ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

صدرِ جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبد للہ نے حضرت.

کونہِ بل پانپور میں آج صبح ایک دلدوز سانحہ پیش آیا جسمیں دو افراد موت کی.

جنوبی قصبہ قاضی گنڈ میں ٹرین کی ٹکر سے 50 سال کی خاتون لقمہ اجل بن گئیں فہمیدہ.

وادی کے امراض چھاتی کے واحد ہسپتال درگجن میں ڈاکٹروں و دیگر عملہ کی کمی

   64 Views   |      |   Saturday, May, 28, 2022

وادی کے امراض چھاتی کے واحد ہسپتال درگجن میں ڈاکٹروں و دیگر عملہ کی کمی

دور دراز علاقوں سے آنے والے مریض بغیر علاج و معالجہ کے ہی اپنے گھروں کو لوٹنے پر مجبور
سرینگر/10جنوری/وادی کے سب سے بڑے اورواحدامراج چھاتی’’سی ڈی‘‘ہسپتال میں ڈاکٹروں و دیگر عملہ کی کمی اور بلاوجہ غیر حاضری کی وجہ سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ جبکہ ایک ڈیڑماہ پہلے علاج کیلئے نمبر حاصل کرنے والے مریض جب ہسپتال پہنچتے ہیں تو ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کے سبب انہیں مایوس ہوکر بغیر علاج ہی واپس جانا پڑتا ہے ۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وادی میں موس سرماء شروع ہوتی ہے چھاتی کے امراض میں مبتلاء مریضوں کو تکلیف کا سامناکرنا پڑتا ہے اور سردیوں کی وجہ سے ہوا میں نمی ہونے کے نتیجے میںعام انسان بھی کئی طرح کی بیماریوں جیسے نزلہ،زکام ، کھانسی و ٹی بی جیسی بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے اور علاج و معالجہ کیلئے وادی کشمیر میںسب سے بڑا ہسپتال ’’درگجن‘‘امراض چھاتی’’سی ڈی ہسپتال ‘‘ ہیں جہاں چھاتی سے جڑے امراض کا بہتر علاج و معالجہ کیا جاتا ہے تاہم اس ہسپتال میں سینئر ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کے نتیجے میں مریضوں کو واپس بغیر علاج ہے گھروں کو لوٹنا پڑرہا ہے ۔ سی این آئی سٹی رپورٹر کے مطابق ’’سی ڈی‘‘امراض چھاتی کے ہسپتال میں وادی کے دور دراز علاقوں سے لوگ علاج کیلئے آتے ہیں اور اس سخت ترین سردی کے دوران صبح سات بجے سے ہی مریض لائنوںمیں اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں اور دن بھر قطاروں میں رہنے کے بعد بھی مریضوں کو بغیر علاج ہی واپس لوٹنا پڑتا ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ سینئر ڈاکٹروں کے نام پر جن مریضوں کو ٹکٹ دی جاتی ہے اندر جاکر پتہ چلتا ہے کہ وہاں ڈاکٹر موجود ہی نہیں ہے بلکہ ان کے ماتحت کام کرنے والے جونیئر ڈاکٹر مریضوں کی تشخیص کرتے رہتے ہیں ۔ اس کے علاوہ سینئر ڈاکٹروں کے پاس علاج کرانے کیلئے مریضوں کو ایک ڈیڑھ ماہ قبل ہی نمبر حاصل کرنا پڑتا ہے تاہم جب اتنی مدت تک انتظار کرنے اور دن بھر قطاروںمیں رہنے کے بعد مریض کی بھاری آتی ہے تو وہاں ڈاکٹر موجود ہی نہیں ہوتے جس کی وجہ سے مریض مایوس ہوکر اپنے گھروں کو بغیر علاج ہی جانے کیلئے مجبور ہوجاتا ہے۔ اس حوالے سے ہسپتال میں علاج کرانے کیلئے بڈگام ، پلوامہ اور سوپور کے مریضوں نے نمائندے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہم پچاس سٹھ کلومیٹرکی مسافت طے کرکے یہاں صبح سے اپنی باری کا انتظار کررہے تھے تاہم جس ڈاکٹر کے پاس جانا تھا وہ چھٹی پر گیا ہے اور کمرے میں ان کے ماتحت کام کرنے والے دیگر ڈاکٹر صاحبان ہیں جس کے نتیجے میں ہمارا وقت ضائع ہوا جبکہ ہم کو جس ڈاکٹر کے پاس جاناتھا وہ غیر حاضر رہنے کی وجہ سے ہم بغیر علاج ہی واپس جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی مریضوں نے کہا کہ ہسپتال میں ڈاکٹروں اور دیگر عملہ کی کافی کمی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ یہ ہسپتال وادی کا واحدی چھاتی کا ہسپتال ہے یہاں پر مریضوں کا کافی رش رہتا ہے دن بھر ہزاروں کی تعداد میںدور دراز علاقوں سے مریض یہاں علاج کرنے کیلئے آتے ہیں جن کو گھنٹوں قطاروں میں رہنا پڑرہا ہے انہوںنے کہا کہ اگر مزید ڈاکٹروںکو یہاں پر تعینات کیا جاتا تو مریضوں کو کافی راحت ملتی اس کے ساتھ ساتھ جو یہاں پر ڈاکٹر صاحبان تعینات ہیں ان پر کچھ بوجھ کم ہوجاتا۔

متعلقہ خبریں

صدرِ جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبد للہ نے حضرت میرک شاہ صاحب ؒ کے سالانہ عرص مبارک باد.

کونہِ بل پانپور میں آج صبح ایک دلدوز سانحہ پیش آیا جسمیں دو افراد موت کی آغوش میں چلے گۓ۔ کونہِ بل علاقے میں کھیتوں.

جنوبی قصبہ قاضی گنڈ میں ٹرین کی ٹکر سے 50 سال کی خاتون لقمہ اجل بن گئیں فہمیدہ بانو زوجہ بشیر احمد ساکنہ پازنتھ نامی.

سرینگر کے صورہ اور اونتی پورہ کے آگہانجی پورہ علاقوں میں فوج و فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین مسلح تصادم آرائیوں.

سرینگر /26مئی جنوبی قصبہ اونتی پورہ کے آگہناز پورہ علاقے میں جمعرات کی شام فوج و فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین.