سرینگر/تنہا ایاز//
وادی کشمیر کے دیگر ضلعوں کے مقابلے میں پلوامہ کے ادیبوں، شاعروں اور ادب نوازوں نے آج تک اپنے ضلعے میں مرکزی اہمیت کی حامل ایک ادبی تنظیم کا قیام عمل میں لانے کی طرف توجہ نہیں دی ہےالبتہ جن اکا دکا تنظیموں کے ناموں کی گونج نشریاتی اداروں یا سوشل میڈیا سے سنائی دیتی ہے ان میں ڈسٹرکٹ کلچرل سوسائٹی کسی قدر ایک فعال تنظیم کے طور ابھر رہی ہے تاہم ان کی تقریبات میں عموماً مہمان کم اور میزبان زیادہ ہوتے ہیں.ادبی تنظیم شاہورہ اور سو چھ کرال میموریل سوسائٹی دونوں کو ادبی افق پر تاباں ہونے کی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے -جہاں تک کمراز اور مراز ادبی تنظیموں کا تعلق ہے انکے منتظمین نے آج تک اپنے اپنے خطوں کی ادبی شخصیات اور ان کے کارناموں کو مختلف طریقوں سے پروان چڑھانے اور نوآموز قلمکاروں کی حوصلہ افزائی کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ہے – چنانچہ پلوامہ کی سر زمین نہ صرف معروف شاعرہ للہ عارفہ بلکہ شاعرہ کشمیر حبہ خاتون ، شاعر کشمیر غلام احمد مہجور ، صوفی شعراء سوچھ کرال، وہاب کھار اور رجب حامد کی آماجگاہ رہی ہے – کسی بھی ادبی تنظیم کا کام فقط مشاعروں اور مختلف النوع محافل کا اہتمام کرنا نہیں ہوتا بلکہ تصنیف وتالیف ، تنقید و تحقیق ، ترجمہ و تفسیر اور اشاعت و ترویج کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونا ہوتا ہے-اس ضمن میں ضلع پلوامہ کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ادیبوں ، شاعروں اور صحافیوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر ایک مرکزی نوعیت کی ادبی تنظیم کا قیام عمل میں لانے کےلئے متفقہ فیصلہ لینا ہوگا تاکہ ہمارے ضلعے کے نو آموز قلمکاروں کا بھی اندرونی اور بیرونی طور کام کرنے والے ادبی و ثقافتی اداروں خاصکر کلچرل اکادمی ، ساہتیہ اکادمی اور نشرواشاعت کےاداروں کے ساتھ قریبی روابط قائم ہوسکیں -جس سے ان کی مالی معاونت اور کارکردگیوں کی حوصلہ افزائی ہونے کی راہیں کھول دی جا سکیں-
غلام حسن طالب سربراہ اعلٰی
سوچھ کرال میموریل سوسائٹی پلوامہ جنوبی کشمیر
