کاش ایسے بھی مراحل سے وہ گزرے ہوتے 80

غزل‎

کلام :منظر زیدی

اس طرح شامل ہوئے ان درد کے ماروں میں ہم
اک نیا موضوع گویا بن گئے یاروں میں ہم
موت کی آغوش میں بھی زندگی لیتی ہے سانس
غم نہیں گر گھر گئے کووڈ کے بیماروں میں ہم
آج کل تو سانس لینا بھی یہاں دشوار ہے
آؤ چل کر گھر بنائیں چاند یا تاروں میں ہم
اس قدر بگڑی معیشت بِک سکا نہ سارے دن
لے کے اپنا دل گئے تھے آج بازاروں میں ہم
ان کی ہم محفل سے آئے آج کورونا کے ساتھ
اب تلک شامل نہیں تھے ایسے بیماروں میں ہم
ہر طرف کہرام ہے یہ سوچکر اس خوف سے
دیر تک بہتے ریے جزبات کے دھاروں میں ہم
نفرتیں فرقہ پرستی اور بد عنوانیاں
کب تلک منظر جیئں گے ان گنت خاروں میں ہم
منظر زیدی
سول انجینئر ۔۔۔۔لکھنو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں