پاکستانیوں کے لیے انڈیا کا ویزہ اور انڈین شہریوں کے لیے پاکستان کا ویزہ حاصل کرنا ایک دشوار عمل ہے اور اس کے پیچھے وجہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات ہیں، جو کسی سے چھپے ہوئے نہیں۔اگر ویزہ مل بھی جائے تو دونوں ملکوں میں چند ہی شہر ہیں جہاں انتظامیہ ہمسایہ ملک سے آنے والے سیاحوں کو جانے اور گھومنے پھرنے کی اجازت دیتی ہے۔اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے شہریوں کو یہ خدشہ بھی رہتا ہے کہ مقامی لوگ ان کے ساتھ کس طرح کا رویہ اختیار کریں گے۔اسی پیچیدہ فضا میں پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر ننکانہ صاحب سے تعلق رکھنے والے پاکستانی بائیکر اور یوٹیوبر ابرار حسن نے انڈیا کے مختلف شہروں میں سفر کر کے اور انڈین عوام کے مثبت رویے کو اپنی ویڈیوز کے ذریعے پاکستانیوں اور دنیا تک پہنچا کر بہت سے دل جیت لیے ہیں۔ابرار کے پاس جرمنی کی شہریت ہے اور اب ان کی مستقل رہائش بھی جرمنی ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ابرار نے بتایا کہ اسلام آباد میں بیچلرز کرنے کے بعد انھوں نے جرمنی سے ماسٹرز کیا۔تعلیم مکمل ہونے کے بعد جب انھیں نوکری ملی تو انھوں نے مختلف ملکوں کا سفر کرنے کا شوق پورا کرنا شروع کیا۔وہ پہلے اپنے سفر کی صرف تصویریں کھینچتے تھے لیکن بعد میں کسی دوست نے انھیں یہ مشورہ دیا کہ وہ ویڈیوز بنا کر یوٹیوب پر لگانا شروع کر دیں۔ابرار کے مطابق ان کی ویڈیوز کو پہلے اتنی پزیرائی نہیں ملتی تھی لیکن مارچ 2020 میں ان کی ایک ویڈیو، جس میں وہ یروشلم گئے تھے، کو بہت پزیرائی ملی۔اس بارے میں انھوں نے کہا کہ ’پہلی بار ایک پاکستانی کو اسرائیل اور فلسطین میں سفر کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ میں نے کوشش کی کہ اسے دیسی سٹائل میں دکھاؤں۔‘
ابرار بتاتے ہیں کہ ان کی ہمیشیہ سے خواہش تھی کہ وہ انڈیا کا سفر کریں۔ انھیں سفری ڈاکیومینٹریز بہت پسند ہیں اور ابتدا میں زیادہ تر دستاویزی فلمیں جو وہ دیکھتے تھے، وہ کشمیر اور لداخ وغیرہ کی ہوتی تھیں۔
’میں جب انڈیا کی ویڈیوز دیکھتا تو کہتا تھا یار، مجھے بھی یہاں پر جانا چاہیے۔ میں نے پہلے بھی دو بار کوشش کی لیکن میرے ویزے کی درخواست مسترد ہو گئی تھی لیکن اس بار مجھے ویزہ مل گیا۔‘
ابرار نے بتایا کہ ان کو انڈیا کا ویزہ ان کے جرمن پاسپورٹ پر ملا لیکن یہ پھر بھی آسان نہیں تھا کیونکہ وہ پاکستانی نژاد ہیں۔
ایسی صورت میں سفارتخانہ مزید دستاویزات مانگتا ہے۔ ’اگر انڈیا سے مقامی طور پر کوئی ایسا خط ہو جو آپ کی ضمانت لے تو تھوڑا آسان ہو جاتا ہے۔‘
ابرار نے بتایا ان کے انڈیا میں کافی دوست ہیں جنھوں نے دعوت کے لیٹر دیے جس کی وجہ سے ان کا کام کافی آسان ہو گیا۔
انھوں نے مزید بتایا کہ پاکستانی پاسپورٹ پر تو چند ہی شہروں میں جانے کی اجازت ہوتی ہے لیکن جرمن پاسپورٹ ہونے کی وجہ سے وہ انڈیا کے کئی شہروں میں گئے۔
ابرار بتاتے ہیں کہ انھوں نے اپنا سفر انڈین ریاست کیرالہ سے شروع کیا جہاں انھوں نے کسٹم والوں سے درخواست کی کہ وہ پاکستانی ہیں اور ان کا 30 دن کا ویزہ ہے، اس لیے ان کی موٹرسائکل کو جلدی کلیئر کر کے ان کے حوالے کر دیا جائے اور پھر تین سے چار گھنٹوں میں بائیک ان کے حوالے کر دی گئی۔
ابرار کہتے ہیں کہ انڈین لوگوں کا پیار دکھانے کے لیے انھیں الگ سے محنت نہیں کرنی پڑی بلکہ وہ جس شخص سے بھی اور جو بھی بات کر رہے ہوتے تھے اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر لگا دیتے تھے۔
ابرار کے چینل پر لگی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مختلف علاقوں میں لوگ ان سے ملنے کے لیے جمع ہو جاتے اور ان کو خوش آمدید کہتے ہیں، کھانے کی دعوت اور تحائف بھی دیتے ہیں۔
ابرار کہتے ہیں کہ ’لوگ خود سے میرے پاس آ جاتے تھے۔ مجھے زیادہ محنت کر کے کسی کے پاس نہیں جانا پڑتا تھا۔‘
ابرار بتاتے ہیں کہ وہ ایک یا آدھے گھنٹے پہلے یہ اعلان کرتے تھے کہ وہ کہاں ہوں گے اور لوگوں کی بڑی تعداد ان سے ملنے وہاں پہنچ جاتی اور انھیں بہت پیار ملتا۔ یہ ان کی توقع سے کہیں زیادہ تھا۔
’لوگ مجھے مشورہ دیتے تھے کہ اپنی لوکیشن شیئر نہ کرو۔ میں جواب دیتا کہ اگر میں یہ نہ کروں تو مجھے پھر سڑک پر اگر کوئی مل جائے تو مل جائے لیکن میں لوگوں سے مل نہیں پاؤں گا اور جب میں واپس پاکستان جاؤں گا تو میں لوگوں کو کیا دکھاؤں گا کہ انڈیا کے لوگ اتنے پیار کرنے والے ہیں۔‘
ابرار نے بتایا کہ پہلے ان کی ویڈیوز میں وہ صرف جگہیں دکھاتے تھے لیکن انڈیا کی سیریز میں انھوں نے لوگوں کو بھی دکھایا۔
ابرار نے بتایا کہ چھوٹے شہروں کے لوگ خصوصاً انھیں مل کر خوش ہوئے اور ان کو یقین نہیں ہو رہا تھا کہ جن کی ویڈیوز وہ یوٹیوب پر دیکھتے ہیں وہ ان کے گلی محلے میں ان کے ساتھ موجود ہیں، یہ ایک منفرد چیز تھی۔
0
