کونسلنگ اور والدین کے ساتھ مشاورت کے بعد تینوں کو گھروالوں کے حوالہ کر دیا گیا
سرینگر/18نومبر/کپواڑہ پولیس نے جمعرات ایک خصوصی کارورائی کے دوران جنوبی ضلع پلوامہ سے تعلق رکھنے والے تین نوجوانوں کو لائن آف کنٹرول کو عبور کرنے کے راستے میں گرفتار کرکے ان کی کوشش ناکام بنائی ۔ سی این آئی کو اس ضمن میں نمائندے نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ جنوبی ضلع پلوامہ سے تعلق رکھنے تین نوجوانوں کو کپواڑ میں لائن آف کنٹرول عبور کرنے سے روک دیا ۔ اس ضمن میں ایس ایس پی کپواڑہ نے میڈیا کو تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ایک مخصوص اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے تینوں نوجوانوں کو کپواڑہ کے ایک خفیہ ٹھکانے سے گرفتار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تینوں نو عمر ہے ۔ ایس ایس پی کے مطابق تینوں نوجوان جنونی ضلع پلوامہ کے میج علاقے کے رہائشی ہے اور انہوں نے ایک جنگجوکمانڈر کے ساتھ رابطہ قائم کیا تھا جو خود کو طیب فاروقی ظاہر کر رہا تھا جو پاکستان سے کام کر رہا تھا اور اس سے ملنے اور تربیت لینے کیلئے کپواڑہ کے راستے ایل او سی پار کرنے جا رہے تھے۔ انہوںنے بتایا کہ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ جنوبی کشمیر کے ان نوجوانوں کو عسکریت پسند نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے بنیاد پرستی اور حوصلہ افزائی کی ہے۔انہوں نے کہا کہ گرفتاری کے بعد تینوں کے والدین کو طلب کیا گیا جس کے ساتھ بات چیت اور مشاورت کے بعد نوجوانوں کو ان کے حوالے کر دیا گیا۔اس موقعہ پر نوجوانوں کے والدین نے شکریہ ادا کرتے ہوئے جموں و کشمیر پولیس کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اپنے بچوں کو جنگجو صفوں میں شامل ہونے سے روکا اور انہیں آزاد اور پرامن زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیاگیا ۔
