غلام نبی پروانہ
8899284197
جب کوئی شخص کسی بھی طرح کے غم میں مبتلا ہو جاتا ہے تو اسکے رشتے دار اور یار دوست اسے تسلی دینے کے لیے اور اس کا دل بہلانے کے لیے کبھی آس کے پاس جا کر کبھی زبانی یا خط وکتابت کے ذریعے یا عصر حاضر کے ایک رسم کے مطابق اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے اس کے غم میں برابر کے شریک ہونے کا یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ سالہاسال سے میرے ذہن میں یہ سوال کروٹیں لیتا رہا کہ کیا واقعی کوئی شخص کسی کے غم یا پریشانی سے اٹھنے والے درد اور اس درد کی ٹیس کی شدت کو محسوس کر سکتا ہے جس سے غمزدہ شخص کو کوئی راحت مل سکتی۔ میری عقل و دانش کے مطابق ایسا قطعی ممکن نہیں ہاں ایک بات ضرور ہے کہ دنیا میں بہت سی پریشانیوں اور غم و اندوہ کا حل روپے پیسے کی دستیابی میں چھپا ہوا ہے ایسے میں اگر کوئی مخلص دوست ،عزیز یا رشتے دار آگے آکر مددگار بنتا ہے تو غمزدہ شخص کی کسی حد تک راحت رسانی ممکن ہے لیکن وہ معاملاتِ غم جن میں روپے پیسے کی کوئی اہمیت ہی نہیں ان میں غمزدہ کے تکلیف،ٹیس اور احساس درد کے لیے الفاظ کا استعمال محض بے جان اشکال کی با ترتیب ادائیگی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اب اگر اسی موضوع کو اپنی وادی سے جوڑا جائے تو اک منفرد معاملے سے واسطہ پڑجاتا ہے دنیا کے جغرافیائی نقشے میں وادی کشمیر ایک ایسا خطہ ہے جو اس کے بے نظیر حسن کی وجہ سے چہار دانگ شہرت کا حامل ہے یہاں کا رہن سہن تہذیب و تمدن زبان اور رسومات بھی باقی ساری دنیا سے ایک دم مختلف ہیں یہاں کے سماج کے تقریباً ہر معاملے میں مروجہ رسوم انسانی زندگی کو اجیرن تو بنا ہی دیتے ہیں مگر شادی بیاہ کے معاملات میں ہر گزرتے دن کے ساتھ ایسے رسوم جنم لیتے رہتے ہیں کہ انسان کا انسانیت سے بھروسہ اٹھ جاتا ہے۔اسی موضوع کے ساتھ جڑے ایک رسم کا ذکر کرنا اس موقعے پر مناسب ہوگا۔جب یہاں لڑکے اور لڑکی کو ازدواجی رشتے میں باندھنے کی شروعات ہوتی ہے تو لڑکی والوں پر الٹے سیدھے ایسے رسومات کی پابندی جزلاینفک کی طرح لازم آجاتی ہے جن کے خرچے پر قارون کے خزانے کی دولت بھی کم پڑے گی ان ہی رسومات میں سے ایک رسم یہ بھی ہے کہ اگر لڑکے کا کوئی قریبی رشتے دار جیسے ماں باپ بھائی بہن یا اور کوئی خونی رشتے دار داعی اجل کو لبیک کہتا ہے تو لڑکی والوں کو ان کے ہونے والے داماد کا غم سہنے کی طاقت میں مدد مہیا کرنی پڑتی ہے اور یہ ” ہمت و طاقت” اسے یعنی داماد جی کو کسی سونے کے گہنے کی صورت میں تحفے سے ہی آجاتی ہے۔کتنی بے تکی فضول بے ہنگم بکواس اور بے غیرتوں والی مہنگی رسم بد ہےمیرے ہم وطنو کیا آپ کے ذہنوں میں اس رسم بد کی شکل ابھر آئی اگر نہیں تو میں یاد دلاتا ہوں اسے ہماری زبان میں “” دوکھ تولہ ونی۔۔۔۔ کہتے ہی ۔کچھ دن پہلے میرے حیرت اور استعجاب نے اس وقت تمام حدیں پھلانگ دیں جب مہرے رشتے میں ایک 75 سالہ شخص کی اہلیہ کے وفات پر مرحومہ کے میکے والوں کو رسم مزکورہ کو نبھانا پڑا ‘کیسا لگتا ہے !!!! پڑھنے والو شرم سے سر جھکایا کہ نہیں۔؟ ہمارے سماج کی ایک اور بات نرالی ہے جب کبھی کسی موقعے پر خواتین و حضرات کی محفلیں سجتی ہیں تو باتوں باتوں میں سب لوگ “”دوکھ تولہ ونی”” جیسے رسومات بد کو جی بھر کے کوستےہیں، مگر اپنی باری پر سبھی لوگ مجرمانہ طور پر اندھے بہرے اور گونگے بن جاتے ہیں اور پوچھے جانے پر کھسیانی ہنسی کی اوٹ میں اپنی کمزوری کا اظہار کرنے میں اپنی عافیت سمجھتے ہیں۔بحث و تمحیص کے اوقات پر سب لوگ میرا مطلب ہے مرد و زن اس بات پر متفق ہو جاتے ہیں کہ ہر نئی رسم کی ایجاد میں صرف اور صرف عورت ہی سب سے بڑا کردار ادا کرتی ہے میرا یقین ہے کہ آپ بھی اس بات کو مانتے ہیں اور میں بھی اس سے اتفاق کرتا ہوں۔اس مرحلے پر ایک حقیقت قابلِ توجہ ہے کہ ہر نئی رسم کی ایجاد کے لیے پیسہ بہت اہم چیز ہے اور ہمارے سماج میں پیسے کے معاملے میں زیادہ تر عورت مرد کے سامنے دست دراز ہی رہتی تو کیا وجہ ہے کہ عورت کے ہاتھوں معرضِ وجود میں آنے والے رسومات بد کا قلع قمع نہیں کیا جا سکتا۔ مجھے لگتا ہے کہ اصل بات کچھ اور ہے یعنی اس سلسلے میں صرف خواتین کو قصوروار ٹھہرا نا سراسر نا انصافی ہے سچ تو یہ ہے کہ پیسے والے حضرات رسومات بد کی ایجاد کے لیے عورت کی ہاں میں ہاں ملا کر اپنی آسودہ حالی کا ڈھنڈورا پیٹنے کا کام بخوبی انجام دے پاتے ہیں یوں یہ ساری کی ساری زمہ داری مردوں پر ہی آجاتی ہے اگر مرد چاہے تو وہ کیا نہیں کر سکتا مگر کچھ بھی کر گزرنے کے لیے ہمت مرداں بھی چاہیے لیکن بد قسمتی سے یہی چیز ہمارے سماج میں کم یاب ہے کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس سماج کے سبھی حضرات آسودہ حال بطورِ خاص غریب لوگوں پر ترس کھا کر اپنی دولت کی نمائش کے طریقوں سے اجتناب کرتے تو شاید اس سماج میں بدلاؤ آجاتا۔رسومات بد کی ایجاد میں ایک اور محرک کو ذمہ دار ٹھہرایا جاسکتا ہے وہ یہ کہ اگر کسی دولتمند شخص کے ہاں صرف ایک اولاد ہو تو وہ اپنی اکلوتی اولاد کی شادی خانہ آبادی کو کچھ اس انداز سے انجام دینا چاہتا ہے جسے زمانہ یاد کرے یوں ایسے صاحب ثروت حضرات نت نئے رسومات بد کے موجد بن جاتے ہیں مجھے یقین ہے کہ قارئین حضرات میرے اس مضمون کو پڑھیں گے تو ضرور مگر جب انہھیں ایسے حالات سے واسطہ پڑے گا تو وہ کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچیں گے.
