بشیر اطہر خانپوری
وادئ کشمیر کی سرسبز وشاداب سرزمین میں بہت سارے شاعروں،محقق اور افسانہ نگاروں نے جنم لیا ہے اور یہ سرسبز وادی ہر فن اور ہر صنف سخن میں ذرخیز رہی ہے اسی وادئ گلپوش میں ایک جانے پہچانے شاعر، مترجم، افسانہ نگار اور نثر نگار پرویز مانوس کا جنم ہوا ہے آپ کا شمار عصر حاضر کے معروف افسانہ نگاروں میں ہورہا ہے جنہوں نے قلیل مدت میں ہی ادبی دنیا میں اپنا لوہا منوالیا پہلے پہلے آپ پہاڑی زبان میں ہی لکھتے تھے مگر آہستہ آہستہ انہوں نے پہاڑی ادب سے باہر قدم رکھا اور اردو و کشمیری زبانوں میں بھی لکھنا شروع کیا آپ اس وقت بھی ادبی دنیا میں محو سفر ہیں جس کی مثال ہمیں کشمیر کے مختلف روزناموں سے ملتی ہے کیونکہ آپ کے افسانے، شاعری، نثر وغیرہ کشمیر کے معروف اخباروں میں مسلسل چھپ رہے ہیں یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ پرویز مانوس کانثری صنف کے علاوہ نظمی صنف میں بھی دسترس حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ آپ کا ہر صنف سخن پر دسترس حاصل ہےاوراپنی ذرخیزیت بھی دکھا رہے ہیں آپ اپنی شیریں زبانی کی وجہ سے بھی مشہور ہیں اور اسی شیرین زبانی کی وجہ سے آپ کی تحریریں میٹھی اور شہد جیسی شیریں ہوجاتی ہیں اور ان کے ارد گرد آپ کے شیدائیوں کا تانتا بندھا رہتا ہے آپ کے افسانوں میں سماجی بدعات، اقتصادی بحران، غریبوں کے حالات، عام لوگوں کے مصائب اور اس دنیا کی ناپائیداری جیسے موضوعات شامل ہیں زندگی کے عظمت احساس کی شدت، حالات و واقعات کو مدنظر رکھ کر آپ منظر کشی کرنے میں کافی ماہر ہیں کیونکہ آپ نے بھی ان حالات کا ازخود جائزہ لیا ہے اور انہی حالات سے بھی آپ کا پالا پڑا ہے
بھول جائے قوم ان کو کس طرح ممکن ہے یہ
سرخ جن کے خون سے اخبار ہوتے جائیں گے
ایک افسانہ نگار کو بہترین موضوع کا انتخاب کرنے کے علاوہ افسانوی تکنیک کی بھی جانکاری ہونی چاہئے تب ہی ایک اچھا یا کامیاب افسانہ بن جاتا ہے پرویز مانوس اس تکنیک سے باخبر ہیں اسی لئے آپ کے اچھے افسانے ہمیں پڑھنے کو مل رہے ہیں میں نے زیادہ تر ان کی شاعری یا افسانے وغیرہ سوشل میڈیا یا اخبارات میں ہی پڑھے ہیں تبھی مجھے ان کی کتابیں پڑھنے کا شوق ہوا ایک کامیاب ادیب اور قلمکار کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ آپ کا لوگ سنیں اور پڑھیں زمانے کے اس پُرآشوب دور میں ایک قلمکار کو کن حالات سے گزرنا پڑتا ہے اسے سبھی قلمکار حضرات واقف ہیں کشمیر کے ادیب زیادہ تر لابی ازم کے شکار ہوئے ہیں اور اسی لابی ازم کی وجہ سے ہماری زبان وادب کو بہت سارا نقصان ہوا ہے وہ اس لئے کہ یہاں ادب میں ذرخیزیت ہونے کے باوجود بھی یہ زمین بنجر سی لگ رہی ہے کیونکہ بہت سارے ایسے ادیبوں اور قلمکاروں نے اپنے ادبی سفر کو بیچ راستے میں ہی چھوڑا ہے جن کے پاس ایسے مواقع اور وسائل موجود نہیں تھے جن کی وجہ سے وہ اپنے سفر کو آگے بڑھاتے مگر پرویز مانوس اس لابی ازم سے پاک وصاف ہیں اور کبھی بھی لابی ازم کے شکار نہیں ہوئے بلکہ آپ نوجوان قلمکاروں کی اچھے دل سے حوصلہ افزائی کرتے رہے اور ان نوجوان قلمکاروں کی بلاجھجھک رہنمائی کرنے میں ان کو کوئی شرمندگی محسوس نہیں ہوتی ہے آپ کے پاس ادیب، ادیب ہی ہے چاہے کوئی بڑا ہو یا چھوٹا کیونکہ آپ کارویہ ہر کسی کے ساتھ یکساں ہے آپ نے اوروں کی طرح منفی سوچ کو اپنے ادب میں کبھی بھی آڑے آنا نہ دیا بلکہ اپنے مثبت سوچ و پاک ذہنیت کی وجہ سے اپنے قلمی سفر کو پروان چڑھاتے رہے.آپ نے جس صنف سخن میں بھی طبع آزمائی کی اس صنف سخن میں آپ کامیاب دکھائی دے رہے ہیں آپ کشمیر کی حساس اور نئی نسل کے شاعر بھی ہیں آپ نے آج تک بہت ساری کتابیں شائع کرکے اردو زبان وادب کے علاوہ پہاڑی وکشمیری زبانوں میں بھی اپناایک اعلیٰ مقام حاصل کیا ہے 1992میں شاعری مجموعہ “سوغاتیں” 1995میں پہلا افسانوی مجموعہ “شکارے کی موت” 1997میں “موسم اُڑان کا” 2004میں “چاند لمس گلاب” 2006 میں ریاستی کلچرل اکیڈمی کی طرف سے انعام یافتہ بچوں کےلئے کہانیوں کا مجموعہ “چُن ماما” 2014میں افسانوی مجموعہ “مٹھی بھر چھاؤں” اورحال ہی میں انکا افسانوی مجموعہ “سارے جہاں کا درد” کے علاوہ ہندوستان کے مشہور سائنسدان اے پی جے ابوالکلام جن کو دنیا میزائل مین کے نام سے جانتی ہے اور ہندوستان کے صدر بھی رہ چکے ہیں کی سوانح عمری The Wings Of Fire کا پہاڑی زبان میں ترجمہ کرکے ایک اور سنگ میل کو پار کیا ہے آپ نے اس کتاب کا پہاڑی زبان میں ترجمہ کرکے پہاڑی زبان جاننے والوں کو اَن دیکھی دنیا کی سیر کرائی تاکہ پہاڑوں میں رہ رہے لوگوں کو پتہ چلے کہ ان کے ارد گرد تنگ وادیوں کے علاوہ بھی ایک وسیع وعریض دنیا ہے جہاں ان کی ہی طرح پیداہوئے انسان کارہائے نمایا انجام دے رہے ہیں اس کے علاوہ اس کتاب کا ترجمہ کرکے یہ بھی باور کرانا چاہتے ہیں کہ پہاڑی لوگ اس کتاب کا مطالعہ کرکے اپنے آپ میں آسمان کو چھولینے کا عزم کریں بقولِ ڈاکٹر سر محمد اقبال کہ “انسان کو اگر دنیا میں کچھ کرنا ہے تو اس کےلئے آسمان ہی منزل ہے”شائد یہی بات مدنظر رکھ کر پرویز مانوس نے اس کا ترجمہ کیا ہے تاکہ وہ پہاڑوں میں رہ رہے لوگوں کا حوصلہ بڑھائیں اور ان میں کچھ کرنے یا بننے کی ہمت بڑ سکے.پرویز مانوس اجنبی انسانوں کے ساتھ بھی جانے پہچانے لوگوں جیسا سلوک کرتے ہیں گویا آپ ان کو پہلے سے ہی جانتے ہیں جدید خیالات سے بھر پور پرویز مانوس اپنے افکار کو عملی جامہ پہنا کر نئی نئ تخلیقیں ہمارے سامنے لاتا ہے آپ کا اسلوب بیان بھی کافی دلچسپ اور حیرت انگیز بھی ہے ان کے افسانوں کا نام سیدھا سادہ ہوتا ہے مگر ان میں ایک بہت پیغام ہوتا ہےان کے اکثر افسانے ایک انسان کو سوچنے پر مجبور کررہے ہیں کہ کیسے زمانے کی لالچ پرستی سے انسانیت کا خون ہورہا ہے زمانے کے نشیب وفراز سے واقف پرویز مانوس اپنے افسانوں کو ایک الگ رنگ دینے میں کامیاب ہوئے ہیں ان کی راست گوئی،انسان دوستی اور انسانی ہمدردی بھی ان کے افسانوں سے چھلک رہی ہے.شاعری میں بھی آپ کا ایک منفرد انداز ہے آپ کی شاعری ایک عام قاری کو بھی اپنی طرف کھینچ لیتی ہے اور داد دینے پر مجبور کرتی ہے چاہیے اس میں غزل ہو یا نظم.پرویز مانوس کی شاعری میں ایک الگ قسم کی حساسیت پائی جاتی ہے اور یہی حساسیت ان کے کلام میں بھی مٹھاس پیدا کرتی ہے ان کی رنگین خیالی سے غزل کی دنیا میں رنگینیت پیدا ہوئی ہے غرض میں نے صرف آپ کے کئ پہلو اس مضمون میں شامل کئے ہیں اگر آپ کے اوصاف لکھے جائیں گے تو ایک ضخیم کتاب بن سکتی ہے
ہم نے دیکھی ہر قدم پر سانس بکتی شہر میں
آپ ایسے تاجروں سے دور رہنا مانگتا سیکھئے
پرویز مانوس نے اپنی ادبی و تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اپنی زندگی میں نکھار پیدا کیا ہے اور ادبی دنیا میں چھائے رہے آپ نے ادب کےلئے ایسا کام انجام دیا جس کام کو انجام دینا ہرکسی کے بس کی بات نہیں ہے آپ نے اپنے شاعری مجموعہ “فصیل شہر سے” ادبی دنیا میں ہلچل مچا دی اور اس ادبی کارنامہ نے آپ کو ادب کے ایک ایسی جگہ پر لاکھڑا کیا جس جگہ کی تلاش ہر کسی ادیب، محقق اور قلمکار کی ہوتی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ پرویز مانوس ادب پر اسی طرح سے چھائے رہیں جس طرح سے آج چھائے ہوئے ہیں
بشیر اطہر خانپوری
7006259067
ہم فقیروں کو عطا رب نے کیا ایسا ہنر
دولت سلطان میں ہم نے تیرا حصہ لکھ دیا
