مسجد شریف ، مدرسہ ، بیت المال دفتر اورتین مکانات خاکستر ، 4 افراد زخمی
سرینگر//شہر خاص کے گنجان آبادی والے علاقے عقلمیر خانیار میں آتشزدگی کی بھیانک واردات کے دوران تین مکانات ، مسجد شریف، مدرسہ ، بیت المال دفترخاکستر ہوئے جبکہ کئی دکانوں کوبھی نقصان پہنچا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ آگ بجھانے کی کارروائی کے دوران تین فائر مینوں سمیت 4افراد زخمی ہوئے ۔ فائر اینڈ ایمرجنسی کی دس گاڑیوں کے بدولت آگ پر قابو پایا گیا۔ ادھر مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ علاقے میں پانی کیلئے مخصوص آب گھر بنائے گئے ہیں لیکن جونہی اُس کا استعمال کرنا چاہا تو اُس سے پانی نہیں نکلا ۔ یو پی آئی کے مطابق پائین شہر کے گنجان آبادی والے علاقے عقلمیر خانیار میں منگل کے روز گیارہ بجے کے قریب آگ نمودار ہوئی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے مسجد شریف ، مدرسہ ، بیت المال کے دفتر سمیت کئی ڈھانچوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ نمائندے کے مطابق گنجان آبادی ہونے کے باعث آگ چند سیکنڈوں کے اندرا ندر ہی پھیل گئی جس وجہ سے پورے علاقے میں خوف ودہشت کا ماحول قائم ہوا اور لوگ اپنی جانوں کو بچانے کی خاطر اِدھر اُدھر بھاگنے لگے ۔ نمائندے نے بتایا کہ مقامی لوگوں نے اس حوالے سے فائر اینڈ ایمرجنسی محکمہ کو آگاہی فراہم کی جس دوران وہ جائے موقع پر پہنچے لیکن آگ اس قدر بھیانک تھی کہ ایک درجن گاڑیوں کو آگ پر قابو پانے کیلئے طلب کرنا پڑا۔ آگ کی اس بھیانک واردات کے دوران مسجد شریف ، مدرسہ ، بیت المال دفتر ، تین مکانات مکمل طور پر خاکستر ہوئے جبکہ کئی دکانوں کو بھی نقصان پہنچا۔ نمائندے نے بتایا کہ آگ بجھانے کی کارروائی کے دوران تین فائر مینوں سمیت چار افراد زخمی ہوئے جنہیں ابتدائی مرہم پٹی کے بعد گھر جانے کی اجازت دی گئی ۔ ادھر مقامی لوگوں نے بتایا کہ زیارت دستگیر صاحب ؒ میں کئی برس قبل آگ کی واردات رونما ہونے کے بعد انتظامیہ نے علاقے میں آب گھر بنائے اور جونہی آج اُس کی ضرورت پڑی تو اُس میں پانی ہی نہیں تھا جس وجہ سے آگ نے اس قدر شدت اختیار کی۔ خبر رساں ایجنسی نے جب یہ معاملہ فائر اینڈ ایمرجنسی کے عہدیداروں کے ساتھ اُٹھایا تو انہوںنے بتایا کہ اس کا جواب محکمہ جل شکتی کے آفیسران ہی دے سکتے ہیں فائر اینڈ ایمرجنسی کا اس میں کوئی رول نہیں بنتا لہذا آپ جل شکتی محکمہ کو ہی اس بارے میں سوال کرسکتے ہیں۔ یو پی آئی نے اس ضمن میں جب ڈپٹی ڈائریکٹر فائر اینڈ ایمرجنسی بشیر احمد کے ساتھ رابط قائم کیا تو انہوںنے کہاکہ خانیار میں بھیانک آتشزدگی کے دوران فائر مینوں کمال ِ جرائت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگ کو مزید پھیلنے سے روک دیا ۔ انہوںنے کہا کہ آگ کی اس واردات کے دوران تین فائر مین بھی زخمی ہوئے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ آگ لگنے کی وجوہات جاننے کی خاطر کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی گئی ہے۔ انہوںنے کہا کہ جونہی آ گ نمودار ہوئی تو پانچ منٹ کے اندرا ندر ہی فائر اینڈ ایمرجنسی کے اہلکار جائے موقع پر پہنچے اور آگ بجھانے کی کارروائی شروع کی اس دوران دوسرے فائر ٹینڈر بھی پہنچے اور انتھک کوشش کے بعد آگ پر قابو پایا گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ تنگ گلیوں کے باوجود بھی فائر اینڈ ایمرجنسی اہلکاروں نے اپنی جانوں کی پرواہ کئے گئے بغیر آگ کو مزید پھیلنے سے روک دیا۔
