بلال کشمیری….اویل، اہرہ بل
مجھے اپنا بچپن یاد آریا ہے ۔ میں بہت چھوٹا تھا اور بچپن سے سے کبھی گلی ڈنڈا، کبھی چھپن چھپائی کھیلتا تھا ۔ گاؤں کے سارے بچے اکثر کھیل کود میں مصروف رہتے تھے ۔ وہ بھی کیا زمانہ تھا سب بے فکر اور مست ہو کر کھیلتے تھے ۔ کبھی ہم چیونٹیوں کی قطاروں کو دیکھتے تھے۔ اور حیران ہوتے تھے کہ یہ چونٹیاں کس نظم و ضبط کے ساتھ اپنے بِلوں سے نکلتی تھی اور غذا کی تلاش میں اپنا دن گزارتی تھیں ۔ مختلف قسم کی چونٹیاں تھیں ۔ چیونٹیوں کی خاص قسم بھی ہمارے گاؤں میں پائی جاتی تھی ۔ جن کی تعداد بہت کم تھی ۔ لیکن یہ چیونٹیاں جسامت میں بہت بڑی تھیں۔ لیکن تھی کافی شریف اور ملنسار، باقی چیونٹیوں کے ساتھ محبت کے ساتھ رہ رہی تھیں ۔نہ ان چیونٹیوں کو اپنی کم تعداد پر کوئی فکر تھی اور نہ اپنی جسامت پر کوئی غرور ۔ ایک دن سخت بارشیں شروع ہوئیں اور اس قدر موسلا داد بارشیں ہوئیں کہ چیونٹیوں کے گھر تباہ و برباد ہو گئے ۔ اور بہت ساری چیونٹیاں بارش کی نظر ہو گئیں ۔ بارش تھمتے ہی ان چیونٹیاں نے پھر سے اپنے گھر بنانے شروع کئے ۔ ایک دوسرے کو ہمت اور حوصلہ دیا ۔ بڑی چیونٹیاں چھوٹی چیونٹیوں کو مدد کرتی تھی اور چھوٹی چیونٹیاں بڑی چیونٹیوں کو ۔ لیکن ان موسلا دار بارشوں نے ان چیونٹیوں کے گھر اجھاڑ دیئے. سبھی چھوٹی بڑی چیونٹیاں اپنے گھر اجڑنے پر ماتم کناں تھیں ۔ ان طوفانی بارشوں نے اگر چہ چیونٹیوں کا بہت نقصان کیا لیکن اس مصیبت سے ان چیونٹیوں میں اتفاق بڑھ گیا۔ اور انہوں نے عزم کر لیا کہ وہ ہمیشہ ایک دوسرے کے کام آئیں گے اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہو جائیں گے ۔
اور سبھی قسم کی چیونٹیاں اپنے عزم پر کار بن رہیں ۔ لیکن اچانک بستی میں عقاب نمودار ہو گئے ۔ اور ان بڑی چیونٹیوں کو چُن چُن کر مارنے لگے ۔ کچھ عرصہ یہ بڑی چیونٹیاں چھوٹی چیونٹیوں کے گھروں میں رہنے لگیں ۔ لیکن عقاب وہاں بھی آٹپکے اور وہاں سے بھی انہیں مار ڈالنا شروع کیا۔
بالآخر ان بڑی چیونٹیوں نے اپنا وطن چھوڑنے کا فیصلہ کیا ۔ ہائے وہ منظر کسی مصیبت سے کم نہیں تھا جب بڑی چیونٹیاں چھوٹی چیونٹیوں کے گلے لگ لگ کر روتی تھی اور مڑ مڑ کے اپنے گھروں کی طرف دیکھتی تھی۔ ہائے وہ منظر کسی قیامت سے کم نہیں تھا ۔
وہ دن اور آج کا دن وہ بڑی چیونٹیاں کہیں نظر نہیں آئیں ۔ ان کے گھر ویران پڑ گئے ۔ آج گاؤں کے سبھی بچے ایک ہی جگہ پر جمع ہو گئے ۔ انہیں دیکھ کر مجھے اپنا بچپن یاد آیا۔میں دفعتاً ان کے پاس گیا اور پوچھا ۔ ” کیا کر رہے ہو۔” تو ان سب نے یک زبان جواب دیا ۔ ” کہ ہم نے سنا ہے کہ وہ بڑی چیونٹیاں پھر اپنے اپنے گھروں کو لوٹ رہی ہیں ۔ جن کے بارے میں ہم نے صرف سنا تھا اپنے والدین اور بزرگوں سے۔ ۔ بچوں کا انتظار دیکھ کر مجھے بھی بے حد خوشی ہوئی اور میں بھی بچوں کے ساتھ ان بڑی چیونٹیوں کا انتظار کرنے لگا۔

