جموں وکشمیر میں چالیس فیصدطلاب کوسمارٹ فون تک رسائی حاصل نہیں وبائی بیماری پھوٹ پڑے کے بعد سرکاری اسکولوں میں زیرتعلیم کی تعدادتیزی کے ساتھ گھٹ رہی ہے /اسراء پورٹ سرینگر/ 22 نومبر/کرونا وائرس کی وبائی بیماری کے دوران ملک بھر کی طرح جموں وکشمیر میں بھی تعلیمی سرگرمی کوبڑے پیمانے پردھچکالگ گیاپچھلے دوبرسوں سے سرکاری اسکولوں سے زیر تعلیم طلاب کی تعداد میں مسلسل کمی آرہی ہے حالانکہ جموں وکشمیر میں نونہالوں کوسرکاری اسکولوں کی طرف مائل کرنے کے لئے محکمہ تعلیم کی جانب سے انرول منٹ مہم کاآغاز زوروشورسے کیاگیاہے اور امید کی جارہی ہے کہ اب والدین اپنے نونہالوں کوسرکای اسکولوں میں داخلہ دلانے کے لئے آگے آئے گے تاکہ سرکاری اسکولوں میں تعلیم کے میعار کوبلندیوں تک پہنچایاجاسکے۔اے پی آئی یوز ڈیسک کے مطابق دنیابھر کی طرح کروناوائرس کی وبائی بیماری پھوٹ پڑنے کے بعد جموںو کشمیر میں بھی تعلیمی سرگرمیاں بری طرح سے متاثرہوئی اگرچہ درس وتدیس کویقینی بنانے کے لئے اقدامات اٹھائے گئے تاہم تازہ سروے رپورٹ میں اس بات کاانکشاف کیاگیاہے کہ جموں وکشمیر میں 60-65%طلاب کی سمارٹ فون تک رسائی ہے اور 35-40%طلاب جہاں سمارٹ فون سہولیت سے محروم ہے وہی آن لائن درس وتدریس حاصل کرنے کے لئے ان کے پاس سہولیات دستیاب نہیں ہے ۔آن لائن درس وتدریس کی سہولیات کئی وجوہات کی بناء پرمتاثرہوتی ہے جسکے نتیجے میں دوردرازعلاقوں میں رہنے والے اور غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرنے والے غریبوں کے طلاب آن لائن درس وتدریس کا حاصل کرنے میں کامیاب نہیںہورہے ہے ۔سروے رپورٹ کے مطابق چالیس فیصد طلاب کے پاس سمارٹ فون کی عدم دستیابی ہے اور کروناوائرس کی وبائی بیماری پھوٹ پڑنے کے بعد 2019-20اور 21کے 11ماہ کے دوران سرکاری اسکولوں سے طلاب کی تعداد گھٹنے میںبہت زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔سروے رپورٹ کے مطابق چھ سے 14سال عمر کے بچے سال 2020میں کروناوائرس کی وبائی بیماری پھوٹ پڑنے کے بعد سرکاری اسکولوں سے داخلہ منسوخ کرانے میں پیش پیش رہے اور ان کی شرح 57-55%تک بتا ئی جاتی ہے، جبکہ 5-16سال تک کے عمر کے 32.5%سرکاری کالنیوں میں زیرتعلیم طلاب نجی اورکوچنگ سینٹروں میں درس تدریس سے آراستہ ہورہے ہے اور مجموعی طور پردوبرسو ںکے دوران سرکاری اسکولوں سے طلاب کے نکل جانے نجی اسکولوں یا کوچنگ سینٹروں کی طرف راغب ہونے میں اضافہ ہواہے جومستقبل کے حوالے سے تشویشناک ہے ۔18% طلاب ایسے ہیں جواسکولوں میں درس وتدریس کی طرف متوجہ ہی نہیں ہورہے ہے صورتحال کاایک پہلویہ بھی ہے کہ آن لائن درس وتدریس شروع ہونے کے بعد انڈکس بک پرطلاب توجہ نہیں دے رہے ہے جوایک خطرناک روحجان ہے اورماہرین کامانناہے کہ سمارٹ فون کازیادہ استعمال ہونے اسطرح کی اور جورپورٹ شائع کئے اسمیں ادارے نے تین ہزار لوگوں جن میں اساتذہ والدین طلاب شامل ہیں کے ساتھ بات کی جس نے اس بات کاانکشاف کیاکہ چھ برسو ںکے دوران جموں وکشمیرمیں سرکاری اسکولوں میں طلاب کی تعداد کم ہوتی جارہی ہیں ۔ 88

جموں وکشمیر میں چالیس فیصدطلاب کوسمارٹ فون تک رسائی حاصل نہیں

وبائی بیماری پھوٹ پڑے کے بعد سرکاری اسکولوں میں زیرتعلیم کی تعدادتیزی کے ساتھ گھٹ رہی ہے /اسراء پورٹ

سرینگر/ 22 نومبر/کرونا وائرس کی وبائی بیماری کے دوران ملک بھر کی طرح جموں وکشمیر میں بھی تعلیمی سرگرمی کوبڑے پیمانے پردھچکالگ گیاپچھلے دوبرسوں سے سرکاری اسکولوں سے زیر تعلیم طلاب کی تعداد میں مسلسل کمی آرہی ہے حالانکہ جموں وکشمیر میں نونہالوں کوسرکاری اسکولوں کی طرف مائل کرنے کے لئے محکمہ تعلیم کی جانب سے انرول منٹ مہم کاآغاز زوروشورسے کیاگیاہے اور امید کی جارہی ہے کہ اب والدین اپنے نونہالوں کوسرکای اسکولوں میں داخلہ دلانے کے لئے آگے آئے گے تاکہ سرکاری اسکولوں میں تعلیم کے میعار کوبلندیوں تک پہنچایاجاسکے۔اے پی آئی یوز ڈیسک کے مطابق دنیابھر کی طرح کروناوائرس کی وبائی بیماری پھوٹ پڑنے کے بعد جموںو کشمیر میں بھی تعلیمی سرگرمیاں بری طرح سے متاثرہوئی اگرچہ درس وتدیس کویقینی بنانے کے لئے اقدامات اٹھائے گئے تاہم تازہ سروے رپورٹ میں اس بات کاانکشاف کیاگیاہے کہ جموں وکشمیر میں 60-65%طلاب کی سمارٹ فون تک رسائی ہے اور 35-40%طلاب جہاں سمارٹ فون سہولیت سے محروم ہے وہی آن لائن درس وتدریس حاصل کرنے کے لئے ان کے پاس سہولیات دستیاب نہیں ہے ۔آن لائن درس وتدریس کی سہولیات کئی وجوہات کی بناء پرمتاثرہوتی ہے جسکے نتیجے میں دوردرازعلاقوں میں رہنے والے اور غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرنے والے غریبوں کے طلاب آن لائن درس وتدریس کا حاصل کرنے میں کامیاب نہیںہورہے ہے ۔سروے رپورٹ کے مطابق چالیس فیصد طلاب کے پاس سمارٹ فون کی عدم دستیابی ہے اور کروناوائرس کی وبائی بیماری پھوٹ پڑنے کے بعد 2019-20اور 21کے 11ماہ کے دوران سرکاری اسکولوں سے طلاب کی تعداد گھٹنے میںبہت زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔سروے رپورٹ کے مطابق چھ سے 14سال عمر کے بچے سال 2020میں کروناوائرس کی وبائی بیماری پھوٹ پڑنے کے بعد سرکاری اسکولوں سے داخلہ منسوخ کرانے میں پیش پیش رہے اور ان کی شرح 57-55%تک بتا ئی جاتی ہے، جبکہ 5-16سال تک کے عمر کے 32.5%سرکاری کالنیوں میں زیرتعلیم طلاب نجی اورکوچنگ سینٹروں میں درس تدریس سے آراستہ ہورہے ہے اور مجموعی طور پردوبرسو ںکے دوران سرکاری اسکولوں سے طلاب کے نکل جانے نجی اسکولوں یا کوچنگ سینٹروں کی طرف راغب ہونے میں اضافہ ہواہے جومستقبل کے حوالے سے تشویشناک ہے ۔18% طلاب ایسے ہیں جواسکولوں میں درس وتدریس کی طرف متوجہ ہی نہیں ہورہے ہے صورتحال کاایک پہلویہ بھی ہے کہ آن لائن درس وتدریس شروع ہونے کے بعد انڈکس بک پرطلاب توجہ نہیں دے رہے ہے جوایک خطرناک روحجان ہے اورماہرین کامانناہے کہ سمارٹ فون کازیادہ استعمال ہونے اسطرح کی اور جورپورٹ شائع کئے اسمیں ادارے نے تین ہزار لوگوں جن میں اساتذہ والدین طلاب شامل ہیں کے ساتھ بات کی جس نے اس بات کاانکشاف کیاکہ چھ برسو ںکے دوران جموں وکشمیرمیں سرکاری اسکولوں میں طلاب کی تعداد کم ہوتی جارہی ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں