کمی رہی ہوگی نہیں تو ہمارے صاحب اور ان کے پی اے کافی رحم دل اور خدا ترس ہیں۔ ” پھر کیا میں کل آجاوں ” وسیم نے ملتجانہ انداز میں پوچھا وہ تو تمہاری مرضی ہےاس میں میری مرضی کا کیا دخل ” بھائی سلطان بات یوں ہے کہ والد صاحب بیمار ہونے کی وجہ سے چلنے پھرنے کے قابل نہیں ہیں اور مجھے اپنی روزی روٹی کمانے کے لیے کام پر جانا پڑتا ہے اس لیے اگر کل بھی آج کا جیسا معاملہ ہوگیا تو میرے لیے ایک دن کی مزدوری بہت معنی رکھتی ہے” ‘ خیر وہ تو تمہارا پرابلم ہے یہ بتاؤ کہ میں کیا کر سکتا ہوں تمہارے لیے چپراسی نے ہمدردی جتاتے ہوئے کہا “بھائی سلطان میں تمہیں اپنے والد کے کیس کا نمبر ڈیٹ دے دوں گا تم مہربانی کرکے کیس کی تازہ ترین نوعیت معلوم کرکے تھوڑی سی سفارش کرکے اگر کیس سینکشن ہی کراو تو بڑی مہربانی ہوتی” وسیم نے عاجزانہ لہجے میں بات کی۔ چلو ٹھیک ہے کسی کاغذپر کیس کا نمبر ڈیٹ لکھ کر اسکے ایک طرف اپنا فون نمبر بھی لکھ لینا یوں تمہارا دن بھی بچ جائے گا باقی بعد میں دیکھیں گے۔ ” شکریہ بھائی جان شکریہ” وسیم نے پرچی لکھتے ہوئے کہا اور پرچی اسے تھما کر چل پڑا۔ آج سوموار ہے اور دن کے ساڑھے بارہ بج رہے ہیں وسیم کا سیلولر فون اچانک بج اٹھا ” ہیلو ہاں جی کون اچھا سلطان بھائی جی جی جی بہت بہت شکریہ بھائی بہت بہت شکریہ جی۔تو پھر میں تو ابھی کام پر ہوں اچھا جی کہ کی کیا “وسیم تھوڑا ہکلایا “مگر ۔۔جی کتنا اب فون جو کیا ہے اب بتلا ہی دو ۔ مگر سنو تو میں ارے اس نے تو کاٹ دیا” وسیم کے چہرے پر خوشی اور غیر یقینیت کےملے جلے آثار ابھر آئے شام کو جب وسیم گھر آیا تو اس نے اپنے والد کو بتایا کہ اس کا اولڈ ایج پینشن کیس واگزار ہوگیا تھا مگر چپراسی کو کچھ پیسے دینے پڑیں گے اس کے والد نے دس دس کے چھے نوٹ نکال کر وسیم کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا” میری جیب میں صرف ساٹھ روپے ہیں اس سے کام بن سکتا ہے کیا” ‘ کوئی بات نہیں بابا میرے خیال سے چپراسی کے لیے کچھ ٹھنڈا یا چائے پانی کے لیے کافی ہوگا اور میرے پاس بھی کچھ پیسے ہیں کام چلے گا انشاء اللہ” یہ کہہ کر وسیم نے بابا کو تسلی دی اگلے دن جب وسیم چپراسی سلطان سے ملا سلطان نے کیس کی سینکشن کے لیے تین ہزار روپیے مانگ کر وسیم کے ہوش اڑادئیے ” میں تو تمہارے لیے چائے پانی کے لیے روپے سو سوا سو لایا ہوں تین ہزار روپئے کس بات کے دوں اور پھر لاؤں کہاں سے” وہ تو تم جانو میرا کام ہے کہنا میں اور کچھ نہیں کرسکتا ۔” مگر بھائی سلطان” ‘سوری میرے ہاتھ میں کچھ نہیںسلطان سر جھٹک کر چل پڑا اور سیدھا پی۔اے۔کے کمرے میں چلا گیا وسیم تیزی سے اُسکے پیچھے ہولیا اور پی۔اے۔کے کمرے میں گھس گیا ” ارے بھائی کہاں گھسے جارہے ہو” سلطان نے اسے روکنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا مگر وسیم پی اے کے پاس پہنچ ہی گیا “سر سر” وسیم ہانپ رہا تھا ‘ ارے بھائی سلطان یہ کون ہے اور اندر کیسے آگیا پی اےنے ناراضگی سے پوچھا ‘” سر یہ زبردستی اندر آیا ” چپراسی نے وسیم کو باہر نکالنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا” سر میری بات تو سنیے ‘” کچھ نہیں سننا ہمیں گیٹ آؤٹ” پی اے نے ڈانٹ کر کہا وسیم نے اپنے آپ کو چپراسی کی گرفت سے چھڑا کر پی اے سے دوبارہ مخاطب ہونے کی کوشش کی ایسے میں وسیم اور چپراسی ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوگئے اور چپراسی کی گرفت سے پھسل کر پی اے کے ٹیبل سے ٹکرا گیا ٹیبل پر پی اے کے لیے چائے سے بھرا کپ تھا جو ایک دم سے گر گیا جس سے ٹیبل پر بکھرے سارے کاغذ خراب ہو گئے بس پھر کیا تھا پی اے اور چپراسی آگ بگولہ ہوگئے انھوں نے دفتر کے دوسرے ملازموں کو بلا کر وسیم کو تب تک پکڑے رکھا جب تک کہ پولیس کو بلا کر اسے گرفتار نہ کروایا گیا وسیم کی کسی نے بھی نہیں سنی ۔پی اے اور چپراسی نے طرح طرح کے جھوٹے الزامات لگا کر وسیم کو غنڈہ قرار دیا ۔وسیم پولیس والوں کی منت سماجت کرتا رہا مگر وہ اسے گھسیٹے ہوئے لے گئےاور حوالات میں بند کر گئےحوالات میں تالہ بند کرنے کے ساتھ ہی پولیس قانون کے مطابق وسیم کی تلاشی لے لی گئی اور اس سے اس کا موبائل فون بٹوہ کنگا وغیرہ اپنی تحویل میں لیا ایس ایچ او نے جب وسیم سے پوچھ تاچھ کی کی تو وسیم نے سارا ماجرا حرف بہ حرف سچ بتایا ایس ایچ او نے جب سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے افسر کو وسیم کا بیان فون پر سنایا تو ایس ایچ او کو ایک دم ایک نئی کہانی سننے کو ملی۔دراصل چپراسی اور پی اے ۔نے وسیم سے متعلق اصل حقائق کو چھپانے کے لیے جھوٹ کا ایک پلندہ تیار کیا پی اے اور چپراسی نے بتایا کہ وسیم نے دھمکی دی کہ اس کے والد کے اولڑ ایج پینشن کیس کی سینکشن میں تاخیر کے لیے ذمہ داروں کو وہ گولی مار دے گا پولیس کے لیے تو اتنا ہی کافی تھا آخر یہ بیان ایک سرکاری گزیٹیڈ آفیسرکی طرف سے آیا تھا پولیس کی طرف سے مزید تحقیق کے لیے وسیم کو ایک ہفتہ پولیس کی تحویل میں رہنا پڑا اس دوران اور تو کچھ نہیں ملا مگر وسیم کے فون میں کچھ ایسا ایس۔ایم۔ایس۔ اور واٹس ایپ مواد ملا جسے ملکی قانون کے تحت قوم دشمن قرار دیا جاتا ہے حالانکہ ایسے مواد کو فون میں آنے سے کوئی روک نہیں سکتا ہاں یہ ضروری ہے کہ اسے حالات کی وجہ سے فوری طور ڈیلیٹ کرنا چاہیے وسیم اپنی دفاع میں پولیس اور تمام متعلقین کے سامنے گڑگڑا کر سچ بیان کرتا رہا مگر جیل سے اسکی رہائی عدالت سے ضمانت حاصل ہونےکے بعد ہی ممکن ہوسکی گو کہ معاملہ اب عدالت میں ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ عدالت جب تک وسیم کو بے گناہ ثابت کرے گی جب تک تاریخوں کے لمبے سفر میں وسیم کی قسمت تاریکیوں کے اندھیروں میں بے نام و نشان ہوگئ ہوگی کیونکہ پولیس نے وسیم کو فی الحال غنڈہ قرار دیا ہے ۔
