ابنِ رسول کے ناول
دوسری قسط
’’”سنیچر 2070 کی ایک سہانی شام ” ‘‘ سے متعلق ادارہ گزشتہ کئی ماہ سے تشہیر کرتا آرہا ہے اور اس حوالے سے کافی سارے قارئین کے فون اور وٹس ایپ پیغام بھی موصول ہوئے۔ جس میں انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ اس ناول کو جلد از جلد ادارہ شائع کر کے قارئین کی تشنگی دور کرے، قارئین کی اسی خواہش کے مدِ نظر بالاخر ادارے نے یہ ناول سلسلہ وار شائع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور آج کے شمارے میں اس کی دوسری قسط قارئین کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے اُمید ہے کہ اس ناول کو پڑھ کر آپ محظوظ ہونگے ارادہ ابن رسول کا از حد شکر گزار ہے کہ انہوں نے اعتماد جتاتے ہوئے ندائے کشمیر کو رضامندی دے کر یہ اعزاز بخشا ۔۔۔۔
(گزشتہ سے پیوستہ)
ایک دوسرے پر ترس بھی آتا تھا اور صرف اس بنا پر ایک دوسرے کی مدد کر تے تھے کہ ہمارا تعلق مرد ذات سے ہے جو فی ا لحال مظلومیت کی شکار ہے ، میں نے اس سے گلے سے لگایا اور پوری دیانتداری سے کہا ’’نہیں دوست تم اس نوکری کے حق دار ہو ، وش یو گڈلک ‘‘ اور میں وہاں سے چل دیا ۔ کوئی خاص بات ذہن میں نہیں تھی، طبیعت بوجھل تھی ، ایک عجیب قسم کی اداسی تھی جو دل و دماغ پر محیط ہوچکی تھی میں بیکار تھا بڑی مشکل سے دو وقت کی روٹی ملتی تھی، یہ تو آپ کو بتانا ہی بھول گیا کہ آبائی وراثتوں میں اب صرف لڑکیوں کا ہی حصہ مانا جاتا تھا اور مرد کو بس تعلیم سے فارغ ہوتے ہی خود پیروں پر کھڑا ہونے کی صلاح کے ساتھ ہی اکثر و بیشتر گھروں سے باہر دھکیلا جاتا ۔اس کی بڑی وجہ یہ بنتی کہ مرد کی مارکیٹ ویلیو ہی ختم ہوچکی تھی ۔ میں نے سنا ہے کہ اگلے زمانوں میں لڑکے کے جنم پر خوشیاں منائی جاتی تھیں ، مٹھائی بانٹی جاتی تھی ، والدین یعنی ماں اور باپ مل کر خوشی اور جشن منایا کرتے تھے ، کہتے ہیں کہ اس جشن میں اور بھی لوگ جنہیں رشتے دار کہا جاتا تھا شامل ہوتے تھے ، اللہ ہی جانے سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے لیکن اب لڑکی کے جنم پر سب اطمینان کی سانس لیتے ہیں اور لڑکے کو بس ایک خواہ مخواہ کا بوجھ سمجھ کر پالا جاتا ہے ، ماں کوئی خاص دلچسپی لڑکے کی تعلیم و تربیت پر نہیں کرتی در اصل سب کچھ ہی سرکاری ’’یتیم خانوں‘‘ میں ہوتا ہے جنہیں ’’بال ہاوس ‘‘کہا جاتا ہے ۔بہر حال یہ سب آہستہ آہستہ آپ آگے پڑھ لیں گے ،فی الحال مجھے بھوکا رہنے کی نوبت نہیں آئی ۔ میرے اِس زمانے میں مرد کوئی خاص کمانے والا فرد بھی تو نہیں رہا تھا ، نہ وہ شادی بیاہ کی صورت میں ایک عدد بیوی کے ساتھ جہیز میں کوئی رقم پانے کی اہلیت اور صلاحیت رکھتا تھا اور نہ اب دلہنیا اس کے گھر بیاہ ہوکے آجاتی بلکہ دلہا ہی ۔دلہن کے گھر جاکر اپنے فرائض یعنی خدمت وغیرہ انجام دیتا تھا اب مرد کے زمانے کب کے مرکھپ گئے تھے اور وہ کچن تک تقریباً محدود ہو چکا تھا۔ اور اب صرف میرے خیال میں بچے جننے سے محروم تھا ورنہ گھر کے سارے کام کاج تو اسی کے دم پہ چلتے رہتے تھے ۔ میں اداس اور افسردہ تھا ۔ میرے قدم خود بخود شکار گاہ کی طرف اٹھتے گئے ، کوئی منزل نہیں تھی اور کوئی بات بھی ذہن میں نہیں تھی بس شکار گاہ پہنچا تو آسمان کی گھڑ گھڑاہٹ سے تھر تھرا کر رہ گیا ، میں شاید اپنے آپ میں کچھ اس طرح کھوگیا تھا کہ یہ بھی نہ دیکھ پایا تھا کہ آسماں میں گہری کالی کالی بدلیوں کا رقص شروع ہوچکا ہے ، ویسے بھی پہلگام کا موسم کسی الھڑ اور خوبصورت دوشیزہ کے جیسا ہی ہوتاہے جو کسی بڑے عہدے پر بھی براجمان ہو ، اس کی چنچل طبیعت کا پتہ نہیں چلتا کہ کب موڈ بدل جائے ، کب خوب برسے اور کب اپنی رم جھم سے تھپک تھپک کر سلادے ۔میں نے اوپر کی طرف نگاہ اٹھالی افوہ ، بارش کی ایک چادر سی دھرتی کا سینہ چومنے کے لئے بس کچھ ہی دور تھی ، میں نے بارش سے بچنے کے لئے دوڈ کر ایک درخت کے سائے میں پناہ لی ، لیکن یہاں اس درخت کے ساتھ کوئی اور بھی میرے بائیں طرف درخت کے ساتھ چپک کر کھڑا تھا ، میں نے جیب میں ہاتھ ڈال کر سگریٹ کا پیکٹ نکالا ، سگریٹ منتخب کی، لائٹر نکالی اور سگریٹ سلگانے ہی جارہاتھا کہ میرے کان ایک مترنم سی آواز سے بج اٹھے ۔
’’کیا آپ مجھے ایک سگریٹ عنایت کریں گے ، میں اپنا پیکٹ ہوٹل ہی میں چھوڑ آئی ہوں ،‘‘ میں چونک اٹھا کیونکہ یہ ایک مترنم آواز بھی تھی لیکن مجھے ایسا لگا جیسے اس سے پہلے بھی یہ آواز سنتا رہا ہوں اب میں نے ذرا سا سر دیو دار کے بائیں طرف کردیا ’’اوہ ‘‘ بے اختیارمیرے ہونٹوں سے نکلا ، کیونکہ پہلی ہی جھلک میں ۔ میں نے اس چہرے کو پہچانا ،اور شاید اس نے بھی مجھے پہچانا تھا ،
’’ہیلو ماریا ، میں ،،، ’’بارڈی ہو ‘‘ میرا جملہ ختم ہونے سے پہلے ہی اس نے مسکرا کر کہا ۔ ماریا میرے ساتھ کالج میں تھی ، میں ایم ایس کرنے باہر یونیورسٹی آگیا تھا اور پھر مجھے ماریاکے بارے میں کچھ پتہ نہیں رہا ۔ یوں بھی کالج یا یونیورسٹی کے بعد سب لوگ اپنی اپنی راہ لیتے ہیں ۔ میرا نام بھی بارڈی نہیں بلکہ بشیر ہے لیکن ہر ایک چیز کو انگریزی میں ٹرانسلیٹ کرنے اور انہی جیسا بنانے میں مجھے سب بارڈی ہی کہتے تھے ماریا کا اصل نام بھی ماہ وش تھا لیکن سب اس سے ماریا کے نام سے ہی جانتے تھے ، ہم نے مسکرا کر ہاتھ ملائے ، تب تک بارشیں زور سے برسنے لگی تھیں ’’اس بارش کا بھی کوئی ٹھکانہ نہیں کب آئے اور کب جا ئے کچھ پتہ نہیں‘‘ میں نے پیکٹ سے ایک سگریٹ نکال کر اس کی طرف بڑھا دی اور پھر لائٹر جلاکر اس کی سگریٹ کو شعلہ دکھادیا ، یہ بہت ہی اچھے ظرف کی بات مانی جاتی تھی ۔ اور یہ حرکت مجھے معلوم تھالڑکیوں پر اچھا امپریشن ڈال دیتی تھی اور یہ بھی کہ ایسے لڑکے کو ماڈرن بھی تصور کیا جاتا تھا ، بارش برستی جارہی تھی اور ابھی اس میں کمی کے کوئی آثار نہیں تھے میں صرف قمیض۔ پینٹ میں ملبوس تھا ،میں ا چانک ہی اس طرف نکل کھڑا ہوا تھا لیکن ماریا ایک اچھے گرم کوٹ میں ملبوس تھی ، جس کا مطلب تھاکہ وہ پہلے سے ہی مناسب کپڑوں میں ملبوس ہوکر آئی تھی اور شاید اس بات کو جانتی بھی تھی کہ بارش آئے گی۔
’’بارڈی اب بتاؤ کیا کرتے رہے ہو ، کہیں کسی جگہ جاب بھی ملی ہے کہ نہیں‘‘ اس نے مسکرا کر پوچھا۔
’’ نہیں ابھی تک نہیں ، ایم ایس سی کی ڈگری میرے خیال میں اب جاب نہیں دلاسکتی ،بس شوروم میں ہی سجائی جاسکتی ہے ‘‘ میں نے بھی مسکراکر کہا۔
’’ یہ درست بات ہے ، کوکنگ میں ڈگری اس سے بہتر رہتی ہے مردوں کے لئے ‘‘ ‘‘اس نے افسوس کا اظہار کیا ’’ ’’میں نے کوکنگ میں ڈپلوما بھی کیا ہے‘‘ میں نے اسکی انفارمیشن میں اضافہ کیا ’’ارے واہ۔۔ یہ تو تم نے بہت ہی اچھا کیا ہے ، سب کچھ پکا لیتے ہو یا ،،‘‘ ماریا کے لہجے میں کھنک تھی ،’’ڈپلوما تو ڈگری نہیں ہوتی بس کچن چلا سکتا ہوں ‘‘ میں نے جواب دیا ’’ اب بتا ؤ میں تمہارے ساتھ یہ کوٹ کیسے شئیر کروں کیونکہ تم سردی سے ٹھٹھرنے لگے ہو‘‘
ماریا نے بڑی دل آویز مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
’’نو تھینکس ۔ کوئی ضرورت نہیں ابھی یہ بارشیں رکے گی اور آفتاب پھر بادلوں سے باہر آئے گا ‘‘میں جھینپ سا گیا ، شاید یوں کہیں گے کہ شرما سا گیا کیونکہ شرمانا بھی ہماری ایک ادا ہی ٹھہرتی تھی میں نے جلدی سے کہا لیکن ماریا اچانک میرے سینے کے ساتھ چمٹ گئی اور اس طرح اپنے اوؤر کوٹ سے مجھے تقریباً ڈھانپ لیا ، اس کے گداز سینے کی گرمی اور حدت کو محسوس کرتے ہی میری حالت دگرگوں ہونے لگی ، دل کی دھڑکن تیز ہوگئی اور رگ رگ میں لہو کی گردش آندھی اور طوفان ہوگئی ۔اگر چہ میرے اِ س دور میں سیکس کو کوئی اہمیت حاصل نہیں بس اتنی سی بات ہے کہ قسمت سے جس جس لڑکی نے تمہیں پسند کیا اس کی مرضی اور چاہت کے مطابق سب کچھ ہوتا اور چلتا رہے لیکن مرد اور کوئی لڑکا یہ جر أت کرہی نہیں سکتا کہ کسی لڑکی سے چھیڑ خانی کرے یا خود اس کے لئے چاہت کا اظہار کر سکے کیونکہ قوانین سخت تھے اور جب تمام پارلیمنٹ اور اسمبلیاں ، پولیس اور عدالتوں میں عورتوں کی تعداد ۶۰ فیصد سے بھی زیادہ ہو ۔ صرف عورت ہی نظر آرہی ہو۔ یعنی سارا معاشرہ ہی ’’عورتیا ‘‘ ہوچکا ہو تومردوں کی شنوائی کہاں اور کیسے ہوگی ؟، ذرا ذرا سی شکایت پر پولیس جو اب عورتوں کی ہی ایک بڑی فوج ہوچکی تھی مردوں کو پولیس سٹیشن لے جاکر چھٹی کا دودھ یاد دلایا کرنے میں بڑی اوتاولی ہو جاتیں ۔ ہزاروں برس کے بعد یہ منزل آگئی تھی اور اب وہ ماضی بعید کا ایک ایک بدلہ ٹھیک طرح سے لے رہی تھی ، ایسا کہا جاتا تھا ہماری محفلوں میں ،،اور یہاں بھی بس بچاؤ کی صورت یہ تھی کہ کسی پولیس وؤمین کو آپ بھا گئے توبڑی نرمی بھی ہوتی اور ملاقاتیں بھی ہوجاتی ہیں ۔
(سلسلہ جاری اگلے شمارے میں)
