109

سوپور:جگر سوز واقعہ کی گونج اقوا م متحدہ تک پہنچ گئی/قصورواروں کو سزا ملنی چاہیے،مظاہروں پر پابندی نہیں لگانی چاہیے: سٹیفن ڈوجیریک

سرینگر؍2 ،جولائی؍شمالی قصبہ سوپور کے ماڈل ٹائون علاقے میں یکم جولائی کو پیش آئے جگر سوز واقعہ کی گونج اقوام متحدہ تک پہنچ گئی ۔ اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیریک نے کہا کہ سوپور میں عام شہری کی ہلاکت میں ملوث قصور واروں کو سزا ملنی چاہئے ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق اقوام متحدہ نے یکم جولائی کوسوپور میں ہونے والی عام شہری کی ہلاکت پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قصورواروں کو سزا ملنی چاہیے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کے سربراہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیریک نے روزانہ بریفنگ کے دوران کہا کہ کشمیر میں بدھ کے روز ہونے والی شہری ہلاکت سے اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری اینٹونیو گٹیریس کو کافی دکھ پہنچا ہے اور جو افراد بھی اس جرم میں ملوث ہیں، ان کوسخت سے سخت سزا ملنی چاہیے جبکہ قوام متحدہ اس حوالے سے مزید تفصیلات جمع کر رہا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسی صورتحال میں رشتہ داروں، عوام کی جانب سے مظاہرے ہونا عام بات ہے اور انتظامیہ کو بھی ان مظاہروں پر پابندی نہیں لگانی چاہیے۔یاد ہے کہ بدھ کی صبح قریب ساڑھے7بجے ماڈل ٹائون سوپور میں فائرنگ کے ایک واقعہ میں سی آر پی ایف اہلکار اور عام شہری جاں بحق جبکہ متعدد اہلکار زخمی ہوئے ۔جاں بحق عام شہری کی شناخت 65سالہ بشیر احمد خان کے بطور ہوئی ۔جاں بحق شہری کے لواحقین کا الزام ہے کہ اُسے گاڑی سے اُتار کر قتل کیا گیا جبکہ سیکیورٹی فورسز کے اعلیٰ حکام کا دعویٰ ہے کہ ملی ٹنٹوں کی فائرنگ سے عام شہری جاں بحق ہوا ۔اس واقعہ کا درد ناک پہلو یہ ہے کہ بزرگ شہری اپنے 3سالہ نواسے کے ہمراہ کسی کام کے سلسلے میں سوپور جارہا تھا ،اور ماڈل ٹائون میں ہوئی فائرنگ کے زد میں آئے جس دوران بشیر احمد خان کے جسم میں کئی گولیاں پیوست ہوئیں اور اسکی موقعے پر ہی موت ہوئی ،تاہم سوشل میڈیا پر جگر سوز تصاویر وائرل ہونے کے بعد انسانیت رونے لگی کیونکہ ایک تین سالہ معصوم اپنے نانا کی نعش پر ماتم کررہا تھا اور وہ گولیوں کی گھن گرج میں الجھا ہوا تھا ۔وائرل تصاویر پر جہاں سوشل میڈیا پر بحث ومباحثے شروع ہوا ،وہیں اقوام متحدہ تک بھی اس جگر سوز واقعہ کی گونج سنائی دی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں