سرسید احمد خاں کا جدید تصور تعلیم و اصلاح ہندستانی تہذیب و معاشرہ 112

بگلے بھگت

کہانی کار۔۔۔خالد حسین

تعارف:۔
خالد حُسین ادبی دُنیا کی ایک معروف شخصیت ہیں اُن کا شمار برِ صغیر کے معتبر افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے وہ چالیس سال سے زائد عرصہ سے پنجابی اور اُردو زبانوں کی آبیاری کر رہے ہیں اُنہوں نے بہ یک وقت ایک کامیاب افسانہ نگار اور ترجمہ کار ہونے کا ثبوت دیا ہے اُنہیں ایک نڈر اور بےباک کہانی کار ہونے کا اعزار بھی حاصل ہے، اس وقت تک اُن کے قلم سے سولہ تصانیف تخلیق ہو چُکی ہیں جس میں ترجمے بھی شامل ہیں، اُن کی ادبی خدمات کے اعتراف میں کئی ادبی تنظیموں نے اُنہیں وقتاً فوقتاً اعزاز و اکرام سے نوازا ہے ۔۔۔ “جنت گرہن “اُن کا تازہ تر کہانیوں کا مجموعہ ہے، ندائے کشمیر خالد حُسین صاحب کی تخلیقات کو اپنے اخبار میں شامل کرنے پر فخر محسوس کرتا ہے پیش ہے اُن کی “جنت گرہن “سے ایک کہانی ۔۔۔۔،

 

برہم لوک کی لوک تانترک پرمپرایہ تھی کہ وہاں کے پردھان کاجب دیہانت ہوجاتاتوپرجاّکے پرتی نِدھیوں کی ایک میٹنگ بُلائی جاتی جونئے پردھان کاچنائو کرتی۔ایک بارجب برہم لوک کے پردھان کادیہانت ہوا تووہاں کی پرجاّکے پرتی نِدھی اپنانیاپردھان چُننے میں اسپھل رہے۔ اُنکی نظروں میں کوئی نیتاجچاہی نہیں۔راج سنگھاسن خالی رہنے کی وجہ سے جب ڈانواں ڈول ہونے لگاتوپرجاّ کے پرتی نِدھیوں نے فیصلہ کیاکہ اگلی صبح برہم لوک کی سرحدکے اندرجوپہلاآدمی داخل ہوگا ۔۔۔۔اُسے راج سنگھاسن پربٹھادیاجائے۔
اگلی سویر برہم لوک کی سرحدکے اندرجوپہلاآدمی داخل ہوا، وہ دھرتی ماتاپرجان نچھاورکرنے والاایک سادھوتھا۔بھگوے رنگ کالمباکُرتا اورململ کی دھوتی پہنے ،ماتھے پربھُبھوت اورہاتھ میں پیتل کاکمنڈل پکڑے ہوئے ۔ پرجاّ کے پرتی نِدھیوں نے اپنے دھرتی پُترکاروایتی ڈھنگ سے ہاردِک سواگت کیا اوراُسے بڑے آدرکے ساتھ راج سنگھاسن پربٹھادیا۔یوں سادھومہاراج برہم لوک کے نئے پردھان بن گئے۔
سنگھاسن پربیٹھتے ہی اُنہوں نے مردنگ بجایااورڈونڈی پٹوائی کہ وہ ہزاروں سال پرانی سبھیتا کے علمبردارہونے کے ناطے برہم لوک کوپراچین سنسکرتی کے اُجّول رنگوں میں رنگ دیں گے اوربیرونی حکمرانوں کی طرف سے بنائی گئی سبھی ملیچھ نشانیاں مٹادیں گے اوردھرتی ماتا کوپوتّر بنادیں گے اوربرہم لوک کوستیم،شِووم اورسُندرم میں تبدیل کردیں گے ،مگرراج محل میں داخل ہوتے ہی اُنکے کمنڈل کی پیتل دھاتوسونے میں بدل گئی اور دھوتی کی ململ ریشم میں۔ اُنکے لہوکارنگ سفیدہوگیا ،ہاتھی نُما کان بہرے ہوگئے ۔آنکھیں پتھرہوگئیں ۔اُنہوں نے برہم لوک کے سنویدھان میں سنشودن کرکے پرجاّ کوالگ الگ خانوں میں بانٹنے کاحکم دیاجس کارن پورے برہم لوک میں ہاہاکار مچ گیا۔ منووادی سوچ کے خلاف پردرشن ہونے لگے ۔جلوسوں اورہڑتالوں کے کارن کاروبارٹھپ ہونے لگا۔ مُدراکی در گِرنے لگی ۔آرتھک ستتھی کی ناگواری سے پرتی نِدھیوں کی دشواری بڑھنے لگی۔مہنگائی کی مارسے پرجاّ بُھک مری کاشکارہونے لگی۔ لیکن سادھومہاراج نے توراج محل سے باہرنکلناہی بندکردیاتھا۔ پردھان کے رویے کودیکھ کرپرتی ندھی پریشان ہوگئے۔پرجاّگونگے اوربہرے پردھان کے رنگ ڈھنگ دیکھ کر آگ بگولہ ہوگئی ۔ برہم لوک میں شانتی بھنگ ہونے لگی ۔ چیخ وپکار کاشورراج محل کی دیواروں سے ٹکراکرخاموش ہو جاتا۔کارن یہ تھاکہ راج محل کی دیواریں لوہے کی بنی تھیں اور لوہابہرے کانوں تک آوازوں کی رسائی نامُمکن بنادیتا۔ برہم لوک کی حالت دیکھ کرچوراچّکے چوہدری بن گئے لیکن سادھومہاراج کافرمان تھا کہ اُنکاراج اہنسا پرمودھرماکی مونہہ بولتی تصویر ہے۔پرجاّ کی دُکھدائی کیفیت اورپرتی نِدھیوں کاموہ بھنگ ہوتے دیکھ کرشترُو ایک بڑی فوج کے ساتھ برہم لوک پرچڑھ دوڑا اورسرحدی چوکیوں کوتباہ کرتاہوا راج محل تک آپہنچا۔ شترُونے اگن بان توپوں اورٹینکوں سے راج محل کی فولادی دیواریں توڑدیں۔ پرجاّ کے پرتی نِدھی گبھرائے ہوئے یہ سُوچنا دینے پردھان کے پاس گئے لیکن سادھُو مہاراج نے اُن کی باتوں پرکوئی دھیان نہیں دیا۔لوہے کی دیواریں گِرتے ہی شترو اپنی فوج کے ساتھ راج محل میں داخل ہوگیا۔پرجاّ کے پرتی نِدھی ایک بارپھرچیختے چلاتے سادھومہاراج کے پاس پہونچے اور تازہ سِتتھی کی جانکاری دینے لگے پربہرے اورگونگے پردھان کے کانوں پرجُوں تک نہ رینگی۔ جب شتروپردھان کے سنگھاسن کی طرف بڑھنے لگاتو دُکھی پرتی نِدھی سادھومہاراج کے پاس آئے اوراُنھیں جھنجھوڑ کربتانے لگے کہ شترُو نے راج سنگھاسن پرقبضہ کرلیاہے اوروہ اب آپکوبندھی بنانے کے لئے آرہاہے۔
ایک دم سادھومہاراج کے بہرے کان سُننے لگے ۔رگوں میں دوڑتالہو اپنی اصلی رنگت میں آگیا ۔ اُس نے سیوادار سے اپنے پیتل کاکمنڈل منگوایاکہ جِس پر سونے کارنگ چڑھ گیاتھا ۔ اُسے پکڑااور پراچین کال کی پرمپرا انُوساردونوں ہاتھ جوڑکرسب کوپرنام کیا اوردھوتی سنبھالتے ہوئے اوروندے ماترم کہتے ہوئے چوردروازے سے وِندرابن کی اورچل دیئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں