واشنگٹن : امریکی ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جوبائیڈن نے بھارت سے کہا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں لگائی گئی پابندیاں ہٹا کر کشمیریوں کے بنیادی حقوق فوری طور پر بحال کرے۔جو بائیڈن نے انتخابی مہم کے سلسلے میں امریکا میں مقیم مسلمان برادریوں کے حوالے سے اپنے ایجنڈے میں کہا ہے کہ ‘بھارت کی حکومت کو کشمیر کے عوام کے حقوق بحال کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے چاہیئیں۔انہوں نے کہا کہ ‘پرامن احتجاج کو روکنے، انٹرنیٹ کو بند کرنے یا سست کرنے جیسے اقدامات سے بھارت میں جمہوریت کمزور ہوئی ہے۔بھارت نے گزشتہ برس اگست میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ کی بندش سمیت تمام بنیادی حقوق کو سلب کرلیا تھا جس کے باعث کشمیریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔بھارتی حکومت نے رواں برس کے اوائل میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے ڈومیسائل قانون کو تبدیل کرکے مقامی آبادی کو حاصل اختیارات واپس لے لیے جس کو پاکستان اور کشمیریوں نے مسترد کردیا تھا۔امریکی صدارتی امیدوار نے کہا کہ ‘بھارت کی حکومت کی جانب سے آسام میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزن اور سٹیزن شپ ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) متعارف کروانا مایوس کن ہے۔مسلمانوں کے حوالے سے اپنے ایجنڈے میں انہوں نے کہا کہ ‘امریکی مسلمان مسلم اکثریتی ممالک اور دیگر ممالک میں موجود مسلمانوں کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ ‘مغربی چین میں لاکھوں ایغور مسلمانوں کی جبری گرفتاری بھی قابل توجہ ہے۔امریکی صدارتی امیدوار نے کہا کہ ‘میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ریاستی امتیاز اور مظالم سے امن و استحکام کو نقصان پہنچ رہا ہے۔دی وائر کی رپورٹ کے مطابق امریکی ہندوؤں کے ایک گروپ نے جو بائیڈن کی مہم میں مسلمانوں سے متعلق اپنے ایجنڈے میں بھارت کے خلاف بیان پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔خیال رہے کہ نومبر میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخاب کے لیے جہاں ٹرمپ اور ان کے حریف جو بائیڈن ایک دوسرے پر تنقید کر رہے ہیں وہیں مختلف برادریوں کی حمایت کے لیے بھی سرگرم ہیں۔
172
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل
