ڈاکٹر نذیر مشتاق
پہلے ایک بری خبر سناؤں گا۔
سوشل میڈیا اخبارات اور دیگر زرایع ابلاغ سے ہر کسی نے سنا کہ بہت سارے نوجوان ہارٹ اٹیک سے چل بسے کسی نے یہ تعداد ٢٩اورکسی نے تعداد کچھ اور بتایی ہے ایک بات مسلم اور روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اب ہارٹ اٹیک نوجوانوں میں عام بات ہے۔وہ زمانہ گیا جب نوجوان اپنے بزرگوں کو مرنے کے بعد کاندھوں پر اٹھایا کرتے تھے اب عمر رسیدہ بزرگ ہی اپنی اولاد کو کاندھوں پر اٹھاکر قبرستان لے جاتے ہیں۔
وقت بدل گیا ہے۔۔نوجوانوں میں دل کے امراض بڑی تیزی سے اپنی جگہ لے رہے ہیں۔۔۔یہ بری خبر ہے۔۔۔۔دوسری طرف اچھی اور حوصلہ افزا خبر یہ ہے کہ اس پر بڑی آسانی سے قابو پایا جاسکتا ہے جی ہاں یہ ممکن ہے شرط صرف یہ ہے کہ سماج کے سبھی نوجوان ماہرین کے مشوروں پر صد در صد عمل کریں۔
ہمارے سماج میں جب بھی کوی نیا مسءلہ پیش آتا ہے تو اکثر لوگ مشکوک نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگتے ہیں مثلا کرونا وائرس جب کشمیر میں پھیلنے لگا تو اسے سازش قرار دیا گیا اسی طرح نوجوانون میں ہارٹ اٹیک کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ ہونے کے بارے میں بھی اکثر لوگ اپنی اپنی راے قائم کرتے ہیں کچھ لوگ اسے ایک قسم کے سگریٹ برانڈ سے نتھی کرتے ہیں اور کچھ لوگ اصرار کرتے ہیں کہ سرکار اور طبی ماہرین فوری تحقیقات شروع کرکے بنیادی وجوہات کا پتہ لگایں۔ وہ لوگ اپنی جگہ بالکل صحیح ہیں۔۔
شاید عام لوگ اس بات سے واقف نہیں ہوں گے کہ پچھلے تیس برسوں سے امریکہ میں نوجوانوں میں ہارٹ اٹیک کی شرح تشویشناک حد تک بڑھ رہی ہے اور ہندوستان میں بھی یہی حال ہے اس ملک میں امراض قلب سے مرنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ان مرنے والوں میں نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ایک وقت تھا جب ہارٹ اٹیک صرف عمر رسیدہ افراد میں تشخیص دیا جاتا تھا اور کوی طبی ماہر سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ چالیس سال سے کم عمر کے افراد بھی ہارٹ اٹیک میں مبتلا ہو سکتے ہیں مگر اب یہ ایک حقیقت ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں میں امراض قلب کی شرح تیزی سے بڑھتی جارہی ہے۔ ایسا کیوں۔۔۔
دنیا کے متنازعہ خطوں میں نامساعد حالات کی وجہ سے لوگ ذہنی طور متاثر ہوتے ہیں۔جب سے یہاں نامساعد حالات کی وجہ سے حالات بدل گیے ہمارے سماج کا شیرازہ بکھر گیا۔ بچے نوجوان بوڑھے مرد عورتیں بار بار ہڑتال کرفیو اور دیگر بندشوں کی وجہ سے اپنے اپنے گھروں میں محصور ہوتے رہے۔طرز زیستن و خوردن بدل گیا۔تفریح اور ورزش خواب بن کے رہ گیے۔گھروں میں محصور لوگ ذہنی دباؤ کھچاؤ اور تناو کے شکار ہوتے رہے
لوگوں میں ذہنی بیماریوں کی شرح بڑھتی گیی اس سے دیگر بیماریوں ہای بلڈ پریشر شوگر اور خون میں چربی میں اضافہ جیسی بیماریوں کی شرح بڑھتی گیی ۔چونکہ یہ بیماریاں خاموش قاتل ہوتی ہیں ان کے علایم جلدی ظاہر نہیں ہوتے ہیں اسلیے یہ بیماریاں مریض کے اندر پنپتی رہتی ہیں اور وقت آنے پر دل کی بیماریوں کی صورت میں سر اٹھاتی ہیں ۔نوجوان طبقہ زہنی پریشانیوں سے نجات پانے کے لیے سکون آور خواب آور اور دیگر نشہ آور ادویات استعمال کرنے لگے شراب نوشی نوجوانوں میں عام ہونے لگی ۔چوں کہ یہاں ڈرگ ایکٹ پوری طرح لاگو نہیں ہے اس لیے نوجوانوں کو آسانی سے نشہ آور ادویات مل جاتی تھیں ۔انہوں نے اپنی مرضی کے مطابق دوایاں استعمال کیں۔ ایک اہم ترین بات یہ ہے کہ لوگوں کا طرز زندگی یکسر بدل گیا۔نوجوان ایک تیز رفتار الٹرا ماڈرن زندگی گزارنے لگے وہ مہینوں کا کام دنوں میں دنوں کا کام منٹوں میں اور منٹوں کا کام سیکنڑوں میں کرنے لگے
وہ آرام کیے بغیر برق رفتاری سے دوڑنے لگے۔ اس تیز رفتار زندگی میں وہ صحت مند کھانے پینے کی طرف توجہ نہیں دے سکے وہ بازاروں میں فاسٹ فوڈ جنک فوڈ سے عشق کر بیٹھے۔ورزش تو دور کی بات ان کے پاس دو قدم چلنے کے لیے بھی وقت نہیں رہا وہ کاروں اور بایکوں کا استعمال کرتے رہے۔ ناقص غزا اور سستی کی وجہ سے وزن میں اضافہ ہوتا گیا خون میں شوگر کولسٹرول اور دیگر قلب مخالف چربی جمع ہوتی رہی یوں بیچارہ دل متاثر ہو تا رہا اور پھر یہاں نوجوانوں میں جنرل ہیلتھ چیک اپ کا تصور ہی نہیں ہے اسلیے خاموش قاتل بیماریاں دل کو اندر اندر سے کمزور کرتی گییں اور ایک روز ہارٹ اٹیک۔۔۔۔نامساعدحالات میں اکثر لوگ بالخصوص نوجوان ڈیپریشن جیسی زہنی بیماری میں مبتلا ہویے ڈیپریشن میں مبتلا ہوکر وہ نشہ آور ادویات کا استعمال کرنے لگے اور یہ بات مسلم ہے کہ ڈیپرشن میں مبتلا مریض گھر کے اندر ہی بیکار زندگی گزارتا ہے اور یا تو بہت زیادہ کھاتا ہے یا کھانے پینے کی طرف بالکل توجہ نہیں دیتا ہے سگریٹ نوشی اور شراب نوشی کی طرف راغب ہو جاتا ہے اس طرح اس کے دل کی بیماریوں میں مبتلا ہونے کے امکانات روشن ہو جائے ہیں۔۔
دل انسانی جسم کا وہ انمول اور اہم ترین عضو ہے جو چوبیس گھنٹے بنا استراحت کیے اپنا کام انجام دیتاہے بافی اعضاء شاید کچھ دیر کے لئے آرام کر سکیں مگر دل اگر ایک لمحہ کے لئے دھڑکنا بند کرے تو انسان زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔دل جسم کے تمام اعضاء کو خون سپلای کرتا ہے مگر دن رات لگاتار کام کرنے کے لئے اسے بھی خون کی ضرورت پڑتی ہے۔کورونری شریانیں دل کو لگاتار خون پہنچاتی ہیں۔اگر کسی وجہ سے ان میںرکاوٹ پیش آے اور دل کے کسی حصہ کو خون نہ پہنچے تو وہ حصہ مر جاتا ہے چوں کہ دل اسٹارلنگ قانون کے تحت کام کرتا ہے مطلب یا تو دل کے سبھی عضلات کام کرتے ہیں یا کوی کام نہیں کرتا ہے اس لیے جب دل کا کوی حصہ خون نہ ملنے کی وجہ سے مرجاتا ہے تو ہارٹ اٹیک پیش آتا ہے اور انسان لقمہ اجل بن جاتا ہے۔۔۔
ہارٹ اٹیک کے وجوہات۔۔۔۔۔
ہای بلڈ پریشر
موٹاپا
ہای بلڈ شوگر
ناقص غزا فاسٹ فوڈ جنک فوڈ
خون میں بری چربی کی سطح میں بہت زیادہ اضافہ
سگریٹ نوشی
کثرت شراب نوشی
روزانہ ورزش نہ کرنا
موروثی ۔۔خاندان میں کسی کو ہارٹ اٹیک آیا ہو تو باقی افراد کو بھی خطرہ رہتا ہے
نشہ آور ادویات کا استعمال بالخصوص کوکین
مسلسل زہنی دباو کھچاؤ اور تناو غیر مرتب طرز زندگی۔ نیند میں خلل۔۔۔دل کو صحت مند رکھنے کے لئے کم از کم آٹھ گھنٹے نیند ضروری ہے
ابان نکات کو زہن میں رکھ کے سوچیے کہ ہماریے نوجوانوں کاطرزندکی کیسا ہے کیا وہ باضابطہ ورزش کرتے ہیں کیا وہ اپنی غزا میں انواع و اقسام کی سبزیاں شامل کرتے ہیں دن میں کتنی بار تازہ اؤر خشک میوے کھاتے ہیں نہیں وہ بازاروں میں فاسٹ فوڈ جنک فوڈ کھاتے ہیں نمکین غذایں کھانے سے بلڑ پریشر بڑھ جاتا ہے
چربی دار غزاوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں اس سے خون میں بری چربی جمع ہوجاتی ہے اور دل کی کارکردگی پر انتہائی مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں سکرپٹ نوشی کو اپنا فرض سمجھتے ہیں شراب نوشی بھی کرتے ہیں اس طرح خون میں چربی کی سطح بڑھتی ر ہتی ہے۔آرام کو وہ حرام سمجھتے ہیں نیند کی باہوں میں جھولنے کی بجائے وہ رات بھر سوشل میڈیا پر وقت گزارتے ہیں جس سے دل کو بہٹ تکلیف ہوتی ہے اس طرح یہ سارے محرکات دھیرے دھیرے دل کی کارکردگی پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ایک روز دل کو خون سپلائی کرنے والی خون کی نالیاں تنگ ہوکر کسی دن بالکل بند ہوجاتی ہیں اور دل خون کی سپلائی سے محروم ہو کر ایک دم دھڑکنا بند کرتا ہے اسی کو ہارٹ اٹیک کہا جاتا ہے
ہارٹ اٹیک کے علامات
جب ہارٹ اٹیک شروع ہو تو مریض سینے کے وسط میں شدید درد محسوس کرتا ہے اسے یوں لگتا ہے جیسے سینے پر کوی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوی اس کے دل کو گیلے کپڑے کی طرح نچوڑ رہا ہے۔
یہ درد بایں بازو بایں کندھے گردن جبڑے ہونٹوں اور شانوں میں سرایت کر سکتا ہے مریض عجیب قسم کی بیقراری۔بےچینی اور ڈر محسوس کرتا ہے اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کچھ بہت برا ہونے والا ہے مریض پسینے میں شرابور ہو جاتا ہے سرد عرق ریزی ایک خصوصی علامت ہے سینے میں ایسا درد معدہ اور خوراک کی نالی کی بیماریوں کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے لیکن اگر پریشانی اور سینے میں درد بڑھتا جایے تو مریض کو فوری اسپتال منتقل کیا جانا ضروری ہے۔
ان علایم کے علاوہ بعض مریضوں میں ابکای یا الٹیاں بھی شروع ہوسکتی ہیں۔ اگر مریض ایک گھنٹے کے اندر اندر اسپتال پہنچ جاتا ہے تو اس کے صحت یاب ہونے کے امکانات روشن ہیں۔
اب تک آپ کی سمجھ میں آیا ہوگا کہ نوجوانوں میں ہارٹ اٹیک کی شرح کیوں بڑھی اور بڑھتی جا رہی ہے
اب میں وہ احتیاطی تدابیر بیان کروں گا جن پر عمل درآمد کرنے سے ہر کوی بالخصوص نوجوان طبقہ ہارٹ اٹیک سے بچ سکتا ہے
سب سے پہلے لازمی ہے کہ ایک منظم و مرتب زندگی گزاری جاے مزہب کے وضع کردہ اصولوں پر سختی سے عمل کی جاے
ہر روز ایک گھنٹہ دو قسطوں میں ورزش کریں باہر سردی ہے تو گھر کے کسی کمرے میں جوگنگ یا پیادہ روی کی جاے سیڑھیاں چڑھیں اتریں یا رقص کریں کسی بھی طرح جسم کو ہلایں دل کی دھڑکن کو ایک سو بیس تک لے جایں۔۔دل بھی ماہیچہmuscleہے اسے بھی ہر دن ورزش کی اشد ضرورت ہے اگر آپ روزانہ باقاعدہ ورزش کرتے ہیں تو آپ کا دل بہت خوش رہتا ہے ورنہ یہ سست ہوجاتا ہے اور آپ سے ناراض ہو جاتا ہے اسےDeconditioning of heartکہتے ہیں یہ ہارٹ اٹیک کی سیڑھی کا پہلا پایہ ہے
آپ کا وزن آپ کی عمر اور قد کے حساب سے برابر ہونا چاہئے نہ ایک کیلو کم نہ زیادہ۔۔موٹاپا دل کے لیے بہت خطرناک ہے
خون میں چربی کی سطح بالکل نارمل ہونی چاہیے کیونکہ اگر خون میں چربی کی مقدار ایک مخصوص مدت کے لیے حد سے زیادہ رہے تو ہارٹ اٹیک کے امکانات روشن ہوجاتے ہیں
تغزیہ۔۔۔دل کو صحت مند رکھنے کےلئے اور وزن قابو میں رکھنے کے لئے انواع و اقسام رنگ برنگی سبزیوں کا استعمال لازمی ہے علاوہ ازیں تمام قسم کے تازہ اؤر خشک میوے استعمال کرنا بہت ضروری ہے سیب اسٹرابیری کرین بری بلیو بری دل کے قریبی دوست ہیں باقی جو آپ کی روز مرہ غزا ہے وہ اعتدال میں رکھیں
صاف ستھرا پانی دل کے لیے بہت مفید ہے موسم سرما میں دن میں نیم گرم پانی کے آٹھ گلاس پی لیں آپ کا دل آپ کو دعائیں دے گا صبح کے وقت نیم گرم پانی کا ایک گلاس اور سونے سے پہلے ایک گلاس پانی ضرور پی لیا کریں۔۔
سگریٹ نوشی دل پر انتہائی مضر اثرات مرتب کرتی ہے اس لیے اس بری عادت کو ابھی اسی وقت ہمیشہ کے لیے خیر باد کہیں جہاں سگریٹ تمباکو کا دھواں ہو وہاں سے بھاگ جایں کیوں کہ وہ بھی دل کو نقصان پہنچاتا ہے
نشہ آور ادویات کا استعمال دل کو مردہ بناتا ہے کوی بھی دوا کبھی بھی اپنی مرضی سے نہ لیں اکثر ادویات دل پر مضر اثرات مرتب کرتے ہیں۔سکون آور خواب آور گولیاں دل کے لیے بہت ہی مضر ہیں جو نوجوان نشہ آور ادویات کا استعمال کرتے ہیں وہ اپنے لیے ہارٹ اٹیک کی راہ ہموار کرتے ہیں
چیک اپ۔۔۔۔۔ہای بلڑ پریشر ایک خاموش قاتل ہے اس بیماری کی کوی خاص علامت نہیں ہوتی ہے یہ دل کا جانی دشمن ہے اسے قابو میں رکھنے کا ایک ہی طریقہ ہے
اپنا بلڑ پریشر چیک کریں اور اگر نارمل سے زیادہ ہو تو فوری طور کسی ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔اگر آپ نوجوان ہیں تو اپنا بلڑ پریشر بلڑ شوگر اور کولسٹرول و ٹرایگلیسیرایڑ کی سطح جانچ لیں اور اگر نارمل سے زیادہ ہے تو کسی ماہر معالج سے مشورہ کریں
شراب نوشی سے مکمل پرہیز کریں یہ ہم پر حرام ہے اس کے استعمال سے دل و جگر پر انتہائی مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں آپ کو سن کر حیرانی ہوگی اگرکوی شخص زندگی میں ایک بار شراب پی لے تو اس کے جگر کی بیاپسی سے پتہ لگ سکتا ہے کہ اس نے شراب نوشی کی ہے۔اس لیے شراب نوشی ممنوع ہے
پریشانی زہنی دباو سے بچنے کے لئے اپنی فیملی کے ساتھ وقت گزارنے کی کوشش کریں زیادہ سے زیادہ دوست بنانے کی کوشش کریں موبائل فون اور کمپیوٹر پر کم وقت گزاریں۔اپنے دماغ کو منفی خیالات سے آزاد رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں تاکہ بلڑ پریشر بلڑ شوگر قابو میں رہ سکے اور ہارٹ اٹیک کے امکانات نفی کے برابر ہو کم از کم سال میں ایک مرتبہ کسی معالج سے اپنا جنرل ہیلتھ چیک اپ کروایا کریں تاکہ بر وقت کسی خاموش بیماری کا پتہ چل سکے
اگر آپ نوجوان ہیں تو جو کہا گیا اس پر صد در صد عمل کریں اپنے پیارے دل کی طرف خصوصی توجہ دیں اسے اپنا قریبی دوست بنالیں وہ کبھی آپ کو دھوکہ نہیں دے گا ۔آپ کو کبھی ہارٹ اٹیک نہیں آیے گا کیونکہ دنیا بھر کے ماہرین نے تحقیقات سے ثابت کیا ہے کہ ہارٹ اٹیک سے بچنا ممکن ہے بشرطیکہ ماہرین کے وضع کردہ اصولوں پر سختی سے عمل کیا جائے۔ اب آپ کی مرضی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر آپ کے زہن میں کوئی سوال ہے تو فون نمبر9419004094 پر رابطہ کریں
