انشائیہ۔۔۔ بس چار دن 80

گائے بھی چوری ہوئی

ایس معشوق احمد

ذکر پچھلی صدی کا نہیں بلکہ پچھلے سال کا ہے کہ چوروں کا دبدبہ زوروں پر تھا۔ہر وہ شئے چرا لی جاتی تھی جو گھر میں یا گھر سے باہر آنگن میں ،سڑک پر دکھائی دیتی تھی۔نومبر کا ذکر ہے کہ ایک چور پارٹی نے راتوں میں گشت کرنے کیا شروع کئے کہ دیکھتے ہی دیکھتے ہر گھر سے صبح رونے کی آوازیں زور زور سے آتی تھیں۔حال احوال پوچھنے پر معلوم ہوتا تھا کہ چوروں نے سونا چرایا ہے، برتن غائب ہیں ،آنگن میں اسکوٹر رکھا تھا وہ چوری ہوگیا ہے، دکان کا تالا ٹوٹا ہوا ہے، غرض ہر وہ شئے جو قیمتی تھی چوری کر لی جاتی تھی۔چوری چکاری کا سیزن تھا اور ہر طرف واویلا مچی ہوئی تھی۔روز خبر آتی تھی فلاں گھر میں چوری کی واردات ہوئی ہے اور فلاں شئے غائب ہے۔ہمارے گھر میں بھی ایک دو وارداتیں ایسی رونما ہوئیں لیکن رونے کی آوازیں اتنی بلند نہیں ہوتی تھی کہ صبح سویرے لوگوں کی نیند میں خلل واقع ہوجائے۔ایک دن یہ خبر آئی کہ گھر میں برتن کے علاوہ گیس سلنڈر چوری ہوا ہے۔ صبر و قناعت کے سوا چارہ نہ تھا وہی کیا گیا۔چند ماہ گزر گئے اور یہ خبر بھی لوگوں کے کانوں تک پہنچی کہ بائسیکل چوری ہوگیا ہے۔ خود ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی، پولیس کے پاس رپورٹ لکھائی گئی لیکن وہ رپورٹ صرف سفید کاغذ کونیلی سیاہی سے آلودہ کرنے تک محدود رہی۔برتن چوری ہونے پر عورتوں نے چند آنسوں تو بہائے تھے کیونکہ برتن انہیں عزیز تھے لیکن جب بائسیکل چوری ہوئی تو خاموشی چھائی ہوئی تھی اور بس مردوں کے ماتھے شکن آلود تھے۔چچا کا برا حال تھا کیونکہ وہی بہ نفس نفیس اس بائسیکل پر کام کے لیے نکل جاتے تھے۔روٹی ختم ہوئی چچا نے بائسیکل نکالی، کہیں جانا ہے چچا نے بائسیکل چمکائی کپڑے پہنے اور نکل گئے۔افسوس تھا تو چچا کو کہ اس کی سب سے پیاری اور قیمتی شئے چوری ہوگئی تھی۔
ایک دن اذان کے بعد زور شور سے رونے کی آوازیں سماعتوں سے ٹکرائی۔وسوسوں سے برا حال ہوا کہ خدا خیر کرے کوئی رشتہ دار مر نہ گیا ہو یا کوئی ہمسایہ عزرائیل سے ملاقات کا خواہشمند تو نہیں تھا۔ جلدی جلدی کپڑے پہنے کے بعد جوں ہی گھر سے باہر نکلے تو پتا چلا کہ گائے بھی چوری ہوگئی ہے۔ یہ چوری کسی سانحے سے کم نہ تھی اور باقی تمام چوریاں اس کے مقابلے میں چھوٹی تھیں۔صرف ہماری گائے ہی نہیں بلکہ چند ہمسائیوں کے اصطبل بھی خالی کئے گئے تھے۔پچھتاوا بہت ہوا اور گھر میں تعزیت کا سا ماحول بنا۔جس طرح کوئی فوت ہوجائے تو مرنے والے کے اوصاف گنائے جاتے ہیں اور دعا مغفرت کی جاتی ہے اسی طرح ہمسائیوں نے گھر آکر گائے کی رنگت،دودھ دینے کی مقدار ،گھاس کھانے کی رفتار غرض گائے کی خوبیوں کا خوب چرچا کیا۔کچھ چوروں کو بھی کوستے تھے تو کچھ انسانوں کو دعائیں دیتے تھے کہ انسان بچ گئے ہیں اس کا شکر کرنا چاہیے۔ایسے بھی آئے جنہوں نے بہت سارے گائے چوری کے قصے سنائے۔قادر بادشاہ جس کا اصل نام عبدل قادر خان تھا نے قصہ سنایا کہ جب ہمارے گھر میں چوری ہوئی اور گائے کے ساتھ ساتھ دو بیل بھی چوری ہوئے تو میں بہت رویا۔ اس سے قبل میں زندگی میں کبھی نہیں رویا تھا۔بسیار تلاش کے باوجود کوئی پتہ نہ ملا تو میں نے پھٹی ٹوپی اور پرانا پھیرن زیب تن کیا اور گھر گھر جاکر بھیک مانگنے لگا۔شام کو جو کچھ جمع ہوتا تھا وہ محلہ کی مسجد شریف کو دے آتا تھا۔دو ماہ اسی فقیری میں گزرے گئے، کچھ ہاتھ نہ آیا ۔ایک دن میں دور دراز کے گاوں میں دن کے قریبا دو بجے ایک گھر کے آنگن میں پہنچا تو میں نے اپنے چہتے بیل کو دیکھا۔میں خوشی سے جھوم اٹھا اور اس گھر پر نشان لگا کر جلدی جلدی اپنے گھر واپس آیا۔نئے کپڑے پہنے اور نشان زدہ گھر کی طرف روانہ ہوا۔جوں ہی اس آنگن میں پہنچا تو ایک آدمی نظر آیا،جس نے بارعب اور آواز بلند میں پوچھا کہ کیا چاہیے اور ادھر ادھر کیا ڈھونڈ رہے ہو۔میں نے اس کو قریب بلایا۔ جب وہ ایک دو فٹ کی دوری پر کھڑا ہوا تو میں نےاس کے گال پر زور دار تھپڑمارا جس سے وہ ہل گیا۔اب میں نے گرج دار آواز میں پوچھا کہ یہ بیل کہاں سے لایا ہے ؟جلدی بتاؤ ورنہ تمہاری خیر نہیں۔یہ میرا بیل ہے اس کے ساتھ ایک اور بیل اور گائے بھی چوری ہوئی تھی۔ مجھےجلدی بتاؤ کہ گائے اور بیل کہاں ہے؟۔چار پانچ تھپڑ لگانے کے بعد اس نے اقرار کیا کہ میں نے ہی چوری کی تھی اور دو جانور میں نے فروخت کئے ہیں ۔جن افراد نے وہ خریدے تھے میں ان کے گھر گیا اور اپنی گائے اور بیل کو ہنسی خوشی گھر واپس لے لایا۔
دوسرے دن حسن بب نے یہ قصہ سنایا کہ جب میں ڈپٹی کلکٹر کے عہدے سے تازہ تازہ سبکدوش ہوا تھا اور سارا وقت پوتا پوتیوں سے کھیل کود اور لاڈ پیار میں گزر جاتا تھا تو ایک دن ہمارے محلے میں قریبا بیس کے قریب گائیں ایک ساتھ چوری ہوئیں جن میں میری بھی گائے تھی۔قصہ مختصر چونکہ میری جان پہچان تھی اور میں ہمسائیوں سمیت ایس پی کے پاس پہنچا اور فورا گائے تلاش کرنے کو کہا۔ایس پی میرے نام سے واقف نہیں تھا اور میں نے پھیرن پہن رکھا تھا۔ایس پی نے تین چوروں کو بلایا اور پوچھ تاچھ کرنے کے بجائے انہیں کرسی پر بیٹھایا ،سگریٹ جلا کر دی اور ان کے لیے چائے منگوائی۔ایس پی کا رویے دیکھ کر مجھے غصہ آیا اور میںنے تمام ہمسائیوں کو یہ پیغام دیا کہ یہ چوروں اور پولیس کی ملی بھگت ہے۔یہاں رکنا فضول ہے ہمیں خود ہی کچھ کرنا چاہیے۔شہر شہر اور گاؤں گاؤں ایک ماہ تک ڈھونڈتے رہے کوئی سراغ نہ ملا۔ایک دن صبح صبح ایک ہمسائے نے یہ خبر سنائی کہ میری گائے فلاں گاؤں میں تھی اور میں نے اس کو گھر لایا ہے۔ ایک گائے کا پتا کیا نکلا بیس کی بیس گائیں چند روز میں ہمارے اصطبلوں میں تھیں۔ بس اچھی قسمت ہونی چاہیے چوری ہوئی چیزیں خود بخود نکل جاتی ہیں ورنہ کھوئی ہوئی چیز ملنا محال ہی نہیں ناممکن ہے۔
شریف الدین جو گاؤں میں شریف چرسی کے نام سے مشہور ہے سلام دعا کے بعد گویا ہوئے کہ طالع تاباں اور قسمت چمکدار ہونی چاہیے ۔پچھلے سال نومبر کے پہلے ہی ہفتے میں ہمارے گھر میں بھی گائے چوری کی واردات ہوئی اور ہمیں خبر ہی نہ ہوئی۔ صبح جب میری آنکھ کھلی تو رمضان بب کا فون آیا۔تند لہجے میں اس نے جواب طلبی چاہیے کہ کیا تم نے گائے بیچ دی ہے۔
میں نے نفی میں جواب دیا تو بولیں پھر تمہاری گائے کہاں ہے۔میں نے جوابا کہا کہ اصبطل میں ہوگئی اور کہاں ۔رمضان بب نے حکم دیا کہ چائے بنا کے رکھنا میں آدھے گھنٹے میں پہنچ رہا ہوں۔رمضان بب گائے کے ساتھ آنگن میں آدھے گھنٹے بعد وارد ہوئے۔پھر قصہ سنایا کہ صبح جب میں اٹھا تو ایک شخص کو دیکھا جو گائے کی رسی تھامے چلے جا رہا تھا۔میں نے رکنے کا اشارہ کیا اور دریافت کیا کہ کیا شریف الدین نے گائے بیچ دی ہے۔وہ پہلے ہڑبڑایا اور پھر گھبرایا۔رسی چھوڑ کر یہ جا وہ جا ایسے بھاگا جیسے میڈل جیتنے کی دوڈ ہو رہی ہو۔میں نے گائے کی رسی تھامی اور سیدھے یہاں پہنچا دی۔
کسی رشتہ دار سے فون پر بات ہوتی یا وہ خود خبر گیری کے لیے آتے تو پہلے یہی سوال کرتے تھے کہ اچھا اب گائے بھی چوری ہوگئی ہے۔گلی گلی نگر نگر ،جس چوراہے ،نکڑ پر چند لوگ جمع ہوجاتے وہاں باتوں کا سلسلہ گائے کی چوری سے شروع اور ایسی وارداتیں جو پچھلے سالوں میں رونما ہوئی ہیں کی روداد کو بیان کرنے کے بعد ہی ختم ہوتی۔چند روز بعد گھر آنے والوں کی تعداد میں تو کمی واقع ہوئی لیکن مشورہ دینے والوں میں روز بروز اضافہ ہوتا گیا۔کوئی چائے کی چسکیاں لیتے لیتے دور دراز علاقوں میں ڈھونڈنے کا مشورہ دیتا تو کوئی پیر صاحب کا پتہ دے دیتا کہ فلاں جگہ پیر صاحب ہیں جو ضرور گائے کو کھوج نکالنے میں مدد فرمائیں گے۔بس وہ چار پانچ ہزار میں مان جائیں گے اور چند روز بعد گائے آنگن میں ہوگی۔کسی نے صبر کرنے کی تلقین کی تو کوئی رب کی رضا میں راضی رہنے کا مشورہ دیتا۔ ایسے بھی رب کے نیک بندے تھے جو پورے اصبطل کو لوہے اور فولاد سے تعمیر کرنے کا قیمتی مشورہ دے کر چلے گئے اور کچھ کھاتے پیتے لوگ راتوں کا جاگنے اور جاگتے رہو کی آواز لگانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہونے کا کہہ کر گئے۔
اتنا دکھ، صدمہ اور سردرد گائے چوری ہونے کے بعد نہ ہوا جتنا لوگوں کے مشوروںنے تنگ کیا۔کوئی بھی شئے چوری ہوجائے اس کا ماتم ہرگز نہیں کرنا چاہیے ورنہ دوست اور رشتہ دار واقعی تعزیت کرنے آجاتے ہیں اور ماحول کو سوگوار کرکے چلے جاتے ہیں۔ چوریوں کا سیزن ہے اگر آپ کے گھر میں بھی گائے ہے تو خیال رکھے گا ورنہ گائے چوری ہونے کے بعد پچھتاوا ہوگا جو مہنگا پڑتا ہے۔
تحریر :- ایس معشوق احمد۔
رابطہ:-8493981240

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں