وادی کی آبی پناہ گاہوں کوتحفظ فراہم کرنے کے ضمن میں ہرممکن اقدامات اٹھائے جارہے ہیں/ صوبائی کمشنر
سرینگر/ 06 نومبر/جھیل ڈل کا بارہ مربہ کلو میٹر سکڑ جانے کے باوجود صوبائی انتظامیہ نے گرین ٹربونل کی سر زنش کے بعد جھیل ڈل سمیت چار آبی پناہ گاہوں کی اراضی پرکسی بھی طرح کے جبری قبضے کوخارج کرتے ہوئے کہاکہ صوبہ میں آبی پناہ گاہوں کے سلسلے میں کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیاجارہاہے ۔اے پی آ ئی نیوز ڈیسک کے مطابق صوبائی حکومت نے اس بات کاانکشاف کیاہے کہ جھیل ڈل سمیت چار آبی پناہ گاہوں کی اراضی پرکوئی بھی اراضی زبر دستی قبضے میں نہیں لے لی گئی ہے ،جبکہ صوبہ میں دس آبی پناہ گاہوں کو تحفظ فراہم کرنے کے ضمن میں ہرممکن اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ صوبائی کمشنر پی کے کولی کی صدارت میں میٹنگ منعقد ہوئی جس میں انکشاف کیاگیاہے کہ صوبہ میں دس آبی پناہ گاہوں میں سے چار کی اراضی پرقبضہ نہیں جمایاگیاہے ۔راجامظفر بٹ کی جانب سے گرین ٹربونل پلوشن نے کہا کہ جھیل ڈل ،ہوکرسراورشا ل بُگ کی آبی پناہ گاہوں کی اراضی پرقبضہ نہیں جمایاگیاہے۔ وائس چیئرمین واٹرڈیولپمنٹ اتھارٹی لاوڈانے بھی قلیل چٹ دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ آبی پناہ گاہو ںکی اراضی پرکوئی بھی زبردستی قبضہ اس وقت موجود نہیں ہے ۔جموںو کشمیر سرکارنے آبی پناہ گاہوں کو تحفظ فراہم کرنے اور ان کی عظمت رفتہ شان شوکت دوبارہ بحال کرنے کے ضمن میں متعلقہ اداروں کوجلدسے جلد اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی تھی اور گرین ٹربونل محکمہ نے بھی آبی پناہ گاہوں کے سکڑنے ان کی اراضی پرقبضہ جمانے کے سلسلے میں ناراضگی ظاہرکرتے ہوئے متعلقہ اداروں کی کارکردگی پرسوالیہ نشان لگایاتھاتاہم لاوڈا اور متعلقہ ادارو ںنے آبی پناہ گاہوں کی اراضی پرکسی بھی قبضے کومستردکرتے ہوئے کہاکہ مناسب اقدامات اٹھائے گئے ہیں ۔جھیل ڈل کے بارے میں کہا جارہاہے وہ 22مربہ لومیٹرپرپھیلاتھاجو اس وقت صر ف دس کلومیٹرمربہ علاقے پرموجود ہے اور بارہ مربہ کلومیٹر کی اراضی یاتودلدل میں تبدیل ہوگئی ہے یااس پرزبردستی قبضہ جمایاگیاہے ۔جموںو کشمیرمیں جھیل ڈل کوتحفظ فراہم کرنے کے لئے 1986سے مسلسل اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اور ہرسال اس ایشاء کی سب سے خوبصور ت جھیل کی صفائی عظمت رفتہ شان وشوکت بحال کرنے کے ضمن میں کروڑوں روپے خرچ کئے جارہے ہے تاہم جھیل ڈل ہرسال یاتو سکڑتی جارہا ہے یا پھر اس کی اراضی پرقبضہ جمانے کی کارروائیاں جاری رہتی ہے خوشحال سر ،ہوکرسر ،جھیل آنچار اور گاندربل میں موجود آبی پناہ گاہوں کی حات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اور ان آبی پناہ گاہوں کے سکڑنے دلدل میں تبدیل ہونے کے سلسلے میں اگر چہ بار بار سرکار کی توجہ مبزول کی جارہی ے تاہم ہرسال دعوے اور وعدے کئے جارہے ہیں اور عملی اقدامات اٹھانے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ے اور اب اس بات کاانکشاف کیاگیاہے کہ چار آبی پناہ گاہوں پرکو ئی قبضہ نہیں جمایاگیاہے ۔
