کہانی کار۔۔۔خالد حسین
دھرتی کنکریٹ کاگھناجنگل بن گئی۔ پہاڑوں کوکاٹ کراوربڑے بڑے شگاف ڈال کرسڑکیں ،سُرنگیں اورڈیم بنادیئے گئے۔ سرسبزمیدانوں اور کھیت کھلیانوں میں اُونچے ،لمبے اورچوڑے کنکریٹ کے ستُون جوڑکر سینکڑے فٹ اونچی عمارتیں کھڑی کردی گئیں ۔برگد،شیشم ، چندن، چنار، چیڑ، ہڑر ،دیودار ،ببُول،ساگوان ،آم، اخروٹ ،رِیٹھے ،آنولے ،املوُک، بیر، جامن، لوکاٹ اورلاکھوں سایہ داردرختوں کوکاٹ کرزمین کو ننگاکردیا۔چراگاہوں کو بنجربناکرماحول کوپراگندہ کردیا۔ ندی، نالوں اور دریائوں کاپانی زہریلا بنادیا۔ کنویں، تالاب،چشمے ،ٹیلے ،کھڈیں،کھائی سب بستیوں نے ہضم کرلئے۔صافے ،پگڑیاں ،لاچے،شلواریں ،گوٹے، کناری، پراندے،دوپٹے ،میلے ،ٹھیلے،بسنت ،بیساکھی ،گِدّے ،بھنگڑے ،ناچ نغمے ،عشقیہ داستانیں ،شبدکیرتن،بھجن ، اذان ، دُعائیہ مجلسیں ،کافیاں،ٹُھمریاں ،حمد،نعتیں ،دوہے،ٹپے،سہرے،سہاگ ،قصیدے اورمرثیے سب گُم ہوگئے۔ساگ سبزیاں ،مکئی اورباجرے کی روٹیاں ،سب قصے کہانیاں بن گئیں۔طرز ِ معاشرت تبدیل ہوئی ۔ایساتمدنی انقلاب آیا کہ دھرتی کاجغرافیہ ہی بدل گیا۔ دُنیاگلوبل گائوں کہلانے لگی۔ہتھیاروں کے سوداگرمن مانیاں کرنے لگے ۔ دو،دو،تین،تین ہزار کلووزنی بم کُرّہ ٔ ارض کاسینہ چیرنے لگے۔ راکٹ، میزائیل، ایٹم اور جراثیمی ہتھیاروں نے پرتھوی پرتباہی مچادی۔ انسانی گوشت ،کُتے اوربھیڑئیے کھانے لگے۔موبائیل، انٹرنیٹ ،یوٹیوب ،فیس بُک ،کمپیوٹر ، لیپ ٹاپ ،ایل،ای ،ڈی اورٹیلی ویژن چینلوں نے وہ ہنگامہ آرائی برپاکی کہ بے حیائی ہرگھرکے اندرآئی۔ بچے،جوان،بوڑھے سب نئی ایجادات کے مایاجال میں بُری طرح پھنس گئے ۔سڑکوں پردوڑنے والی گاڑیوں کی آلودگی اورکارخانوں کی چمنیوں سے اُٹھنے والے دُھویں نے لوگوں کی سانسیں روک لیں ۔آسمان کو چھُوتے ٹاوروں نے صاف وشفاف ہواکاچلنا بند کردیا۔ تاب کاری لہروں نے آسمان پر قبضہ کرلیا۔ کھوجی سیارچوں نے خلاء کوکھنگال ڈالا۔پرندے آسمان پراُڑنابند ہوگئے۔ چڑیاں مرگئیں ۔حکمرانی کاچسکاہرایرے غیرے،نتھُوکھیرے کولگ گیا۔کمزوروں پرحملے کرنا قومی فریضہ بن گیا۔ انسانی جانیں سستی ہوگئیں ۔فرعون دعویٰ کرنے لگے کہ خُداکی خُدائی نام کی کوئی چیزدُنیامیں ہے ہی نہیں ۔
پھرایک دِن ،اِک نابینا وائرس پیداہوا۔ جنم لیتے ہی اُس کادائرہ بڑھنے لگا،اورپھردیکھتے ہی دیکھتے اُس نے پوری دُنیاکواپنی لپیٹ میں لے لیا۔لوگ مرنے لگے۔آدمی ،آدمی سے ڈرنے لگا۔رشتے ناطے ٹوٹ پھوٹ کاشکارہوگئے۔میاں بیوی ،ماںباپ، بھائی بہن ،سب نفسانفسی میں مُبتلاہوگئے ۔ دُشمنیاں اوردوستیاں مِٹ گئیں۔دھرتی شمشان اورقبرستان بن گئی ۔ دُنیاختم ہونے لگی ۔سائنس دانوں کی کراماتیں بے بس ہوگئیں ۔ڈاکٹر،وئید اورحکیموں کی رسدگاہیں ایک دوسرے کامونہہ تکنے لگیں ۔تحقیقی تجربے ناکام ہوئے۔ کوئی بھی دوا کارگر ثابت نہ ہوئی۔ لوگ اس مہاماری اورناگہانی آفت سے بچنے کیلئے پُرانے ٹوٹکے آزمانے لگے۔ ہووّن کرائے گئے۔نذرنیاز یں دینے لگے۔لنگرلگانے لگے۔ پررحیم ،کریم، اگم قادرکہلانے والے نے رحمت اورشفقت سے ہاتھ کھینچ لئے ۔ عبادت گاہوں کے ٹھیکیداروں نے اِس وائرس کوخُدائی قہر بتایا جو خلقت کی نافرمانی کی بدولت نازل ہوا۔ زندگی تھم گئی ۔ صدیوں کی سائنسی ترقی خاک میں مل گئی۔لوگ بوسیدہ کمروں میں پڑے دھارمک گرنتھ پھِر ٹٹولنے لگے۔ اللہ، ایشورتیرونام کی صدائیں دینے لگے۔ سربہ سجوُد ہوئے۔ اپنے گناہوں اورکوتاہیوں پر شرم سار ہوئے۔ہاتھ باندھ کر معافیاں مانگنےلگے لیکن موت کاٹانڈو زندگی اُجاڑتا رہا۔ آخرش انسانی نسل ختم ہوگئی۔ کنکریٹ کاجنگل پاتال ننگل گیا۔ دھرتی بے چراغ ہوگئی۔
پھِرربّ العِزت نے ایک نئی کائنات سجائی۔ دوبارہ خاک سے آدم اورحوّاکو پیداکیا۔ پرند، چِرند اور جانوروں کے جوڑے پیدا کئے۔ جنگل،پہاڑ،ہرے بھرے میدان،رُوح پرور،نرمل ہوائیں ،صاف پانی کے چشمے، ندیاں،دریااورسمندر،پھُول بو ُٹے اورباغ باغیچے بنائے____ پھرآدم کوحُکم دیا کہ وہ ایسی مخلوق پیداکرے جواُسکی کائنات میں دخل نہ دے اورجومذہب ،ذات پات ،رنگ اورنسل کی شناخت کویکسرردکردے ۔ سِرشٹی کوایشورکی لِیلامانے اورصرف خُداکی خُدائی کاوِردکرے۔
(ختم شد)
