ڈاکٹر نذیر مشتاق
خون
خواجہ شمس الدین کرمانی اپنی حویلی کے دروازے پر کھڑا غصے سے تھرتھرا رہا تھا ۔اس کی بیٹی اپنے سات سالہ بیٹے کے ساتھ اس کے سامنے گڑگڑا رہی تھی اور خواجہ ایک ہی جواب دے رہا تھا۔
تم اس حویلی میں قدم نہیں رکھ سکتی ہو تم اپنے گھر سے بھاگ گئ اور ایک انتہائی نیچ ذات سے تعلق رکھنے والے مرد سے شادی کرلی تمہارے اس بیٹے کی رگوں میں اسی نیچ کا خون ہے تم اس پاک حویلی میں کیسے قدم رکھ سکتی ہو ۔۔بیٹی نے منتیں کیں کہ کم از کم نواسے کو معاف کریں کیونکہ اس کا باپ خون کے سرطان میں مبتلا ہونے کے بعد زندگی کی جنگ ہار گیا ہے مگر خواجہ پر کوئی اثر نہیں ہوا ۔۔
اس کی بیٹی مریم نا امید ہوکر واپس اپنے گھر گلاب گڑھ چلی گئی اورپھر سے اسی فلیٹ میں رہنے لگی جس میں شادی کے بعد اپنے شوہر کے ساتھ رہتی تھی ۔۔۔۔
دو روز بعد خواجہ ایک تبلیغی مجلس میں شرکت کرنے جا رہا تھا ۔۔۔ اچانگ ایک المناک حادثہ پیش آیا ۔ڈرایور کی موقعہ پر ہی موت ہوگئ اور خواجہ شدید زخمی ہوا
اسپتال میں اسے خون کی ضرورت پڑی اور اس کی جان بچ گئی
اسپتال میں وہ رخصتی سے پہلے ڈاکٹر شاہنواز کا شکریہ ادا کر رہا تھا۔۔۔۔ ڈاکٹر تم نے میری جان بچائی۔۔شکریہ ۔۔۔ ڈاکٹر نے جواب دیا ۔۔۔میرا نہیں آپ ان کا شکریہ ادا کریں جنہوں نے آپ کو بچانے کےلئے اپنا خون دیا۔
کون ہے وہ۔۔۔۔۔۔خواجہ کے الفاظ میں تجسس
محمد شیخ جو اس ہسپتال میں خاک روب ہے نے آپ کی زندگی بچا لی اس کا بلڈ گروپ آپ کے بلڈ گروپ سے میچ ہوگیا
اس کا مطلب یہ ہے کہ میری رگوں میں ایک نیچی زات سےتعلق رکھنے والے کا خون ہے۔۔۔۔خواجہ نے نفرت سے کہا۔
جی ہاں خون تو سب کا ایک ہی ہوتا ہے ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے کا خون لال ہوتا ہے بنیادی طور پر ہم سب ایک ہیں ۔انسان۔۔ خون تو ہم سب کا ایک ہی ہے۔۔۔۔ ڈاکٹر کہے جا رہا تھا اور خواجہ کسی گہری سوچ میں گم تھا وہ اچانگ وہاں سے چلا گیا۔
وہ ہسپتال سے گھر جارہا تھا اس کے کانوں میںڈاکٹر کے االفاظ بار بار گونج رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔اچانک اس نے ڈرائیور سے کہا۔۔۔۔۔۔ڈرائیور گلاب گڑھ چلو ۔
سماج
معصومہ میرے چیمبر میں میرے سامنے کرسی پر بیٹھی تھی۔۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔
کیا ہوا۔۔۔میں نے ہمدردانہ لہجے میں پوچھا۔
ڈاکٹر صاحب۔میری منگنی ٹوٹ گئی۔۔۔اس نے رومال سے آنسو پونچھتے ہوئے کہا مگر آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔مگر کیوں۔۔میں نے حیران ہو کر پوچھا۔
میں دس دن پہلے آپ کے پاس آئی تھی اور آپ سے کہا تھا ۔۔کہ مجھے نیند نہیں آتی۔۔گھبراہٹ سی ہوتی ہے۔
کسی کام میں دل نہیں لگتا ہے۔۔آپ نے پھر بہت سارے سوالات پوچھے اور مجھ سے کہا کہ یہ معمولی ڈپریشن ہے تم ایس ایم ایچ ہسپتال کے شعبہ امراض نفسیات(Mental disease counseling clinic (. میں جاو وہاں لیڈی ڈاکٹر ہیں جو کونسلنگ کرتی ہیں۔
تمہیں ابھی دوائیوں کی ضرورت نہیں ہے صرف کونسلنگ ہی کافی ہے۔۔۔میں دوسرے دن وہاں گئی۔وہاں ایک لیڈی ڈاکٹر نے میری ہر بات بڑے غور سے سنی اور مجھے ہر ہفتہ آنے کو کہا۔۔مجھے لگا کہ اس ڈاکٹر کی کونسلنگ سے میری زندگی کا رخ بدل جائے گا اور میں شادی کے بعد ایک خوشگوار زندگی بسر کروں گی۔وہاں سے نکلتے وقت مجھے سسرال والوں کے ایک دور دراز رشتہ دار نے دیکھ لیا۔اس نے مجھے بڑے غور سے دیکھااور چلا گیا۔
دو دن بعد ہم سب گھر میں بیٹھے تھے کہ میرے سسرال والوں کی طرف سے ایک آدمی آیا۔۔۔اور کہا۔
میں ان کا پیغام لایا ہوں اب یہ رشتہ نہیں ہوسکتا ہے۔
مگر کیوں میرے باپ نے حیران ہو کر پوچھا۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک پاگل لڑکی کو اپنی بہو نہیں مان سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔معصومہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور میں بےبسی سے اسے دیکھتا رہا۔۔۔۔اور سوچنے لگا کہ ہمارا سماج ابھی تک کتنے اندھیرے میں ہے۔۔۔۔۔
اثر
وہ سب لوگ مختلف ملکوں سے کام کرنے کویت آئے ہوئے تھے ان کا سربراہ ایران کے صوبہ بلوچستان سے آیا ہوا تھا اسکا نام جمال الدین یوسف زئی تھا مگر اس کے زیرِ نگرانی کام کرنے والے سبھی ملازم اسے واجہ کے نام سے پکارتے تھے وہ ہر کسی کا خاص خیال رکھتا تھا لیکن اسے سب کے بارے میں پوری واقفیت نہیں تھی اس نے انہیں ایک وسیع وعریض ہال میں رہنے کے لئے جگہ دی تھی وہ لوگ صبح سے شام تک کام کرتے اور ایک مخصوص ہوٹل میں کھانا کھاکر ہال میں آرام کرتے اور وہیں سوجاتے۔۔۔۔ہر کوئی خوش تھا کسی کو کوئی شکایت نہیں تھی واجہ بھی ہر کسی سے راضی تھا۔۔۔اچانک ملک میں وبا پھیلی اور سبھی ملازموں کو ہال کے اندر قید کیا گیا۔۔۔واجہ نے ہدایات جاری کیں کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی بھی ملازم باہر نہ جائے۔۔۔۔لاکڈاون جاری تھا
وہ سبجوان تھے ان کے پاس کھانے پینے کا سامان ختم ہونے لگا سگریٹ کے عادی جوانوں کو سگریٹ نہیں مل رہے تھے وہ عجیب سا زہنی دباو محسوس کرنے لگے۔۔ہر کوئی بیقراری محسوس کرنے لگا۔۔۔۔ واجہ کو ان کی حالت پر رحم آرہا تھا مگر کرتا کیا باہر سب دکانوں پر تالے لگے ہوئے تھے۔ ہر طرف ویرانی سی چھائی ہوئی تھی۔۔۔۔واجہ نے دیکھا کہ کوئی رو رہاہے کوئی اپنے بال نوچ رہا کوئی پاگلوں جیسی حرکتیں کر رہا ہے کوئی اوندھے منہ لیٹے آنسو بہا رہا ہے لگتا ہے ہر کوئی زندگی سے اکتا گیا ہے لاک ڈاؤن سے سبھی تنگ آ چکے ہیں ایک کونے میں واجہ نے ایک نوجوان کو دیکھا وہ خوش نظر آرہا تھا وہ اپنے ٹرانزسٹر سے گانے سن رہا تھا اس پر مہینوں سے جاری لاک ڈاؤن کا زرہ بھر بھی اثر نہیں ہوا ہے۔۔عجیب بات ہے ۔۔۔واجہ حیرانگی کے عالم میں اس کے قریب گیا اور اس سے کہا۔ یار اتنی دیر سے لاک ڈاؤن جاری ہے یہاں سب ملازم قید میں رہ کر پاگل ہوگئے ہیں صرف ایک تم ہو تم پر زرہ بھی اثر نہیں ہوا ہے آخر وجہ کیا ہے تم کون ہو کہاں سے آئے ہو۔
نوجوان نے ٹرانزسٹر کا والیوم کم کیا اور مسکراتے ہوئے واجہ سے کہا۔۔۔میں کشمیری ہوں وادی کشمیر سے آیاہوں۔۔۔۔
امام
عصر کے وقت مسجد میں مقتدی امام کے منتظر تھے۔مسجد کے صدر کو فون پر اطلاع ملی کہ امام صاحب کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی ہے۔۔۔ اب سوال یہ تھا کہ نماز کون پڑھائے۔ صدر نے ادھر ادھر نظریں دوڑائیں مگر کوئی فیصلہ کرنے میں ناکام رہا۔۔۔۔۔مسجد میں محلے کا ایک تعلیم یافتہ نوجوان موجود تھا وہ کچھ سوچ کر صدر صاحب کے نزدیک گیا اور دھیمی آواز میں ان کو تجویز پیش کی۔ آپ اس یونیورسٹی کے پروفیسر سے کہیں کہ وہ نماز پڑھائیں۔ وہ ایک یونیورسٹی میں اسلامک سٹیڈیز کے سربراہ ہیں ۔انہوں نے قرآن مجید کا ترجمہ کیا ہے اور اسلامیات پر دس بارہ کتابیں لکھی ہیں ۔بہت بڑے مذہبی عالم ہیں ۔آپ ان سے گزارش کریں وہ ضرور مان جائیں گے۔۔۔ یہ سن کرصدر نے اپنی لمبی داڑھی پر دایاں ہاتھ پھیرا اور مذہبی عالم کا دور سے ہی بغور جائزہ لیکر نوجوان سے کہا۔۔۔ برخورداریہ کیا نماز پڑھائے گا اس کی تو داڑھی نظر ہی نہیں آتی ہے ۔سر پر ٹوپی نہیں ہے اور اس کی شلواردیکھو کہاں ہے۔۔۔۔ اچھا چلو تمہاری بات مان لیتے ہیں مگر پہلے یہ تو بتاؤ کہ یہ مذہبی عالم کس فرقے سے تعلق رکھتا ہے۔۔۔ آخر امامت کا سوال ہے۔۔۔
رشتہ
مومن جان ٹیلی ویژن پر اشتہار دیکھ کر بیقرار ہوگیا۔۔اس نے پہلو بدلا اور آنکھیں بند کرکے ماضی کے دھندلکوں میں کھو گیا۔۔۔۔سرلا بچپن میں اس کے ساتھ کھیلتی تھی وہ بنسی لعل کی بیٹی تھی ۔بنسی لعل اپنی بیٹی کے ساتھ ساتھ مومن جان کو بھی پڑھاتا تھا خالی وقت میں سرلا اور مومن ساتھ ساتھ آنگن میں کھیلا کرتے بنسی لعل اور اس کی دھرم پتنی رادھا دیوی کو کبھی کوئی اعتراض نہیں تھا۔۔۔۔ دونوں ایک دوسرے کے گھر آتے جاتے اور دونوں ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے تھے۔۔۔۔ اچانک ایک زوردار آندھی چلی اور زبردست طوفان آیا۔۔سب کچھ بکھر گیا ۔۔۔۔۔بنسی لعل کو رات کے اندھیرے میں اپنی فیملی کے ساتھ گھر چھوڑ کر ٹنل کے اس پار جانا پڑا۔۔۔ مومن جان کو دوسرے دن پتہ چلا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رو یا۔۔۔۔۔۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی آنکھوں کے آنسو خشک ہو گیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آجٹیلی ویزن اسکرین پر اشتہار دیکھ کر اسے سرلا کی یاد آگئی اور اس کی آنکھوں میں آنسو چھلکنے لگے۔۔۔۔۔وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور اپنے دوست جو ایر پورٹ پر سیکورٹی آفیسر ہے کو فون کیا۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بذریعہ جہاز جموں پہنچا اور سیدھے اسی ایڈریس پر گیا جو اشتہار میں دیکھ کر نوٹ کیا تھا۔۔۔۔۔ وہاں پہنچ کر اس نے بنسی لعل اور اس کی پتنی رادھا دیوی کو پہچان لیا حالانکہ ان دونوں نے بڑھاپے میں قدم رکھا تھا۔۔۔۔۔ اس نے بنسی لعل کے سامنے کھڑے ہو کر اداب بجا لایا۔۔۔۔۔۔ وہ اسے حیرت سے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔ مومن جان نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔ میں مومن جان آپ کا ہمسایہ۔ سرلا اور میں آپ کے پاس پڑھتے تھے۔۔۔۔۔ بنسی لعل اچانک اس سے بغل گیر ہوا۔۔۔۔ ارے تم۔یہاں کیسے ۔۔۔۔۔ ہم اس وقت پریشانی میں مبتلا ہیں۔سرلا کی آج صبح ڈیلیوری ہوگئی۔ پتہ نہیں کیا ہوا کہ خون بہت زیادہ بہہ گیا اور وہ بےہوش ہوگی۔۔۔۔۔اس کے خون کا گروپ نایاب ہےاسپتال میں موجود نہیں ہے اسی لیے ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر اشتہار دیا تھا مگر ابھی تک کوئی ڈونر نہیں آیا۔
میں آیا نا۔۔میرا اور سرلا کا بلڈ گروپ ایک ہی ہے میں اپنی بہن کو اپنا خون دینے آیا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وزن
جمال الدین نظمی اس دفتر میں سیکشن آفیسر کی حیثیت سے کام کر رہا تھا۔وہ دو چیزوں کا زبردست شوقین تھا ایک رشوت لینے کا اور دوسرا کھانے پینے کا وہ۔کسی بھی سائیل کی فایل آگے نہیں بڑھاتا تھا جب تک وہ اس سے اچھی خاصی رقم اینٹھ نہ لیتا۔۔ اس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ ہر سائیل سے کہتا۔۔۔ صاحب فائیل پر وزن رکھےپھر دیکھیے۔۔۔ یہ چلے گی نہیں دوڑے گی۔جتنا زیادہ ویٹ اتنا کم ویٹ کرنا پڑے گا۔۔ فایل پر زیادہ سے زیادہ وزن رکھیں پھر دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔۔رشوت کے پیسوں سےوہ انواع اقسام کی ضیافتیں کھاتا اس لیے اس کا وزن سو کلو کے قریب ہو گیا تھا۔۔۔اس نے دفتر میں رشوت لینے کے تمام ریکارڈ توڑے تھے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد وہ بہت اداس رہنے لگا تھا کیونکہ اب وہ اوپر کی کمائی سے بالکل محروم ہوچکا تھا۔۔۔۔اس لیے وہ مقامی مسجد کے انتظامی امور میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگا تھا یہاں بھی اس کا ٹارگٹ مسجد کی انتظامیہ کمیٹی کا صدر بننا تھا۔۔۔اس روز وہ نماز ادا کر کے مسجد سے نکل رہا تھا کہ اس کے سینے میں شدید درد اٹھا اور وہ چکراکر بیہوش ہوگیا۔۔۔
اسپتال میں اس کے سارے ٹیسٹ کیے گئے پتہ چلا کہ وہ ایک ایسی بیماری میں مبتلا ہو گیا ہے جس میں مریض کو بالکل بھوک نہیں لگتی ہے اگر کچھ کھانے کی کوشش کرے تو اس پر مرگی جیسے دورے پڑتے ہیں اور وہ چیخنے چلانے لگتا ہے اپنے بال نوچتا ہے اس کا وزن دھیرے دھیرے کم ہو جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ایک ہڑیوں کا ڈھانچہ بن کے رہ جاتا ہے۔ ڈر کے مارے کوئی اس کے قریب نہیں آتا ہے۔ ایک ڈاکٹر نے اس کے تیمارداروں سے کہا ابھی تک اس بیماری کے لیے کوئی دوا موجود نہیں ہے۔۔۔
المیہ
بارات منزل کے قریب آچکی تھی اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوا دولہے کے ساتھ دس براتی موقع پر ہی دم توڑ بیٹھے باقی تیس باراتی شدید زخمی ہوگئے۔ سجی سنوری دلہن وداع ہونے سے پہلے ہی بیوہ ہوگیی ہر کوئی دم بخود رہ گیا ہر کوئی سوچ رہا تھا کہ ایسا ظلم کون کرسکتا ہے ہر ایک کے دماغ میںشک کی سوئی گھوم رہی تھی مگر کوئی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ رہا تھا کچھ دنوں کے بعد مقامی پولیس اسٹیشن کے نوجوان آفیسر نے گرینیڈ پھینکنے والے نوجوان کو گرفتار کیا تفتیش کے دوران اس نے قبول کیا کہ وہ دلہن کا پہلا عاشق تھا۔۔۔۔۔
