غزل
محسن کشمیری
تمنّا گر ہے جنت کی تجھے تو پھر عبادت کر
کمالِ بندگی گر چاہئیے سب سے محبت کر
خلافت کر تو قائم پھر زمانے میں صداقت کی
کہ دے کر جان اپنی دینِ حق کی تو حفاظت کر
اخوّت اور محبت کی سداتو پاسداری رکھ
تفرق جو کرے ملّت میں پیدا ان سے نفرت کر
کوئی تو ربط قائم ہو تیرا اسلافِ حق سے یوں
کہ ہو کرصاحبِ اوصاف ملّت کی امامت کر
فریبِ لذّتِ دنیا سے ہو کر تو کنارا کش
کرے جو آشنا خود سے تجھے، پیدا وہ چاہت کر
امانت ہے تری یہ زندگی رب کی عطا ہے سب
تو شوقِ جستجو،خوفِ خدا میں مت خیانت کر
مقدر میں لکھا ہے جو ملے گا بس وہی محسن
متاعِ جان و دنیا کی عبث میں تو نہ حسرت کر
