ابنِ رسول کے ناول
’’”سنیچر 2070 کی ایک سہانی شام ” ‘‘
سے متعلق ادارہ گزشتہ کئی ماہ سے تشہیر کرتا آرہا ہے اور اس حوالے سے کافی سارے قارئین کے فون اور وٹس ایپ پیغام بھی موصول ہوئے۔ جس میں انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ اس ناول کو جلد از جلد ادارہ شائع کر کے قارئین کی تشنگی دور کرے، قارئین کی اسی خواہش کے مدِ نظر بالاخر ادارے نے آج سے یہ ناول سلسلہ وار شائع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور آج کے شمارے میں اس کی پہلی قسط قارئین کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے اُمید ہے کہ اس ناول کو پڑھ کر آپ محظوظ ہونگے ارادہ ابن رسول کا از حد شکر گزار ہے کہ انہوں نے اعتماد جتاتے ہوئےندائے کشمیرکو رضامندی دے کر یہ اعزاز بخشا
اِبن رُسل سوپور
سنیچر کی شامیں ہمارے لئے یعنی ’’پرسنل خاوندوں ‘‘ کے لئے بڑی سہانی اور خوشگوار ہوتی ہیں ، لیکن بد قسمتی سے میں ابھی اس درجے پر فائض نہیں ہوا اور آپ کو بصد خلوص بتادوں کہ یہ ہماری شادمانی اور مسرت کی شامیں ہوتی ہیں اور ان میں نشہ ہو کہ نہ ہو لیکن ہم ذاتی شوہروں کو اس شام پئے بِنا بھی نشہ ہوتا ہے اور آپ سے کیا چھپانا جو شوہر نہیں بھی پیتا یا پینے کا عادی نہیں وہ بھی اپنی خوشی کے لئے ایک دو گھونٹ پی ہی لیتا ہے ، ہمیں ان شاموں کا اسی طرح انتظار رہتا ہے جس طرح کہتے ہیں کہ کبھی پچھلے زمانوں میں ’’مرد عاشق ‘‘کو اپنی معشوقہ کا رہتا تھا ، جیسا ہم نے بھی ماضی بعید کی کہانیوں جیسے لیلیٰ ،مجنون، شیریں فرہاد ، ہیر رانجھا وغیرہ کے بارے میں سنا ہے ، اور یہ بھی بتادیں کہ ان کہانیوں کو سن کر ہم ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوجاتے ہیں ، بلکہ ہم میں سے کئی ذاتی شوہر ، یا ذاتی نوکر ہنستے ہنستے بے ہو ش ہی ہو جاتے ہیں ، کیونکہ ہم یہ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ ان زمانوں میں آخر مر د، عورت کا رشتہ آخر تھا کیا اور کس قسم کا تھا ، بہر حال ہماری خوشی کی وجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ ہماری حالت بلکل ’’آقا گھر نہیں تو ہمیں کسی کا ڈر نہیں ‘‘ والی بات ہوتی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ اس شام ہماری میم صاحبائیں رات دیر گئے تک کلبوں اور رقص گاہوں میں اپنے دوستوں کے ساتھ موج مستیاں کرتی ہیں اور ہم اُن کے ہسبنڈ جو قانونی اور تحریری طور پر اپنی اپنی میم صاحب کے ساتھ بندھے رہتے ہیںاطمینان کی سانس لیتے ہیں ،اس شام میم صاحب کھانا بھی اُدھر تناول کرتی ہیں ، پہلے میں آپ کو تھوڈا سا پس منظر سمجھاؤں گا تاکہ آپ ان حالات سے تھوڈا بہت واقف ہوسکیں جن سے ہم گذر رہے ہیں ۔اس پس منظر سے آپ کے ذہن کی الجھنیں ایک تو رفع ہوجائیں گی اور دوسری یہ کہ آپ ۲۰۷۰ کو بھی سمجھ سکیں گے، آپ کے لئے ابھی اس زمانے تک پچاس برس کا فیصلہ ہے ۔ماضی قریب یا بعید کے بارے میں ہمار ے کتب خانوں میں بہت کچھ پایا جاتا ہے لیکن ابھی آپ کو مستقبل میں آنے والے پچاس برسوں کے رہن سہن پر شاید ہی کچھ نظر آئے اس لئے لازماً آپ کی سہولیت کے لئے تھوڈی سی واقفیت لازمی ہوجاتی ہے ، تو بات یوں ہے کہ میری عمر چوبیس برس کی ہے اور میں نے اپنے والد صاب سے سناتھا کہ جب میں چار برس کا تھا تو پارلیمنٹ میں یہ بل اکثریت سے پاس ہوا تھا جو صرف پانچ حروف پر مشتمل رہا تھا (آل رائٹس ریزروڈ فار لیڈیز) اب میں جان چکا ہوں کہ یہ دنیا کا مختصر ترین بل تھا جس سے قانون کی حیثیت دی گئی تھی۔۔ در اصل یہ بل پہلے باہری ممالک اور دیکھتے دیکھتے یہاں ہمارے ملک میں بھی پاس ہوا تھا ، کیونکہ اگر کوئی ملک (ڈی سی سنٹر )کو فالو نہیں کرتا تو اس کے لئے تمام پابندیا ںلازم ہوجاتی ہیں ، ساری دنیا کی جمہوری حکومتیں اس بل اور قانون کی پذیرائی کرتی رہتی ہیں کیونکہ اس کے بغیر ان کے پاس کوئی چارہ بھی نہیں ،اس قانون کے نتیجے میں آج ۲۰۷۰میں مجھے کہیں بھی کسی بھی آفس میں شاید ہی کوئی مرد ملازم نظر وں سے گذرتاہے کیونکہ جہاں اور جس آفس میں بھی مرد اور نوجوان اپنی عرضیاں لیکر پہنچتے ہیں وہاں کئی کئی مرد نما خواتین بھی آدھمکتی ہیں اور نوجوانوں سے کم تعلیم یافتہ یا کم نمبرات کے باوجود اس قانون کے نفاظ کی صورت میں وہ ملازمت حاصل کر لیتی ہے ،عورت ہونا ہی کافی ہے لیکن اسمیں ترجیح بھی خوبصورتی کو ہے اور جو جتنی زیادہ روشن خیال ہوگی اتنی ہی جلدی اس کی نوکری پکی ،، اب پچھلے کئی برسوں سے یہ حالت ہے کہ نوجوانوں نے کیمسٹری ، فزیکس ، بیالوجی اور دوسرے سبجیکٹس سے کنارہ کشی کر کے صرف کوکنگ یعنی( شیف )ہونے تک ہی اپنے آپ کو محدود کرلیا ہے جبکہ باورچی خانوں ، زچہ خانوں اور بچہ خانوں کے سوائے سبھی ’’خانوں ‘‘ کو عورت ہی دیکھ رہی ہے معاشر ے میں ان کی ڈیمانڈ بھی ہے اور بیویاں بھی ان کی اس لحاظ سے عزت کرتی ہیں کہ یہ سپیشلسٹ انہیں بڑے ہی مزے دار کھانے کھلانے میں یکتا ہوتے ہیں ، اچھے سے سرو کرتے ہیں ،لانڈری سنبھالتے ہیں جہاں تمام کپڑے معہ’’ برا اور انڈر ویرس ‘‘ بھی ان کے شوہر ہی دھوتے اور پریس کرتے ہیں۔ میں نے بھی غلطی سے کیمسٹری میں ایم ایس سی کیا تھا ، ٹاپ نمبرات لئے تھے ، لیکن دو برس دفتر دفتر کی خاک چھاننے کے بعد میں اسی نتیجے پر پہنچا کہ وقت ضائع کیا ہے ،بڑی جلدی میں نے چھ مہینے کا کوکنگ کورس کیا ، اور بس قسمت سے ہی اپنے ایک کلاس فیلو سے ملاقات ہوئی جو میرے ساتھ کالج میں پڑھتی رہی تھی اس ملاقات کی یادیں آج بھی میرے ذہن میں تازہ ہیں ، میں بڑا ہی مایوس تھا، پہلگام کے ایک بڑے ہوٹل میںاسسٹنٹ شیف کی ایک جگہ خالی ہوئی تھی اور میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ اس نوکری کے لئے قسمت آزمائی کروں ، بد قسمتی سے نوکری ملتے ملتے یوں رہ گئی کہ میں صرف کوکنگ میں ڈپلوما ہولڈر تھا اور میرے سامنے ایک اور جواں کھڑا تھا جس کے پاس پورے چا رسال کی ڈگری تھی، ہم دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ، میں نے اس کی آنکھوں میں بھی اداسی دیکھی اور شاید وہ میرے چہرے کو بھی پڑھ چکا تھا ، تعارف ہوا ، میں نے کہا ’’ میں ایم ایس سی کیمسٹری ہوں ،‘‘ اس نے سر جھٹک دیا جیسے کہہ رہا ہو کوئی فایدہ نہیں ، میں نے کہا’’ میں کوکنگ میں ڈپلوما ہولڈر بھی ہوں‘‘ ، اس نے سر کو ہلکی سی جنبش دی اور دھیرے سے کہا ۔
’’ یہ اچھی بات ہے دوست لیکن میں ڈگری ہولڈر ہوں ‘‘ اس نے ایک پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا ،، میں نے سر کو ہلکی سی جنبش دی اور بنچ سے اٹھ کھڑا ہوا ، اس نے میرا ہاتھ پکڑا ،’’دوست مجھے تمہارے غم کا اندازہ ہے لیکن میں دو دن سے بھوکا ہوں ، فیصلہ کرلو اس نوکری کی کس کو زیادہ ضرورت ہے ، تمہیں یا مجھے اور اگر تم تین دن سے بھوکے ہو تو میں تمہارے حق میں دست بردار ہوتا ہوں ، ‘‘ لہجہ بھی کمزور اور مدھم تھا ، شاید بھو ک نے اس سے کمزور کیا تھا میری آنکھیں نم ہوئی ، کیونکہ اب اس دور میں ہم نوجوان ایک دوسرے کا غم اور دکھ اچھی طرح سمجھ سکتے تھے اور پتہ نہیں کیوں ہمیں۔۔۔۔۔
(سلسلہ جاری
۔۔۔۔
