ڈاکٹر ستیش ومل کی شعری کائنات ایک تجزیاتی مطالعہ 0

ڈاکٹر ستیش ومل کی شعری کائنات ایک تجزیاتی مطالعہ

پرویز مانوس

اردو شاعری کی تاریخ ہمیشہ سے اس بات کی گواہ رہی ہے کہ نئی نسل کے باصلاحیت شعرا نے وقتاً فوقتاً اپنے عہد کے فکری، سماجی اور جمالیاتی مسائل کو نہ صرف بیان کیا بلکہ انہیں نئے زاویوں سے سمجھنے کی کوشش بھی کی۔ ہر عہد کے بڑے شاعر کی پہچان یہ رہی ہے کہ وہ اپنی انفرادیت کو قائم رکھتے ہوئے روایت سے جڑا اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ رہا۔ جموں و کشمیر کی زرخیز سرزمین نے اردو ادب کو ایسے کئی گراں قدر شعرا عطا کیے ہیں جنہوں نے کم عمری میں ہی اپنی تخلیقات کے ذریعے ادبی حلقوں میں گہری چھاپ چھوڑی۔ انہی نمایاں ناموں میں ایک توجہ طلب شاعر ڈاکٹر ستیش ومل بھی ہے- اُن سے میرا تعارف تقریباً بیس برس پہلے ہوا جب میں نے ڈایکٹریٹ آف انفارمیشن سے نکلنے والے رسالے “تعمیر” میں اُن کی چند نظمیں پڑھی تھیں پھر رفتہ رفتہ اُن بھی ملاقات ہوئی -انہیں قریب سے جاننے اورپڑھنے کا موقعہ ملا تو میں نے یہ پایا کہ وہ ایک درویشانہ طبیعت کے مخلص شخص ہیں انکساری اُن کی فطرت میں ہے ، جس کا آج کل سماج میں کافی فقدان پایا جاتا ہے – کافی عرصہ پہلے انہوں نے مجھے اپنا تازہ شعری مجموعہ برائے مطالعہ دیا تھا اس مجموعہ کو پڑھ کر مجھے احساس ہوا کہ اتنی اچھی شاعری پڑھنے کے بعد حق ادائی لازمی ہے سو آج اس پر کچھ لکھنے کی کوشش کرنے لگا-
ڈاکٹر ستیش ومل نے اپنے تازہ شعری مجموعے بانسری شاخوں پر” کے ذریعے نہ صرف ادبی ذوق رکھنے والوں کو متاثر کیا ہے بلکہ اپنے عہد کی فکری جہات کو ایک نئی سمت بھی دی ہے۔
ڈاکٹر ستیش ومل کی شاعری بظاہر سادہ اسلوب اور سلیس زبان میں ڈھلی ہوئی ہے لیکن اس کے پس منظر میں ایک گہرا فکری شعور اور سماجی تجربہ کارفرما ہے۔ ان کے کلام میں فرد کی داخلی کائنات اور کائناتی وسعتوں کے درمیان ایک مسلسل مکالمہ ملتا ہے۔ وہ دل کی چھوٹی سی مٹھی کو کائنات کی وسعتوں کے برابر قرار دیتے ہیں اور ضمیر کی بوسیدگی پر گہرا دکھ بھی ظاہر کرتے ہیں۔

یوں تو ہے دل انسان کا مُٹھی کے برابر
کُھل جائے تو آفاق کی وسعت بھی بہت کم
بوسیدہ ہمارے ہیں ضمیروں کے مکانات
کرتے ہیں اثر سنگِ ملامت بھی بہت کم
ستیش ومل کی شاعری کے تعلق سے پروین کمار اشک رقمطراز ہیں ” جس طرح میرے لئے شاعری فقیری کا تبرک ہے-اسی طرح ستیش بھائی کے لئے بھی -اس چھوٹے پیر کے شعر تسبیح پر کمائے ہوئے وظیفے کی طرح روح میں اُتر جاتے ہیں -کشمیر کے اس صوفی روایت کے امین کا عشق کبھی بابا فرید تو کبھی بُلے شاہ کی گنگناہٹ میں شامل ہوجاتا ہے تو کبھی رحیم اور کبیر کی چوکھٹ پر گونجتا سُنائی دیتا ہے-ستیش کو پڑھنا سفر کی دلیل ہے جبکہ سُننا پڑاؤ پر رُکنا-”
اس طرح کے تاثرات پڑھ کر قاری کا یقین اور بھی پُختہ ہوجاتا ہے کہ ان کے اشعار محض جذباتی اظہار نہیں بلکہ ایک سنجیدہ فکری جستجو کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔
ان کی شاعری کا ایک اہم پہلو مزاحمتی رویہ ہے۔ وہ اپنے عہد کے سماجی اور سیاسی مسائل پر خاموش نہیں رہتے بلکہ اپنی شاعری کے ذریعے فرقہ واریت، ناانصافی کے خلاف کھل کر آواز بلند کرتے ہیں۔ یہ احتجاجی لب و لہجہ ان کی غزلوں اور نظموں دونوں میں یکساں شدت کے ساتھ موجود ہے۔ اسی لیے ان کے اشعار میں خونِ جگر کی حدت اور عملی جدوجہد کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔
گھیر کر کاٹ دئیے جائیں گے بازو میرے
اور جعفر کی طرح پَر جو نکل آئیں گے تو
ایک سر آپ کے خواہش کا اُتارا تو کیا
اور راون کے کئی سر جو نکل آئیں گے تو
تاہم یہ کہنا بھی درست ہوگا کہ ستیش ومل محض مزاحمتی شاعر نہیں ہیں۔ ان کے ہاں عشق و محبت کی لطافت، فطرت کی دلکشی اور رومانوی احساسات کی جلوہ گری بھی پائی جاتی ہے۔ وہ کبھی بارش کی بھیگی رات اور کوئل کی فریاد کو شعری پیکر عطا کرتے ہیں تو کبھی محبوب کے خال و خد کو رنگوں کی زبان میں بیان کرتے ہیں۔ اس طرح ان کی شاعری فکری اور رومانوی دونوں جہات کو ساتھ لے کر چلتی ہے۔
بھیگی رات میں کوئل کی فریاد سُنوں
آج گھٹا کے رنگ بہت ہی گہرے ہیں
تیرے خال و خد کو پہچانوں میں
تیرے عکس کے سارے رنگ سُنہرے ہیں
صورت کسی صورت وہ دکھائے اُسے کہنا
غم اپنے مگر ساتھ نہ لائے اُسے کہنا
پیکرِ شعر می ڈھل جاتا ہے اُس کا چہرہ
تیرے احساس کو وہ رنگِ غزل دیتا ہے
وہ ایک چہرہ کہیں جو بچھڑا، رہا ہے دل کے قریب اکثر
لگے ہے کیوں ایسا دھڑکنوں کو، وہ پھر سے نزدیک آرہا ہے
ڈاکٹر ستیش ومل کے کلام میں مزدوروں اور عام انسانوں کے مسائل بھی بڑی ہمدردی کے ساتھ اجاگر کیے گئے ہیں۔ وہ مزدور کی تھکن، جدوجہد اور خوابوں کو ایسے شعری پیکروں میں ڈھالتے ہیں جو قاری کے دل پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس طرح وہ محض فرد کے شاعر نہیں بلکہ عوامی شعور کے بھی ترجمان ہیں۔
تھکا ہوا مزدور بےچارہ، جاگ سے عاجز نیند طلب
دن اور رات بدلتے رہتے، اک جیسے ہیں پر حالات
تم ہلکے سے چھو لیتے ہو، درد کے پربت بہہ جاتے ہیں
تیرے ہاتھ یہ کیسے آئے بولو جادو کے آلات
پھروہ یہ بھی کہتے ہیں :
پتھر تراش لینے کا گر ہے تجھے ہُنر
موقوف زندگی ہے تیری آئینوں پہ کیوں
کیا چاہتے ہیں سر کے بنا لوگ اب رہیں
خنجر بکف ہوا ہے زمانہ سروں پہ کیوں
یہ دونوں اشعار بھی ستیش ومل کی فکر کی تیزی اور ان کے باغیانہ لہجے کا مظہر ہیں۔
یہ اشعار تخلیقی آزادی اور انسانی وقار کے تحفظ کی بھرپور علامت ہیں، جن میں مزاحمت اور سوال اٹھانے کا جذبہ نمایاں ہے –
ادبی اعتبار سے ستیش ومل کا شعری کینوس متنوع ہے۔ وہ غزل، نظم اور چہار مصرعے جیسی اصناف میں اپنی مہارت کا لوہا منوا چکے ہیں۔ یہ اصناف مختلف تقاضوں کی حامل ہیں، لیکن ستیش ومل ہر صنف میں اپنی پہچان قائم کرنے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ ان کی غزلیں کلاسیکی روایت سے جڑی ہوئی ہیں مگر ان میں عصری حسیت اور نیا لہجہ بھی جھلکتا ہے۔ ان کی نظمیں داخلی کرب اور خارجی حالات کا بیانیہ معلوم ہوتی ہیں، جبکہ چہار مصرعے ان کے تخلیقی کمال کا ایک انوکھا پہلو اجاگر کرتے ہیں اُن کے لکھے ہوئے یہ چہار مصرعے دیکھیں :
دل کی بے تاب کسک روح کی خوشبو جیسے
پھول کے گالوں پہ بہتا ہوا آنسو جیسے
تیرے موتی کی طرح شاعری جادو جیسے
دوڑتا اپنے تخیل کا ہے آہو جیسے
فنی اعتبار سے ستیش ومل کی شاعری میں کلاسیکی اور جدید دونوں رنگ جھلکتے ہیں۔۔ ان کی زبان صاف، رواں اور بامحاورہ ہے جبکہ استعارے اور علامتیں قاری کو ایک تخلیقی جہان میں لے جاتی ہیں۔ ’’
تیری اور میری جنوں خیز رفاقت کی قسم
کوئی راحت ہی نہیں وصل کی راحت کے سوا
ہر گھڑی کہتی ہے مجھ سے میرے دل کی دھڑکن
دُکھ نہیں کوئی بھی دُنیا میں محبت کے سوا
ڈاکٹر ستیش ومل کی نظمیہ شاعری ان کے فکری شعور اور داخلی کائنات کی وسعتوں کا بھرپور اظہار ہے۔ ان کی نظمیں محض الفاظ کی ترتیب نہیں بلکہ ایک عہد کے اجتماعی شعور اور ذاتی کیفیات کا گہرا بیان ہیں۔ ومل کی نظموں میں داخلی اضطراب، خارجی جبر اور انسانی وجود کی پیچیدگیوں کو ایک تخلیقی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ وہ کبھی فرد کی تنہائی اور محرومیوں کو موضوع بناتے ہیں تو کبھی سماج کے اجتماعی دکھوں اور ناانصافیوں کو اپنی نظم کے پیکر میں ڈھالتے ہیں۔ ان کی نظموں میں علامتی اور استعاراتی اظہار کے ساتھ ساتھ بیانیہ اور مکالماتی طرز بھی ملتا ہے جو قاری کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔ ’’ گلاب ‘‘، ’’ ہر مزاں ‘‘ ’’ خروب‘‘”سچ” “رشتہ””بیچ میں آیا ہوا آدمی “”تھیٹر” جیسی نظمیں ان کے اسلوب کی پختگی اور گہرائی کی عکاس ہیں۔ ان نظموں میں ایک طرف احتجاج اور مزاحمت کا جذبہ ہے تو دوسری طرف جمالیاتی شعور اور تخلیقی توانائی بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ ستیش ومل کی نظمیہ شاعری ان کی ادبی شخصیت کا وہ پہلو ہے جو انہیں محض غزل گو شاعر کے خانے سے نکال کر ایک مکمل اور ہمہ جہت شاعر کے طور پر سامنے لاتا ہے۔
اُن کی نظمیہ شاعری کا تعلق ہے وہ بھی اپنے اندر ایک جہان سمائے ہوئے ہیں دیکھتے ہیں اُن کی یہ حمدیہ نظم :
گونجتی رہ گئی صدا اپنی ہی صدیوں تک
لفظ سُنتے ہی رہے اور سناتے ہی رہے
ہمہ تن گوش رہے اور یوں خاموش ہوئے
حمد تیرا میرے مالک
کہ خموشیبکی میری ملکیت میں
تم نے میرے ساتھ ہی ڈھیرا ڈالا
اُن کی ایک اور خوب صورت نظم “گلاب” ملاحظہ فرمائیں :گلاب صُبح دلدار کی نشانی ہے/گُلاب شام ملاقات کی نشانی ہے/گُلاب نرمئی عارض ہے، گرمئی لب ہے/گُلاب خرمنِ ماہتاب، خندہء شب ہے /گُلاب چہرہ ہمدم چراغِ محفل ہے/گُلاب گوشہء خلوت میں آتسِ دل ہے /گُلاب بیتے ہوئے موسموں کی خوشبو ہے/گُلاب اُڑتی ہوئی ساعتوں کی جگنو ہے/ گلاب لائے گا اُس پیرہن کی بوئے وصال/ چمن چمن میں کسی کا شباب مہکے گا/وہ ابتدائے محبت کا خواب مہکے گا/کہ آج شاخ پر ہے پہلا گُلاب مہکے گا-“بانسری شاخو. پر “میں یہ دو نظمیں بھی اپنی مثال آپ ہیں۔
نظم “رشتہ”
اُن کی نظم ایک علامتی اور وجودی نوعیت رکھتی ہے۔ شاعر نے “رشتہ” کو محض ایک سماجی بندھن کے طور پر نہیں بلکہ ایک روحانی و داخلی تجربے کے طور پر پیش کیا ہے۔ومل اپنے اور دوسرے کے درمیان تعلق کو ہاتھ میں ہاتھ لینے کے استعارے سے شروع کرتا ہیں ۔ مگر یہ ہاتھ تھامنے کا عمل محض قربت نہیں بلکہ ایک امتحان بھی ہے۔ دوسرے کا بلند تر ہونا” اور “خود کا پست ہونا” دراصل انا کے ختم ہونے اور رشتے کے اصل جوہر کو پانے کی طرف اشارہ ہے۔ رشتہ اُس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک اُس میں آزمائش اور جدائی کا پہلو نہ آئے۔
شاعر رشتے کو محض جذباتی تعلق نہیں سمجھتا بلکہ اسے ایک روحانی ارتقاء کا سفر قرار دیتا ہے۔ جب “ہاتھ چھوٹیں گے” تو اصل میں رشتے کی ڈور مانجھا کھائے گی یعنی اُس کی پائیداری اور صداقت پرکھ میں آئے گی۔ یہ سوچ صوفیانہ رنگ بھی رکھتی ہے کیونکہ شاعر نے رشتے کو “درویشی” کے درجے تک پہنچنے کا امکان بتایا ہے۔
اس نظم میں علامتی اور سادہ بیانیہ، چھوٹے جملے، اور تجریدی سطح پر انسانی تعلق کی پرتیں کھولنا۔ زبان رواں، داخلی مکالمے کی صورت۔ دکھانا ستیش ومل کا ہی کمال ہے-
نظم “خروب”
یہ نظم تاریخ، روحانیت اور علامت کا امتزاج ہے۔ شاعر نے اسلامی تاریخ کی ایک جھلک کو موضوع بنایا ہے اور اُس کے ذریعے آج کے انسان کے باطن کو اجاگر کیا ہے۔
نظم کا آغاز “مجرم جنگ تھا / سر کی سزا پانی تھی” سے ہوتا ہے۔ یہاں شاعر نے جنگی قیدی (ہر مزاں) کے واقعے کو بنیاد بنایا ہے، جسے حضرت عمرؓ نے قدردانی کے ساتھ نوازا۔ اس واقعے کو شاعر نے اس طرح برتا کہ وہ محض تاریخی حوالہ نہیں رہا بلکہ انسانی قدروں کی فتح” کا استعارہ بن گیا۔
نظم میں عدل، فیاضی، اور انسانی رشتوں کی عظمت کا بیان ہے۔ ساتھ ہی شاعر نے وقت کی گزرگاہ میں اُس منظر کو دوبارہ زندہ کیا ہے جب ایک پیاسا شخص ریگزار میں اپنے حال کو رسولِ اکرم ﷺ کی بارگاہ کے سامنے پیش کرتا ہے۔ “ابو شمسہ” اور یزدجر کا سپہ سالار” کے حوالے نظم کو تاریخی وسعت دیتے ہیں۔ شاعر نے دراصل یہ باور کرایا ہے کہ طاقت کے مراکز بھی خاک میں مل جاتے ہیں مگر روحانی وابستگی انسان کو ہمیشہ بلند رکھتی ہے۔
نظم میں قصیدہ نما لَے ہے، تاریخی و مذہبی حوالوں سے مزین ہے۔ زبان میں خطیبانہ گھن گرج بھی ہے اور داخلی عجز بھی۔ بیانیہ اس طرح تعمیر کیا گیا ہے کہ قاری ماضی اور حال کو ایک ساتھ محسوس کرے-
ایسی ہی نظمیں پر کر ستیش ومل کے ادبی قد کا اندازہ ہوتا ہے –
زبان و بیان کی سطح پر ستیش ومل سادہ اور براہِ راست اظہار کے قائل ہیں۔ وہ مشکل تراکیب اور لفظی پیچیدگی سے گریز کرتے ہیں تاکہ ان کا پیغام زیادہ سے زیادہ قارئین تک پہنچ سکے۔ مگر اس سادگی کے ساتھ ساتھ ان کے کلام میں گہرے استعارے اور علامتیں بھی ہیں، جو اسے سطحی یا یک رخی نہیں ہونے دیتے۔ ’’تیسرا دریا‘‘، ’’ادھاری زندگی‘‘، ’’چراغ‘‘، ’’اندھیرا‘‘ اور ’’سورج‘‘ “خوشبو”جیسی علامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ان کے اشعار محض الفاظ کی ترتیب نہیں بلکہ فکری اور فلسفیانہ معنویت کے حامل ہیں۔
ان کی شاعری میں ایک اور قابلِ ذکر پہلو وقت اور وجود کی معنویت ہے۔ وہ زندگی کو ادھار کی شکل میں دیکھتے ہیں اور اس کے مختصر ہونے پر زور دیتے ہیں۔ یہ فلسفیانہ رنگ انہیں وجودی شاعروں کی صف میں لے آتا ہے۔ اسی کے ساتھ وہ انسانی بصیرت، ضمیر اور احساسِ جرم جیسے موضوعات کو بھی بلیغ انداز میں بیان کرتے ہیں، جو آج کے قاری کو اپنی ذات کے بارے میں غور کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
ایسے انگنت اشعار اُن کی شاعری کا احاطہ کرنے کے لئے اکساتے ہیں لیکن مضمون کی طوالت اجازت نہیں دیتی کہ ہر شعر پر بات کی جائے، باقی قاری “بانسری شاخوں پر ” پڑھ کر خود ہی ان کی شاعری کو محسوس کرکے میرے مضمون کے ساتھ اتفاق کرسکنے کا حق رکھتا ہے۔
یہ تمام پہلو مل کر ڈاکٹر ستیش ومل کی شاعری کو معاصر اردو ادب میں ایک منفرد مقام عطا کرتے ہیں۔ ان کا تازہ مجموعہ ’’بانسری شاخوں پر‘‘ نہ صرف ایک کہنہ مشق شاعر کے فنی ارتقا کا پتہ دیتا ہے بلکہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ مستقبل قریب میں وہ اردو شاعری کی صفِ اوّل میں جگہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی شاعری جمالیاتی لذت کے ساتھ ساتھ فکری بیداری کا سرچشمہ بھی ہے، یہی خصوصیت انہیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز بناتی ہے۔مستقبل میں اُن کی شاعری نوجوان نسل کے لئے مشعلِ راہ ہوگی اور جون ایلیا کی طرح نئے قلمکار اُن کے۔مصرعوں پر گرہ لگائیں گے ۔مجموعی طور پر اُن کی شاعری دیر پا تاثر چھوڑنے میں کامیاب ہے یہی اُن کی شناخت ہے –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں