83

کریری بارہمولہ میں سرپنچ کے گھر پر گرینیڈ حملے کا معمہ حل

لشکر کے چار بالائے زمین کارکن گرفتار ، دو گرینیڈ اور منشیات بھی بر آمد / پولیس

 

شبروز ملک//کریری بارہمولہ میں سرپنچ کے گھر پر گرینیڈ حملے کے کیس کو حل کرتے ہوئے بارہمولہ پولیس نے لشکر طیبہ کے چار بالائے زمین کارکنوںکی گرفتاری عمل میںلائی ۔ پولیس ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ 22 اگست کو پولیس اسٹیشن کریری کو ایک ٹیلی فون کال موصول ہوئی جس میںکہا گیا کہ شر کا واری کریری میں ایک دھماکے کی آواز سنائی دی گئی جس کے بعد بارہمولہ پولیس ، 52 آر آر ، اور 176 بٹالین سے وابستہ سی آر پی ایف کی مشترکہ پارٹی علاقے میں پہنچ گئی جس دوران یہ بات سامنے آئی کہ سرپنچ نریندر کور زوجہ دلجیت سنگھ کی حفاظت پر تعینات گارڈ روم کو نشانہ بنا کر نا معلوم افراد نے گرینیڈ پھنکا جس کے نتیجے میں کھڑکیوں او شیشوں کے علاوہ وہاں موجود ایک ماروتی کار کو نقصان پہنچ گیا ۔ پولیس کے مطابق معاملے کی نسبت متعلقہ دفعات کے تحت ایک کیس پولیس اسٹیشن کریری بارہمولہ میںدرج کر لی گئی اور اس کی تحقیقات شروع کر دی گئی ۔ پولیس نے بتایا کہ کیس کی تحقیقات کیلئے سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر آلات کا استعمال کرکے کچھ مشتبہ افراد کو پوچھ تاچھ کیلئے طلب کر لیا گیا اور دوران تفتیش یہ بات سامنے آئی کہ محمد سلیم خان ولد غلام حسن خان نئی کالونی شراکورہ اور سجاد احمد میر مرحوم میر محلہ سلوسہ کے علی محمد میر گرینیڈ حملے میںملوث ہے جس دوران ان کی گرفتاری عمل میںلائی گئی پولیس نے بتایا کہ ان کی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ دونوں لشکر طیبہ کے بالائے زمین کارکنوں کے طور پر کام کر رہے تھے جو کہ پاکستان میں مقیم لشکر طیبہ کے ایک ہینڈلر اور اس کے آف شوٹ ٹی آر ایف علی بھائی کے کہنے پر کام کرتے تھے ۔ پولیس نے مزید بتایا کہ دونوں ملزمان منشیات کے عادی ہیں اور وہ لشکر جنگجو ہلال شیخ اور عثمان (غیر ملکی) کے ساتھ رابطے میں تھے جن کی ہدایات پر انہوں نے بٹہ مالو سرینگر سے گرینیڈ حاصل کیا۔دو دیگر ساتھیوں بلال احمد شیخ ولد محمد مقبول شیخ آف سیلو اور نصیر احمد ڈار ولد عبدالمجید ڈار آف نجیبھاٹ نے ان کی مدد کی جنہیں بھی گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ ملزمان سے دو دستی بم اور 100 گرام چرس نما مادہ برآمد ہوا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں