اس طر ح کی تقاریب کا مقصدنوجوان نسل کو تخلیقی اظہار کا پلیٹ فارم فراہم کرناہے
سرینگر/۲۹؍ جولائی /جمیل انصاری/جموں اینڈ کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز کے زیر اہتمام ۲۹ جولائی ۲۰۲۵ء کو گورنمنٹ ڈگری کالج سمبل میں کشمیری افسانے کے فن پر ایک روزہ سمپوزیم کا انعقاد کیا گیا۔ اس ادبی تقریب میں وادی بھر سے ممتاز افسانہ نگاروں، نقادوں، اساتذہ، طلبہ اور ادب دوستوں نے شرکت کی۔پروگرام کا آغاز پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج سمبل پروفیسر شبینہ اقبال شال کے استقبالیہ خطاب سے ہوا، جنہوں نے کشمیری ادب کے فروغ میں اکیڈمی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسے ایک اہم علمی اور تخلیقی قدم قرار دیا۔اس موقع پر ممتاز قلمکار شاہد دلنوی نے کلیدی خطبہ پیش کیا، جس میں انہوں نے کشمیری افسانے کے ارتقائی سفر، اس کے فنی پہلوؤں اور موجودہ رجحانات پر بصیرت افروز گفتگو کی۔ ان کا خطاب اس علمی نشست کے لیے فکری بنیاد فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوا۔نشست کی صدارت معروف ادیب اور نقاد مشتاق احمد مشتاق نے کی، جبکہ پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج سمبل پروفیسر شبینہ اقبال شال، مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے تقریب میں شریک ہوئیں۔ جاوید اقبال، ایڈیٹر (کشمیری)، جموں اینڈ کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز بھی صدراتی نشست میں موجود رہے ۔تخلیقی نشست میں جن افسانہ نگاروں نے اپنے افسانے پیش کئے ان میں ڈاکٹر شائستہ احمد، روف قیاسی، ڈاکٹر اشرف ضیاء ، فہمیدہ رحمن اور ڈاکٹر علی محمد نشتر شامل ہیں۔ ان افسانوں میں کشمیری معاشرت، فرد کی داخلی کشمکش اور سماجی مسائل کو مؤثر اور تخلیقی انداز میں پیش کیا گیا، جنہیں سامعین نے بڑی دلچسپی سے سنا۔افسانوں پر تنقیدی آراء رحیم رہبر اور مشتاق احمد مشتاق نے پیش کیں، جنہوں نے فنی ساخت، بیانیہ انداز، اور معنوی اظہار پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔پروگرام کی نظامت ڈاکٹر گلزار احمد راتھر، اسسٹنٹ ایڈیٹر (کشمیری)، جموں اینڈ کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز نے انجام دئے۔ ان کی رواں اور مربوط میزبانی نے تمام نشستوں کو بامقصد اور مؤثر انداز میں آگے بڑھایا۔تقریب کے اختتام پر جاوید اقبال، مدیر کشمیری شیزاہ، جموں اینڈ کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز، نے مہمانوں، شرکاء ، کالج انتظامیہ اور طالبِ علموں کا شکریہ ادا کیا۔ جنہوں نے اس تقریب کو کامیاب بنانے میں بھرپور تعاون فراہم کیا۔اس موقع پر اندر کلچر فورم، اندرکوٹ سمبل کی جانب سے مہمانوں کی عزت افزائی کی گئی اور انہیں پھولوں کے گلدستے پیش کئے گئے۔یہ سمپوزیم جموں اینڈ کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز کی کشمیری زبان و ادب کے فروغ کی مسلسل کوششوں کا حصہ تھا۔ ایسے پروگراموں کے ذریعے اکیڈمی کا مقصد نوجوان نسل کو تخلیقی اظہار کا پلیٹ فارم فراہم کرنا، ادبی مکالمے کی روایت کو زندہ رکھنا، اور نئے لکھنے والوں کو سینئر اہلِ قلم سے جوڑنا ہے۔ایسے علمی و ادبی اجتماعات نہ صرف تخلیقی رجحانات کو جلا بخشتے ہیں بلکہ فکری مباحث کو فروغ دے کر ایک بامعنی ادبی فضا قائم کرتے ہیں۔
