گزشتہ شب گلشن کلچرل فورم کشمیراور لسہ خان فدا فاؤنڈیشن نے مشترکہ طور سلسلہ قادریہ وفاضلی کے معروف صوفی بزرگ اور شاعر خان غلام نبی ابن فدا کے سترویں یوم وصال کے سلسلے میں ایک پر وقار ادبی تقریب مرحوم کے آستان عالیہ واقعہ لال چوک اسلام آباد میں منعقدکی۔ تقریب پر بحثیت مہمان خصوصی سرکردہ محقق، ادیب، شاعر اور لسہ خان فدا فاؤنڈیشن کے چیرمین پروفیسر گلشن مجید موجود تھے۔ معروف ادیب اور شاعر گلشن بدرنی اور خورشید خاموش نے ابن فدا کے شاعرانہ اسلوب پر مقالے پیش کیے۔ جبکہ سرکردہ مبلغ اور شاعر عبدالاحد شہباز نے تصوف اور اسلامی تعلیمات عنوان کے تحت سیر حاصل خطبہ پیش کیا۔ پروفیسر گلشن مجید نے اپنے صدارتی خطبے میں تصوف اور اسلامی نظریات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تصوف محظ راہ سلوک کے مسافروں کا نصب العین نہیں بلکہ دنیوی زندگی کا دستور درست کرنے کابھی نام ہے۔ جو دونوں جہاں یعنی دنیا اور آخرت کو سجانے اور سنوارنے کی روشن مشعال ہے۔ تقریب کی شروعات تلاوت کلام پاک سے ہوئی۔ تلاوت کلام پاک کی سعادت فاروق احمد نے جبکہ نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پیش کرنے کی سعادت ریاض احمد (چاڈورہ) نے حاصل کی۔ مقامی میزبان منظور احمد پشو نے شکرانے کی تحریک کے دوران اس صوفیانہ مشن کو مزید تقویت دینے پر زور دیا۔ تقریب کے دوران نعت ومناقب پیش کیۓ گیۓ۔ جبکہ محفل سماع تقریب کا ایک اہم پہلو رہا۔ معروف گلو کار غلام محمد بلبل اور انکے ساتھیوں نے پر کیف سماع باندھا۔ تقریب میں دیگر لوگوں کے علاوہ محمد اشرف چاڈورہ، غلام محی الدین موہند، نذیر احمدشیخ، امتیاض احمد، شوکت احمد، گلزار احمد وغیرہ شامل تھے۔
مدعو حاضرین نے گلشن کلچرل فورم کشمیر اور لسہ خان فدا فاؤنڈیشن کی اس کوشش کوکافی سراہا۔
(ادریس بدرنی)
میڈیا سیکریٹری
گلشن کلچرل فورم کشمیر
9419007979
