آزاد قیدی..۔۔۔۔۔۔۔۔مغربی مورال پر کراس 86

افسانہ”تازہ ہوا کے شور میں”حسن امام

تجزیہ:۔۔۔ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری

افسانہ”تازہ ہوا کے شور میں”(حسن امام) کی خوبصورت کہانی پڑھ کر زندگی اور سمجھوتہ کے فلسفہ پر ایک کو ٹیشن یاد آئی:
”’Life is a compromise between your feelings and reality. At every stage you have to quit feeling’s and accept the reality.”
’’زندگی آپ کے احساسات اور حقائق کا سمجھوتہ ہے۔ ہر منزل پر اپنے احساسات کا گلہ گھونٹنا پڑتا ہے اور حقیقت کو ماننا پڑتا ہے۔ ‘‘
افسانہ’’تازہ ہوا کے شور میں‘‘ تانیثی موضوع کا ایک ایسا سماجی افسانہ ہے جس کا مرکزی تانیثی کردار رضیہ ہے اور پھر رضیہ کے احساسات وجذبات کوکہانی کی صورت میں وجودی کرب بناکر موضوع بنایا کیا گیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ بالآخر رضیہ کو زندگی سے سمجھوتہ کرکے‘اپنے احساسات کا گلہ گھونٹ کر حقیقت کے سپرد کرنا ہی پڑتا ہے۔ اب یہ دوسرا مسئلہ ہے کہ یہ حقیقت سماجی رسوم وقیود کی جکڑبندی کی حقیقت ہے کہ تقدیر کی حقیقت۔ افسانہ نگار نے دلنشین اسلوب میں کہانی پیش کی ہے اور رضیہ کا داخلی کرب’جمالیاتی خواہش (یعنی خوبصورت لڑکوں کو پسند اور اپنے بدصورت شوہر سے نفرت کرنا) ذہنی تناواور پھر آخر پر زندگی سے سمجھوتا۔ یہ ایک ایسا سماجی افسانہ ہے جس کا عکس ہر سماج میں دیکھا جاسکتا ہے۔ جزئیات نگاری بھی اچھی ہے۔
ایک دو پہلو منطقی طور پر قابل توجہ ہے۔ ایک یہ کہ رضیہ خوب صورت ہونے کے باوجود اس کا رشتہ کیوں نہیں آتا تھا۔ اگر باپ شرابی تھا اس وجہ سے۔۔؟ لیکن افسانے میں لکھا گیا ہے کہ وہ اب تائب تھا لیکن جب یہ سسرال سے گھر لو ٹتی ہے تو اس کاباپ کثرت سے شراب پینے لگتا ہے۔ اس کے بھاگ آنے پر باپ کہتا ہے کہ اس جیسا شریف آدمی پورے گاوں میں نہیں تو کیا دوسرے خوبصورت لڑکے اوباش تھے اگر تھے تو بھی یہ دکھانے کی ضرورت تھی کہ وہ رشتہ مانگنے کے لئے آتے گئے لیکن والدین انکار کرتے رہے کوئی جواز تو نکل آتا۔ ویسے جب باپ خود شرابی اور گالیاں بکتا تھا تو اسے شریف یا اوباش سے کیا لینا دینا تھا۔
آخر پر افسانہ عجلت کا شکار نظر آتا ہے۔ رضیہ گھر آکر والدین کو سسرال جانے کی بات کہہ سکتی تھی۔ پھر والد کو زہر کھانے کی نوبت ہی نہیں آتی۔ کیونکہ اب تو اس نے سمجھوتا کر ہی دیا تھا۔
البتہ افسانے کو ٹرن دینے میں نجمہ کے بھائی کی موت اور اس کی بیوی کی آہ وزاری نے اہم رول نبھایا ہے۔ یہ افسانہ نگار کی فنی خوبی ہی قرار دی جاسکتی ہے کہ ایک مایوس کن کہانی میں نئی جان ڈال دی۔ یہی موت اور آہ وزاری نفسیاتی طور پر رضیہ کی سوچ پر اثر انداز ہوجاتی ہے اور وہ تقدیر کے فیصلے پر سمجھوتہ کرکے بدصورت شوہر کو اپنانے پر آمادہ ہوجاتی ہے۔۔۔

افسانہ”وجود بے سایہ”سلیم سرفراز

افسانہ”وجود بے سایہ”کی کہانی وجودی کرب(Existential agnoy) کی دلآویز عکاسی کرتی ہے اوروہ وجودی کرب ایک بیٹے کا اپنے والدین سے جدائی کا کرب ہے۔ افسانہ پڑھ کر جیسے درجہ ذیل شعر کی افسانوی تشریح محسوس ہوا(شعر کئی برس پہلے پڑھا تھا مجھے لگ رہا ہے کہ شاید ایسے ہی ہے اگر نہیں ہوگا تو کوئی دوست صحیح شعر لکھ دے۔)
والدین کی ناقدری مت کر اے ضیا
یہ شجر سوکھ جائے گا تو دھوپ بہت ستائے گی
شعر کا متن اگر ایسا نا بھی ہو لیکن مفہوم یہی ہے۔ تو پیش نظر افسانے میں بھی باپ کی شفقت یا رشتہ اور درخت کے خوشگوار سائے کے مابین علامتی یا استعاراتی انسلاک (Metaphorical Association)دلچسپ فنی و فکری ہنرمندی سے پیدا کیا گیا ہے۔ پہلے کردار کا حلیہ اور پھر تپتی دھوپ کی جھلس سے بچنے کے لئے مانوس درخت کی طرف قدم بڑھانا ‘جو کہ ایک فطری عمل ہے کہ دھوپ سے بچنے کے لئے درخت کا سایہ ہی راحت آفریں ہوتا ہے’پھروہاں پر ڈرامائی انداز سے درخت کا غائب دکھانا اور کردار کا پریشان ہونا ‘اس کے بعدایک اور بزرگ کردار کو ظاہر کرنا’ آگے پلاٹ کو بڑی ہوشیاری سے اصلی موضوع یا مسئلے کے طرف آہستہ آہستہ موڑ نا اور ابہامی انداز سے درخت کی اچانک گمشدگی یا غائب ہونے کو باپ کی وفات سے جوڑ دینا وغیرہ فن کاری کا کمال ہی کہا جاسکتا ہے۔ اس قسم کی کرافٹنگ افسانے کو واقعی افسانہ بنا رہی ہے۔ افسانے کی جملے چست ہے۔ کہیں پر کوئی لسانی سقم نظر نہیں آتا جو کہ قرات کا لطف دوبالا کرتا ہے۔ کہانی میں خوبصورت تخلیقی رچاو ہے۔ ان خوبیوں کے باوجود ایک مشورہ دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ افسانہ یہاں پر اپنا تاثر برقرار رکھنے میں کامیاب نظر آتا ہے اس کے بعد والا حصہ زائد ہے:
”یہ بوڑھا تمہارے لیے دست دعا دراز رکھے گا۔ ”
کیونکہ کردار اپنے والد کی جدائی کے جس کرب سے گزر رہا تھا وہ بوڑھا بھی اپنی اولاد کی غفلت شعاری یا جدائی کے کرب سے گزر رہا تھا تو دونوں کو گمشدہ درخت کی بازیابی نصیب میں آئی اس لئے افسانہ ابہامی انداز سے ختم ہوگیا۔ یا اگر ایک آدھ جملے کا اضافہ بھی کریں کہ” دونوں ایک دوسرے کے گلے ملے جیسے گمشدہ درخت وآپس اپنی جگہ پرلوٹ آیا تھا۔ مرکزی کردار کے حلیہ میں چپل وغیرہ کاذکر کچھ مصنوعی انداز کا لگ رہا ہے کیونکہ آگے اسے ایک باعزت ملازم کے روپ میں پیش کیا گیا ہے۔ اس طرف بھی دھیان دینے کی ضرورت ہے۔
مجموعی طور پر افسانہ فنی اور موضوعاتی سطح پر ایک کامیاب افسانہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں