106

شہرسرینگرکے بیشتر راشن گھاٹ غذائی اجناس سے خالی

سرینگر/ 06 نومبر/آدھار کارڈنمبرات آن لائن کرانے کی آڑ میں وادی کشمیرکے سینکڑوں صارفین پچھلے 8ماہ سے غذائی اجناس سے محروم آدھارکارڈ کب آن لائن ہونگے اور مزکورہ صارفین کورواں برس کے آخری ماہ کے دوران بھی اس مشکل سے نجات ملنے کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی ہے۔ ادھرشہرسرینگرکے بیشتر علاقوں کے راشن گھاٹ غذائی اجناس سے خالی دوماہ سے سٹور کیپرصارفین کوغذائی اجناس کی فراہمی کے سلسلے میں مسلسل تڑکارہاہے جس کے نتیجے میںصارفین کومہنگے داموں بازارسے غذائی اجناس حاصل کرنے پرمجبورہونا پڑ رہاہے ۔اے پی آ ئی نمائندے کے مطابق رواں برس کے مئی اپریل کے مہینے میںامورصارفین عوامی تقسیم کاری محکمہ نے ان صارفین کوآدھا رکارڈآن لائن کرانے کاحکم سنایاجن کے آدھارکارڈنمبرات آن لائن نہیں ہوئے تھے محکمہ کی ہدایت کے بعد وادی کے اطراف واکناف میں ان صارفین نے اپنے آدھار نمبرات آن لائن کرانے کی کارروائی شروع کردی اورکئی ماہ کی انتھک کوشش کے بعد جب وہ اس کارروائی سے فارغ ہوئے اورانہیں امیدپید اہوئی اب انہیں راشن گھاٹوں سے باقائدہ طورپرغذائی اجناس فراہم ہوگاتاہم چھ ماہ کاعرصہ گزرگیاآدھارنمبرات کہی بھی آن لائن نہیںہوپارہے ہے اور نہ ہی ایسے صارفین کوغذائی اجناس راشن گھاٹوں سے فراہم کیاجارہاہے ۔امورصارفین عوامی تقسیم کار محکمہ کی جانب سے ایسے صارفین کوبار بار بارایک ہی بات بتائی جاتی ہیں کہ ابھی تک فوڈکارپوریشن نے ان کے آدھار نمبرات آن لائن نہیں کئے ہے جس کی وجہ سے انہیں غذائی اجناس فراہم نہیں کیاجاتاہیں ۔رواں برس ختم ہونے میں اب صرف ایک ماہ رہ گیاہے ا ورصارفین کاماننا ہے کہ اس بات کی کوئی امید نہیں کہ ڈیجٹل کشمیرمیں غریب صارفین کوڈیجٹل طریقے سے راحت پہنچانے کے لئے کوئی کارروسئی عمل میںلائی جائیگی ۔ادھرمہاراج گنج،صراف کدل اور اسکے آس پاس کے علاقوں میں فوڈ ان سپلائز محکمہ کی جانب سے قائم کئے گئے راشن گھاٹ دوماہ سے خالی پڑے ہوئے ہے اوران راشن گھاٹوں تک غذائی اجناس کیوں نہیں پہنچائی جاتی ہے یہ بڑامعاملہ ہے۔ صارفین کے مطابق سٹور کیپرانہیں آج نہیں توکل کل نہیں توپرسوں کے طریقہ کار اپناتے ہوئے ہردن تڑکانے کی کوشش کرتاہے جبکہ راشن کارڈدو ماہ پہلے انہوںنے اپنی تحویل میں رکھے ہے لیکن صارفین کو غذائی اجناس فراہم کرنے کے لئے اقدامات نہیں اٹھائے جارہے ہیں اگرچہ امورصارفین عوامی تقسیم کاری محکمہ کے اعلیٰ حکام کوباربار اس بات سے آگاہ کیاگیا کہ لوگوںکوغذائی اجناس فراہم کئے جائے تاہم ابھی تک اس سلسلے میں کسی بھی طرح کی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں