افغانستان کی تازہ صورتحال پر نئی دلی میں کُل جماعتی میٹنگ 89

افغانستان کی تازہ صورتحال پر نئی دلی میں کُل جماعتی میٹنگ

جموں وکشمیر پر منفی اثرات روکنے کیلئے 5اگست 2019کے فیصلوں کی منسوخی لازمی
لوگوں کے جذبات اور احساسات کو سنجیدگی سے لینا وقت کی اہم ضرورت/حسنین مسعودی
سرینگر/26اگست/سی این آئی// افغانستان میں طالبان کے برسراقتدار میں آنے کے بعد خطے میں پیدا شدہ صورتحال اور جموں وکشمیر پر پڑنے والے منفی اثرات کے خدشات اُسی صورت میں دور ہوسکتے ہیں جب جموں وکشمیر کے حاصل آئینی اور جمہوری حقوق بحال کئے جائیں گے اور لوگوں کے احساسات و جذبات کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ سی این آئی کے مطابق ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے آج وزارتِ داخلہ کی طرف سے نئی دلی میں افغانستان کی صورتحال پر بلائے گئے کُل جماعت اجلاس میں اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کیا۔ مسعودی نے کہا کہ مرکز کی افغانستان کو لیکر ’’حالات و واقعات کا رُخ دیکھنا اور کوئی فوری اقدام نہ کرنے کی پالیسی‘‘ اپنی جگہ صحیح ہوسکتی ہے لیکن کشمیر سے متعلق فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کو 5اگست2019کے فیصلوں پر منسوخ کیا جائے اور لوگوں کا اعتماد اور بھروسہ بحال کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہئے۔ اندرونی انتشار اور خلفشار سے باہری طاقتیں اپنا ایجنڈا چلاسکتی ہیں۔ البتہ اگر ہمار ے اپنے لوگ خوش اور مطمئن ہونگے اور داخلی حالات ٹھیک ہونگے تو باہر سے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ مرکزی حکومت جموں وکشمیر سے متعلق اپنی پالیسی میں تبدیلی لائے اور جموں وکشمیر کے عوام کے آئینی اور جمہوری حقوق بحال کریں۔اجلاس میں دیگر کئی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے بھی افغانستان میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد جموں وکشمیر پر پڑنے اثرات کے بارے میں اپنے خدشات ظاہر کئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں