ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

جموں کے بکرم چوک میں ایک المناک حادثے میں گاڑی دریا تیوی میں گر گئی جس کے.

پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ سادھنا ٹاپ پر خاتون سمیت تین افراد سات کلو نارکوٹکس.

گاندربل میں نوجوان کو مردہ پایا گیا وسطی ضلعع گاندربل کے گاڈوہ کھیتوں میں.

شادی کے بعد بھی بیٹی والدین کیلئے بیٹی ہی رہتی ہے

   91 Views   |      |   Sunday, May, 29, 2022

جموں کشمیر میں’’کنزیومر کورٹ‘‘ کی عدم دستیابی

شادی شدہ بیٹی بھی ملازمت کی حقدار / عدالت عالیہ
سرینگر/02فروری/جموں کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے شادی شدہ بیٹی کو والدین کے لئے بیٹی ہی قراردیتے ہوئے اس کے حق میں ہمدردانہ ملازمت کی فراہمی کی صحیح قراردیا ہے ۔ عدالت نے کہا ہے کہ شادی کے بعد بھی لڑکی کو والدین کا حق ہے اور والدین کا بیٹی پر حق ہے ۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق عدالت عالیہ نے ایک عرضی پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ شادی شدہ بیٹی بھی ہمدردانہ ملازمت کی حقدار، کہا- بیٹی شادی کے بعد والدین کی بیٹی ہی رہتی ہے۔جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے ایک خاتون کی ہمدردانہ ملازمت کی درخواست کو درست مانتے ہوئے متعلقہ ادارے اور ضلع انتظامیہ کو درخواست سے متعلق دستاویزات کی تصدیق کرکے فائدہ دینے کا حکم دیا۔ کہا، ہمدردانہ ملازمت کے اصولوں میں خاندان کی تعریف واضح ہے، اس میں صنفی امتیاز کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ والدین کے لیے بیٹی شادی کے بعد بھی بیٹی ہی رہتی ہے۔ ہمدردانہ ملازمت کے قواعد میں خاندان کی تعریف کو محدود نہیں کیا جا سکتا۔ خواہ وہ بیٹی ہو یا بیٹا، بھائی یا بہن، جو قواعد کے مطابق شادی سے پہلے ہمدردانہ ملازمت کا حقدار ہے، شادی کے بعد بھی جاری رہے گا، بشرطیکہ ملازمت میں فوت ہونے والا سرکاری ملازم خاندان کے فرد پر منحصر ہو۔ جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے ایک خاتون کی ہمدردانہ ملازمت کی درخواست کو درست مانتے ہوئے متعلقہ ادارے اور ضلع انتظامیہ کو درخواست سے متعلق دستاویزات کی تصدیق کرکے فائدہ دینے کا حکم دیا۔’’شادی شدہ بیٹی کی دلیل‘‘ کو مسترد کرتے ہوئے عدالت نے واضح کیا کہ ہمدردانہ ملازمت کے قواعد 1994 میں صنفی امتیاز کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ ہمدردانہ ملازمت کے لیے درخواست دینے والا شخص زیر کفالت ہونے کی شرائط پوری کرتا ہے۔شبینہ نامی خاتون نے ٹیکنیکل اسسٹنٹ کے طور پر کام کرنے والے اپنے والد کی وفات پر شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں ہمدردانہ ملازمت کی درخواست کی ہے جسے عدالت نے خلاف قانون نہیں سمجھا۔ جسٹس سنجیو کمار نے کہا کہ اگر ہم طلاق یافتہ بیٹی بالخصوص ایک مسلم خاتون کی مثال لیں تو وہ طلاق کے بعد عدت کے دوران کفالت کی بھی حقدار نہیں ہے۔ایسی عورت اپنے والدین کی محتاج ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ شادی شدہ بیٹی کا شوہر بھی معذور ہوسکتا ہے۔ اسے اپنے والدین کا تعاون بھی حاصل ہے۔ اس لیے آجر اپنی سطح پر خاندان کی تعریف نہیں کر سکتا۔اگر درخواست گزار یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ شوہر، بیوی، بیٹا، گود لیا بیٹا، بیٹی، گود لی ہوئی بیٹی، بھائی، گود لیا ہوا بھائی، بہن، متوفی ملازم کی گود لی ہوئی بہن ہے اور مکمل طور پر اس پر منحصر ہے، تو اسے ہمدرد ملازمت دینے میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں ہوگی۔

متعلقہ خبریں

جموں کے بکرم چوک میں ایک المناک حادثے میں گاڑی دریا تیوی میں گر گئی جس کے نتیجے میں ڈرائیو اور کنڈیکٹر کی موت ہوئی پولیس.

پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ سادھنا ٹاپ پر خاتون سمیت تین افراد سات کلو نارکوٹکس اور 2آئی ای ڈی سمیت گرفتار کئے گئے پولیس.

گاندربل میں نوجوان کو مردہ پایا گیا وسطی ضلعع گاندربل کے گاڈوہ کھیتوں میں 28سال کے نوجوان کی نعش برآمد کرلی گئی پولس.

صدرِ جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبد للہ نے حضرت میرک شاہ صاحب ؒ کے سالانہ عرص مبارک باد.

کونہِ بل پانپور میں آج صبح ایک دلدوز سانحہ پیش آیا جسمیں دو افراد موت کی آغوش میں چلے گۓ۔ کونہِ بل علاقے میں کھیتوں.