کشمیر پرفارمرس کلیکٹو نے کیا ہے ایک ماہ تک جاری رہنے والے کیمپ کا اہتمام
گاندربل/ 7 اپریل/ شافیہ گلفام
کشمیر پرفارمرس کلیکٹو اور گورنمنٹ ڈگری کالج گاندربل کے اشتراک سے ڈگری کالج میں ایک ماہ تک جاری رہنے والے پروڈکشن پر مبنی تھیٹر ورکشاپ کا باظابطہ افتتاح کیا گیا ۔ورکشاپ کو وزارت ثقافت حکومت ہند کی ثقافتی فکشن اینڈ پروڈکشن گرانٹ اسکیم CFPGS کا تعاون حاصل ہے۔اس تھیٹر ورکشاپ کو منظور میرز اکیڈمی آف آرٹس پٹن کشمیر اور ڈگری کالج گاندربل کے انگریزی شعبہ کا بھی تعاون حاصل ہے۔ورکشاپ کے ڈائریکٹر منظور احمد میر نے سیشن کا آغاز کرتے ہوئے تھیٹر کی اہمیت کو اجاگر کیا اور اس ورکشاپ کا مقصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں بالخصوص طلباء کو اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ تھیٹر کی طرف راغب کرنا اور تھیٹر کے تئیں ان کی دلچسپی میں اضافہ کرنے کے علاوہ انہیں تھیٹر سے متعلق دیگر تکنیک کو سکھانا ہے۔افتتاحی تقریب پر ادبی مرکز کمراز کے صدر محمد امین بٹ نے تھیٹر کی تیاری کےلئے درکار تکنیک اور ان کی ہم عصر مطابقت کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔آل انڈیا ریڈیو سرینگر کے سابقہ سربراہ سید ہمایوں قیصر نے عصری معاشرے میں تھیٹر اور تھیٹر کی تکنیک پر روشنی ڈالی اور منظور میر کے اس اقدام کی تعریف کی۔اس دوران معروف براڈکاسٹر اور ڈرامہ نویس نثار نسیم نے کشمیری تھیٹر کے بارے میں مختصر جانکاری فراہم کی اور تھیٹر فنکاروں کے لئے جامع پلیٹ فارم کی ضرورت پر زور دیا۔معروف ڈرامہ نویس شیخ محمد حنیف نے کشمیر کے ثقافتی گفتگو میں تنقیدی کرداروں پر روشنی ڈالی۔ پرنسپل جی ڈی سی گاندربل پروفیسر فوزیہ فاطمہ نے دور جدید میں تھیٹر کی اہمیت کو اجاگر کیا،معروف ماہر تھیٹر اور EKTA کے بانی بشیر بھوانی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ڈاکٹر معرفت نے تمدن اور ثقافت میں تھیٹر کے رول پر روشنی ڈالی۔ورکشاپ کی افتتاحی تقریب میں معروف ماہر تھیٹر ریشی رشید،عاشق حسین،ریاض احمد،سلیم یوسف اور فرحت صدیقی نے بھی شرکت کی۔اس تھیٹر ورکشاپ کے میڈیا ایڈوائزر معروف اداکار اور قلم کار گلفام بارجی ہیں اور کوآرڈینیٹر طوبہ رشید ہے جبکہ مدثر احمد خان، معراج الدین بٹ اور ساحل شفیع اس تربیتی کیمپ کے آرگنائزر ہیں.واضح رہے کہ 8 اپریل سے کیمپ میں آدیتی آریہ’NSD alumna’ کی سرپرستی میں فزیکل تھیٹر سیشن کا آغاز ہوگا۔تقریب کی میزبانی جی ڈی سی گاندربل کے انگریزی شعبہ کی سربراہ طوبہ رشید نے کی۔
