ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

نقب زنی میںملوث دو ملزمان کو مالہ مسروقہ سمیت گرفتار کیا گیا سرینگر //15مئی.

سی یو ای ٹی کے ذریعہ گریجویشن میں فارم داخل کرنے کی 22؍ مئی آخری تاریخ سرینگر.

پولیس نے بھائی بہن سمیت تین ملزمان کو گرفتار کر کے تحقیقات شروع کر دی سرینگر.

ندائے کشمیر ’’مجھے کچھ کہناہے ‘‘

   79 Views   |      |   Wednesday, May, 18, 2022

جی آر بیگ میموریل ٹرسٹ کی اہم میٹنگ منعقد

نـــوٹ:۔ معزز قارئینِ کرام ہفتہ روزہ ندائے کشمیر میں ’’مجھے کچھ کہناہے ‘‘ کے نام سے ایک سلسلہ وار کالم جاری ہے ، جس میں ہر ہفتہ کسی مخصوص موضوع پرمختلف طبقہ ہائے فکر سے وابستہ لوگوں کا نقطہ نظر جاننے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ہفتہ ھٰذا کے لیے جس موضوع کا انتخاب کیا گیا ہے وہ ہے ’’ماں‘‘۔ اگلے ہفتے کا موضوع (اُستاد )ہے

علی شیدؔا

بچپن سے میرا معمول تھا کہ میں ماں کے سامنے بیٹھ کر اسے ٹکٹکی لگاکے دیکھا کرتا تھا ایک بار ماں نے پوچھا کہ ایسے کیوں دیکھتے ہو؟ تو میرے منہ سے بے ساختہ نکلا۔ ماں ! میں خدا کی عظمتوں کا متلاشی ہوں جب بھی آپکا چہرہ پڑھتا ہوں مجھے میرے سوالوں کے جواب ملنے لگتے ہیں۔خدا نے میری ماں کو اپنے پاس بلایا۔ لیکن میں آج بھی ماں کے چہرے کا تصور کئے ہوئے خدا کی عظمتوں کے بارے میں سوچتا ہوں۔ یہی تصور مجھے سرِ نہاں کی خوبصورت حقیقت سے روشناس کراتا رہتا ہے۔ ماں کے قدموں میں رہ کر مجھے جنت کی فضاؤں کی خوشبو ملتی تھی اور آج بھی ان قدموں کے تصور سے وہی خوشبو میری کائنات کو معطر کرتی رہتی ہے۔مائیں جنت کی اصل مالکن ہیں۔۔۔۔۔۔!
فیاض تلہ گامی ماں کی عظمت کو سلام
ماں کا نام زبان پر آتے ہی محبت بھرے اور عظمت بھرے الفاظ بھی زبان پر آتے ہیں۔اگر چہ ماہ کا نام عظیم ہے لیکن ماں کا کام عطیم تر ہے۔ نام اور کام _دونوں مقام ماں کو اللہ تعالی نے بخشے ہیں۔ماں کا نام لیتی ہی ماں کی محبت اور شفقت کا احساس ہوتا ہے۔ اللہ تعالی نے ہر جاندار کو جان بخشنے کا وسیلہ ماں کو ہی بخشا ہے۔ ماں کی عظمت اور شفقت کا احساس زیادہ تر اسی وقت ہوتا ہے جب اچانک ماں کے سائے سے محروم ہونا پڑتا ہے۔ماں کی محبت بھری ادائیں ،میٹھی آواز میں ماں کی دعائیں _کس کو نہ یاد آئیں۔بقول :: شاعر مشرق علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ
خاک مرقد پر تیری لے کریہ فریاد آؤں گا اب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آؤں گا
جس طرح ہم زبان اور قلم سے ماں کی عظمت بیان کرتے ہیں اسی طرح موجودہ مادہ پرستی کے دور میں عملی طور ماں کا احترام ہونا چاہیے یقینا یہ آواز ہر انسان کو ہر وقت کانوں کے ساتھ ساتھ اپنے ضمیر میں بھی گونجتی ہوگی۔

عبدل رحمان فدا

قران شریف میں متعدد مقامات پر تاکیدی سے اس بات کا فرمان کیا گیا ہے ” وبوالدین احسانا” یعنی ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آو۔ لیکن پہلے ماں اور بعد میں باپ کا تزکرہ کیا گیا ہے۔ حضور پرنور ﷺ سے عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ ﷺ دنیاوی رشتے میں ہمارے اوپر کس کا زیادہ حق ہے تو فرمایا “ماں” سوالی نے پھر سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا” ماں” صحابی کے تیسری مرتبہ عرض کرنے پر بھی آپ نے فرمایا” ماں” اور چوتھی بار یہی سوال کرنے پر آپ ﷺ نے فرمایا باپ کا بھی چنانچہ آپ ﷺ کا ایک ایک قول ملسفیانہ تھا تو اس لئے صاف ظاہر ہے کہ ماں کا حق باپ کے حق سے تین گنا زیادہ ہے۔واقعی طور صرف ماں کا پیار محبت اپنی اولاد کی خاطر بے لوث اور بلا لالچ ہوتا ہے اور جو تکلیف اولاد کی پرورش میں ماں کو اٹھانے پڑتے ہیں کسی دوسرے سے ممکن نہیں۔ اس لئے ماں کی خدمت گزاری میں کسی بھی رکاوٹ کو اپنے درمیان حائل نہ ہونے دیں اور اگر آپ جنت کا وارث ہونے کی تمنا کرتے ہیں تو وہ ماں کے قدموں تلے ہی آپ پا سکتے ہیں۔

غلام حسن طالب

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بنی آدم کی ابتدا مرد سے ہوئی تھی، لیکن حوا کی تخلیق آدم کی بائیں پسلی سے ہوئی گویا وہ زندہ انسان سے تخلیق کی گئی اور پوری خلقت کی ماں کہلاہی، دنیا میں ماں ایک ایسا رشتہ ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے، ماں اس عالم اسباب میں خدائی محبت کا ایک روپ ہے، والدین میں ماں کا درجہ باپ پر مقدم ہے کیونکہ پیدائش میں اسے بہت زیادہ تکلیفیں برداشت کرنا پڑ تی ہیں بلکہ بچے ماں کی شفقتوں کی گود میں جوان ہوجاتے ہیں، اسی لئے کہا گیا ہے کہ ایک ماں سب کی جگہ لے سکتی ہے لیکن اس کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا، قرآن مقدس اور احادیث میں بھی والدین کا مقام، شان، احترام اور حقوق اجاگر کئے گئے ہیں۔الغرض ایک ماں اپنی خواہشات کو دباکر اولادوں کی خواہشات پورا کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گزا شت نہیں کرتی ہے گویا ماں جب تک زندہ ہوتی ہے بچوں کی ہر مشکل آسان ہوجاتی ہے-
غلام محمد نوسوز ایک ایسا نوکر جس کو کوئی
ایک ایسی ملازمہ جس کی کوئی تنخواہ نہیں، مگر رات دن دھوپ چھاوں،میں کبھی تھکنے کا نام نہیں لیتی، خود بھوک کی پرواہ کئے بغیر اپنے بچوں کے ناز نخرے خوشی خوشی تسلیم کرتی اور ان کو محسوس ہونے نہیں دیتی کہ میں بھوکی ہوں۔ اپنی نیند قربان کر کے سب کچھ برداشت کرنے والی صرف دنیا میں ایک ہی ہستی ہے وہ ہے ماں اور یہی وہ ہستی ہے جس کے پاوں تلے بے شک جنت ہے۔

شاد رمضان ماجہ ہیوند تھذر

انسانی رشتن منز چھُ وچھنہ آمت یُس زن ہیومن سیولزیشن چھُ انسانی تواریخ  چھُ ساروی کھوتہ مقدس تہ ساروی کھوتہ عظیم رشتہ چھُ موج اولادس نسبت، عیالس نسبت،ساروی کھوتہ یُس ٹوٹھ رشتہ چھُ مقدس تہ عظیم رشتہ چھُ سہ چھُ موج۔ موج چھِ صبرچ علامت، صبرُک میٹافر استعار توے چھِ اْسی ونان موج بُتراتھ یعنی زمین، زمین سـتی یہِ تہِ اْسی کرو یتھ کنہِ تہِ اْسی کرو یہ چھنہ واپس کہنی جواب دیوان۔ یعنی موج بتراتھ چھِ صبرچ علامت۔ ماجہِ ہنز عظمت ہیکو توہی یتھ کنہِ تہِ وُچھِتھ زِ اْسی چھِ کشیر تہِ موج کشیر ونان۔ماجہِ ہنز عظمت چھِ اْسی یتھ کنہِ تہِ بیان کران زِ کشمیر ہنز زہ خاتون لل دید تہ صدر موج، اْسی چھِ لل موج تہِ ونان تہ صدر موج تہِ ونان۔یم دوشوی آسہِ عظیم خوتون ۔ تہ یہندِ عظمتک راز چھُ یہند صبر، یہند بجریہند علمی بصیرت تہ یہنز عقلی بصیرت۔ تمے وُن اَسہِ یمن موج۔ یعنی ماجہ ہیوند مطلبی چھُ صبر، بجر، تھذر مودر وغار ۔ موج چھِ اْکس فیملی تھاوان مستحکم۔ اکھ کہاوت چھِ تیلہ مالہِ راوِ ہا کاہن گائو۔ مگر موج چھنہِ یمن الگ دیوان گژھنہ سہ چھِ یمن اْکسی موچھِ منز تھاوان۔یتھ کن کوکر پنہ نین بچن فاہ چھِ دیوان یتھے کنہ چھِ موج پنہ نون اولادن ، پنہ نین باژن تہ پنہ نین نوشن کورین پنہ نِس وَچھس تل رْٹِتھ فاہ دیوان۔اگر موج عقلمند آسہِ ، گاٹج آسہِ یہ تھاوِ کاہونی باژن اْکسی موچھ منز تہ رچھکھ پکھن تل ۔مطلب چھُ غرض یہ زِ دنیاہس منز چھُ ماجہ تیوت بجر زِ یوت نہ بے کُنہ تہ یا کانسہِ تہِ چھُ۔

متعلقہ خبریں

نقب زنی میںملوث دو ملزمان کو مالہ مسروقہ سمیت گرفتار کیا گیا سرینگر //15مئی //این این این// سوپور پولیس نے چوری کا.

سی یو ای ٹی کے ذریعہ گریجویشن میں فارم داخل کرنے کی 22؍ مئی آخری تاریخ سرینگر //15مئی //این این این مولانا آزاد نیشنل.

پولیس نے بھائی بہن سمیت تین ملزمان کو گرفتار کر کے تحقیقات شروع کر دی سرینگر //15مئی //این این این //جموں کے بانہال.

غلام رسول میرنئے ڈائریکٹر باغبانی کشمیر تعینات سرینگر //15مئی //این این این // جموں و کشمیر حکومت نے اتوار کو انتظامیہ.

کشمیری پنڈتوں کی وادی میں سیکورٹی اور دیگر مسائل پر ہوئی بات چیت پاکستان کی سرپرستی میں ہونے والی ملی ٹنسی نے ہندوؤں.