شہر سرینگر ، سوپور سمیت وادی کے دیگر علاقوں میں سخت ترین بندشیں ، حیدر پور مکمل طور پر سیل ،آبادی گھروں میں محصور
سرینگر/02ستمبر/سی این آئی //کڑے سیکورٹی انتظامات اور سخت ترین بندشوں کے بیچ سید علیٰ شاہ گیلانی کو حیدر پورہ سرینگر میں رہائش گاہ کے قریب واقع مقبرے میں سپرد خاک کیا گیا ۔ ادھر سید علی شاہ گیلانی کے انتقال کے پیش نظر سرینگر سمیت وادی کئی علاقوں میں سخت ترین بندشوں کا نفاذ عمل میں رہا ۔ شہر سرینگر اوردیگر اضلاع میں بندشوں کے باعث ہر سو سناٹے کا عالم دیکھنے کو ملا اور آبادی گھروں میں ہی محصور رہے ۔ امن و امان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کیلئے حساس مقامات پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے جبکہ شہر سرینگر کے تمام داخلی و خارجی راستوں کو خار دار تاروں سے سیل کر دیا گیا تھا ۔ بندشوں کے باعث بازاروںمیں ویرانی چھائی ہو ئی تھی جبکہ سڑکوں پر ہوا کا عالم دیکھنے کو ملا ۔اسی دوران موصلاتی نظام بھی مکمل طور پر ٹھپ رہا ، کالنگ سروس کے ساتھ ساتھ انٹر نیٹ خدمات بھی مکمل طور پر بند رہی ۔ سی این آئی کے مطابق سید علی شاہ گیلانی طویل علالت کے بعد بدھ کی رات دیر گئے قریب 10بجکر 30منٹ پر رحمت آباد حیدر پورہ سرینگر کی رہائش گاہ پر داعی اجل کو لبیک کہہ گئے ۔ سید علی شاہ گیلانی کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی وادی کشمیر میں سراسمیگی پھیل گئی جس کے بعد انتظامیہ متحرک ہوئی اور کسی بھی امکانی گڑ ھ بڑھ سے نمٹنے کیلئے سیکورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ۔ دوران شب سے ہی شہر سرینگر سمیت وادی کے دیگر اضلاع میں بندشوں کا نفاذ عمل میںلایا گیا جبکہ رات دیر گئے ہی سید علی شاہ گیلانی کی رہائش گاہ رحمت آباد حیدر پورہ کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا اور وہاں کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیںدی گئی ۔ اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ سید علی شاہ گیلانی کو گھر کے کچھ افراد اور رشتہ داروں کی موجودگی میں جمعرات کی اعلیٰ صبح رہائش گاہ کے قریب واقع مقبرے میں سپرد خاک کیا گیا ۔ ادھر سید علی شاہ گیلانی کے انتقال کے ساتھ ہی جمعرات کو شہر سرینگر سمیت وادی کے دیگر اضلاع میںسخت تر ین بندشوںکا نفاذ عمل میں لایا گیا تھا جس کے باعث آبادی گھروں میں ہی محصور ہو کر رہ گئی ۔ خیال رہے کہ آئی جی پی کشمیر وجے کمار نے بدھ کے شام ہی اس بات کو واضح کر دیا تھا کہ جمعرات کو وادی کے تمام علاقوں میں بندشیںعائد رہیے گی اور رشتہ داروں و گھروالوںکے علاوہ کسی کو بھی سید علی شاہ گیلانی کے نماز جنازہ میں شرکت کرنے کی اجازت نہیںہو گی ۔ جس کے چلتے جمعرات کی صبح سے ہی شہر سرینگر کے بیشتر علاقوں میں سخت ترین بندشوں کا نفاذ عمل میں رہا جبکہ سید علی شاہ گیلانی کی رہائش گاہ واقع حیدر پورہ کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا تھا اور کسی کو بھی آنے یا جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی ۔ بندشوں کے نتیجے میں شہر خاص کے حساس علاقوں میں اہم سڑکوں اور چوراہوں کو خار دار تاروں سے سیل کر دیا گیا جبکہ گاڑیوں کی اوجاہی پر مکمل روک دی گئی تھی ۔ سٹی رپورٹر کے مطابق سرینگر کے متعدد علاقوں میں صبح ہی سخت ترین بندشیں عمل میں لائی گئی تھی جس دوران شہر میں جابجا سڑکوں کو سیل کردیا گیا تھا اور پولیس اور سی آر پی ایف کے اضافی دستوں کو تعینات کیا گیا تھا جس دوران پبلک ٹرانسپورٹ کو چلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔شہر میں داخل ہونے والے راستوں کو صبح سے ہی سیل کردیا گیا تھا اور شہر کی طرف آنے والی گاڑیوں کو روک دیا گیا۔شہر میںلوگوں کے چلنے پھرنے پر کوئی پابندی عائد نہیں تھی۔شہر کے سول لائنز ،پائین شہر اور دیگر علاقوں میں پولیس اور فورسز نے سڑکوں اور چوراہوں پر خار دار تار نصب کی تھی اور گاڑیوں کو روکا جارہا تھا۔شہر میں دن بھر بازار بندرہے اور سڑکیں بھی سنسان نظر آرہی تھیں۔ادھر پلوامہ سے بھی نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ پلوامہ ، ترال ، اونتی پورہ اور پانپور کے ساتھ ساتھ دیگر اضلاع میںبندشوں کا نفاذ سختی سے جاری رہا جس کے نتیجے میں زندگی کی رفتار تھم گئی ۔نمائندے کے مطابق مین قصبہ پلوامہ اور دیگر علاقوں میں تمام تجارتی و کارو باری سرگرمیاںمتاثر رہی جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حمل بھی غائب رہی ۔ ادھر اننت ناگ سے بھی نمائندے نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ضلع بھر میں سخت ترین بندشیں عائد کر دی گئی تھی جس دوران تجارتی و کارو باری سرگرمیاں بند رہی جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حمل بھی غائب رہی ۔ نمائندے کے مطابق ضلع کے بیشتر مقامات اور اہم راستوں کو سیل کر دیا گیا تھا اور کسی کو بھی آنے یا جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی تاہم پیدل چلنے والوں پر کوئی پابندی نہیں تھی ۔ ادھربڈگام، بارہمولہ ، کولگام ، کپواڑہ اور گاندربل کے علاوہ شوپیان ضلع سے بھی نمائندوںنے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ بندشوں پر ان اضلاع میں بھی معمول کی زندگی مکمل طور پر معطل ہو کر رہ گئی جس دوران تمام تجارتی و کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہو کر رہ گئی ۔اسی دوران وادی کشمیر کا مواصلاتی نظام بھی مکمل طور پر ٹھپ ہو کر رہ گیا جس کے نتیجے میں وادی کا رابطہ بیرون دنیا سے منقطع رہا ۔ اگرچہ دوران شب سے ہی وادی کشمیر میںموبائیل انٹر نیٹ خدمات معطل کر دی گئی تھی تاہم جمعرات کی صبح سے ہی بی ایس این ایل کو چھوڑ کر دیگر تمام مواصلاتی کمپنیوں کے موبائیل فونوں پر کالنگ سہولیات بھی معطل رہی جس کے نتیجے میں رابطہ مکمل طور پر منقطع رہا ۔
