153

وادی کشمیر ۔۔۔۔ تیری قسمت پہ رونا آیا۔۔۔

 

تحریر :سبزار احمد بٹ

دنیا کے شاید ہی کسی خطے یا ملک کا کوئی شخص ہو گا جو جموں و کشمیر کے حالات سے واقف نہ ہو ۔کئی دہائیوں سے یہاں کے نامساعد حلات نے یہاں کی ہر چیز کو متاثر کیا تعلیم، سیاحت، سیاست، اقتصادیات غرض وہ کون سا شعبہ ہے جو حالات کی زد میں نہ آیا ہو ہر سال تقریباً تین چار مہینے ہڑتال کی نذر ہو جاتے ہیں اور تین چار مہینے سرما کی نذر جب برفباری کی وجہ سے سب کچھ ٹھپ ہو جاتا ہے اور زندگی تھم سی جاتی ہے اس دوران لوگ وہی کچھ کھاتے اور خرچ کرتے ہیں جو گرما میں کمایا ہو اور اس دوران ریاست کی آمدنی صفر کے برابر ہوتی ہے اس پر طرہ یہ کہ ہر سال کچھ نہ کچھ ہو ہی جاتا ہے جب لوگ گرما میں بھی کچھ نہیں کر پاتے ہیں سال 2014 کی بات کریں گے تو سیلاب نے زبردست تباہی مچا دی اور عربوں کا نقصان ہو گیا پوری وادی پانی میں ڈوب گئی اور ہر طرف سے ہاہا کر مچ گئی اتنا مالی نقصان ہوا کہ لوگ قرض کے بوجھ تلے دب گئے ۔ابھی ان حالات سے پوری طرح ابھرے بھی نہیں تھے کہ2016 میں حالات اس قدر بگڑ گئے کہ تقریباً چھ مہینے مکمل بند رہا اور مالی نقصان کے ساتھ ساتھ جانی نقصان سے بھی دوچار ہونا پڑا اور اقتصادی حالات مزید بگڑ گئے کاروباری اداروں کا دیوالیہ پٹ گیا ۔مزدور طبقہ فاقہ کشی پر مجبور ہو گیا ۔تعلیم کو اس قدر دھچکہ لگا کہ سرکار کو ماس پروموشن کا اعلان کرنا پڑا ،اور نجی گاڑی مالکان کا کچھ مت کہیے انہوں نے تو بنکوں سے قرضہ حاصل کر کے گاڑیاں لائی تھیں ۔ہر مہینے سود بھرنا پڑتا تھا وہ تو بالکل ہی سڑک پر آگے اور یہاں کی سیاحت تباہ و برباد ہو گئ ۔ایسا لگتا ہے کہ یہ مصیبتیں کشمیر کا پتہ پوچھ کے آتی ہیں ۔ابھی اس مصیبت سے نمٹنے کی کوشش کر ہی رہے تھے کہ 5 اگست 2019 کو سرکار نے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے اور ریاست جموں و کشمیر کو مرکزی زیر انتظام خطہ بنانے کا فیصلہ لیا ۔ ان ایام کے دوران سرکار نے کرفیو نافذ کردیاتمام کاروباری، سرگرمیاں، تعلیمی ادارے، اور سیاحتی مقامات سنسان نظر آئے ابھی یہ ذہنی انتشار ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ کرونا نے دستک دی اور ملک کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر میں بھی لاک ڈاون نافذالعمل رہا اور ابھی تک لاک ڈاون جاری ہے اس صورتحال نے ہر چیز کو متاثر کیا سب سے زیادہ نقصان تعلیم اور نجی گاڑی مالکان (پرائیویٹ ٹرانسپورٹ) کو اٹھانا پڑا اور جموں و کشمیر اقتصادی طور پر بچھڑ گیا اب کشمیر کے زمیندار طبقے کی بنیاد سیب کی صنعت پر ٹکی ہوئی تھیں سیب کی صنعت کو جموں و کشمیر کی اقتصادیات میں ریڑھ کی ہڑی جیسی اہمیت حاصل ہے ۔تاہم یہ صنعت بھی موسم کی بدحالی کا شکار ہوتی جا رہی ہے کیونکہ پچھلے پانچ سالوں سے ہو رہی ژالہ باری نے اس صنعت کو بھی تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا اور جو قصر رہ گئی اسے نقلی ادریات کا کاروبار کرنے والوں نے پورا کیا کیونکہ جموں و کشمیر میں انسانی ادویات کی ساتھ ساتھ فصلوں کی نقلی ادویات کا کاروبار عروج پر ہے جس سے سیب کی صنعت مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتی ہے اور سیب مالکان ان ادویات کی خریداری سے قرضداری میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور حاصل کچھ نہیں ہوتا ہر سال محکمہ باغبانی کی طرف سے advisery کے ساتھ ساتھ ادویات کی لمبی فہرست جاری کر دی جاتی ہے کہ ان ادویات کا استعمال نا کریں اور جعلی دوا فروشوں سے ہوشیار رہیں لیکن عام لوگ کہاں اس حکمنامے کا پالن کرتے ہیں نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں اس سال بھی ژالہ باری نے اس صنعت کی کمر توڑ کر رکھ دی۔
جموں و کشمیر کے باشندوں کی اچھی خاصی تعداد ریاست سے باہر ملک کی مختلف ریاستوں میں مزدوری کر کے اپنا گزارا کرتے ہیں لیکن اس سال کووڑ19 کی وجہ سے ان سب کو قبل از وقت ہی واپس لوٹنا پڑا اور گھر کے بجائے کورنٹیں سینٹرز کا رخ کرنا پڑا، جتنا کمایا تھا وہ سب خرچ کیا اور خدا خدا کر کے اپنے اپنے گھروں کو پہنچے ۔خطے کے چھاپڑی فروشوں کا حال بھی اس سے مختلف نہیں ہے وہ بھی قسم پرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اس طرح سے کہا جا سکتا ہے کہ خطے کے لوگ اقتصادی بہران سے گزر رہے ہیں اللہ نے چاہا تو کرونا وایرس ختم ہو گا لیکن اس کے بعد والے حالات کیا ہونگے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کیونکہ اقتصادی ڈھانچہ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا اس سارے صورتحال کو دیکھتے ہوئے عوام اسی انتظار میں تھی کی سرکار کی اور سے کسی ایسے پیکیج کا اعلان کیا جائے گا کہ یہاں کے بے روزگار نوجوانوں کو نوکری حاصل کرنے کی کوئی امید نظر آئے اور لوگ راحت کی سانس لیں لیکن ہوا اس کے برعکس سرکار نے ڈومیسائل قانون نافذ کر دیا جو جموں و کشمیر کی شہریت کے حوالے سے ایک نیا قانون ہے اس قانون کے نفاذ سے وہ سارے لوگ جموں و کشمیر کے باشندے تصور کیے جائیں گے جو پچھلے دس سالوں سے یہاں نوکری کے سلسلے میں رہ رہے ہیں وہ سارے طالب علم جو پچھلے سات سالوں سے یہاں زیر تعلیم ہیں یا جو دسویں یا بارویں جماعت کے امتحان میں شامل ہوئے ہوں وہ سب بھی جموں و کشمیر کے باشندے گردانے جائیں گے اور نوکریوں کے لیے درخواست دے سکتے ہیں جموں و کشمیر کے مہاجر (مائگرنٹس) جو اس وقت ملک کے مختلف حصوں میں رہ رہے ہیں وہ سب بھی جموں و کشمیر کی شہریت حاصل کر سکتے ہیں اس طرح سے جموں و کشمیر کے نوجوانوں کیلئے ملازمت حاصل کرنا اگر چہ ناممکن نہیں تاہم مشکل ضرور بن گیا ہے جموں و کشمیر پہلے ہی بے روزگاری کا مارا ہے کیونکہ یہاں کے نوجوانوں کو نجی حلقے (پرائیویٹ سیکٹر) میں بھی روشن مستقبل کی کوئی کرن نظر نہیں آ رہی ہے ایسے میں صاحب ثروت لوگوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ غریب اور حالات کر مارے طبقے کا خیال رکھا جائے سرکار کے لیے بھی لازم ہے کہ جموں کشمیر کو اس اقتصادی دلدل سے نکالنے کے لیے پرائیویٹ سیکٹر کو بڑھاوا دیا جائے اتنا ہی نہیں سرکار کو جموں و کشمیر کی اقتصادی حالت کا لحاظ کرتے ہوئے ڈومیسائل قانون پر نظرثانی کر لینی چاہیے کیونکہ بھارتی آئین میں کسی بھی قانون پر نظرثانی کی گنجائش موجود ہے مزید یہ کہ جو لوگ قرض کے بوجھ تلے دبے ہیں مثلاً نجی گاڑی مالکان وغیرہ کے لیے بھی کسی رعایت کا اعلان کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ سب لوگ جی سکیں اور خدا نخواستہ کسی کو کوئی سخت اقدام اٹھانے کی نوبت نہ آئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں