معروف نعت گو شاعر کے انتقال پر تعزیتی تقریبات   124

پلوامہ کے معروف نعت گو شاعر کا انتقال,ادبی حلقوں کا اظہار رنج  

مرحوم کا انتقال کشمیری زبان کے لیے بڑا نقصان قرار
پلوامہ/تنہا ایاز// پلوامہ کے رتنی پورہ علاقے سے تعلق رکھنے والے کشمیری زبان کے معروف نعت گو شاعر سعید غلام مصطفی امید انتقال کر گئے وہ پچھلے دو ماہ سے بیمار تھے، ان کے انتقال پر مختلف ادبی اور سماجی انجمنوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔تفصیلات کے مطابق ضلع پلوامہ کے رتنی پورہ علاقے کے معروف نعت گو شاعر غلام مصطفی امید کا اتوار کے روز رتنی پورہ میں انتقال ہوگیا۔انکے انتقال سے کشمیر کے ادبی حلقوں میں زبردست رنج وغم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ نعت گو  شاعر کے انتقال پر سماج کے مختلف طبقوں دینی، سماجی اور ادبی حلقوں نے سخت رنج و غم کا اظہار کر تے ہوئے مرحوم کے ادبی خدمات کو سراہا۔اس دوران جنوبی کشمیر کے معروف شاعر، ادیب اور قلمکار عبدالرحمن فدا نے نعت گو شاعر غلام مصطفی امید کے وفات پر رنج کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ مرحوم نہایت ہی شریف انسان تھے ۔انہوں نے مرحوم کو خراج عقیدت پیش کر تے ہوئے کہا کہ انکے انتقال سے کشمیری زبان کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔ ادھر کھریو پانپورہ کے معروف سماجی کارکن اور شاعر جی ایم دلشاد نے رتنی پورہ پلوامہ کے شاعر غلام مصطفی امید کے وفات پر زبردست رنج وغم کا اظہار کیا۔  انہوں نے کہا کہ مرحوم کے انتقال سے جو خلاء پیدا ہوا ہے اسکی کسی بھی صورت میں بر پائی نا ممکن ہے۔ادبی تنظیم  نوو ادبی کاروان پلوامہ کے صدر سکندر ارشاد نے بزرگ نعت گو شاعر کے انتقال پر زبردست رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے سوگوار کنبے کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم کی درجات بلندی کے لئے دعاء کی ہے۔ ادھر وادی کے کئی ادبی تنظیموں جن میں نوو ادبی کاروان پلوامہ، مراز ادبی سنگم کے علاوہ دیگر ادبی تنظیموں نے  نے نعت گو شاعر سید غلام مصطفی امید کے انتقال پر دکھ اور صدمے کا اظہار کیا۔نمائندے تنہا ایاز کے مطابق ان کے کئی کتابیں منظر عام پر آ چکے ہے اور مرحوم نے زیادہ تر نعتیہ کلام ہی لکھے۔مرحوم کی نماز جنازہ میں سماج کے مختلف طبقوں نے شرکت کرکے انہیں پرنم آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک کیا۔
نعت گو شاعر کے وفات پر مختلف ادبی اور سماجی انجمنوں نےگہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے. تعزیتی پیغامات میں ادب نوازوں نے مرحوم کے ادبی کارناموں اور کشمیری زبان کے تئیں ان کی خدمات کو یاد کیا اور کہا کہ ادب کے تئیں ان کی جدوجہد اور کاوشوں کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں