ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

جموں کے بکرم چوک میں ایک المناک حادثے میں گاڑی دریا تیوی میں گر گئی جس کے.

پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ سادھنا ٹاپ پر خاتون سمیت تین افراد سات کلو نارکوٹکس.

گاندربل میں نوجوان کو مردہ پایا گیا وسطی ضلعع گاندربل کے گاڈوہ کھیتوں میں.

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کو جنرل بپن راوت پر اتنا اعتماد کیوں تھا؟

   94 Views   |      |   Sunday, May, 29, 2022

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کو جنرل بپن راوت پر اتنا اعتماد کیوں تھا؟

مانیٹرنگ نیوز/11دسمبر//انڈیا کے پہلے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت اور انکی اہلیہ مدھولیکا کی آخری رسومات جمعے کے روز دارالحکومت دلی کے کنٹونمنٹ علاقے میں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ ادا کی گئیں۔جنرل راوت کو سترہ توپوں کی سلامی دی گئ۔ اس موقع پر وہاں بری تعداد میں سینییئر فوجی اہلکار موجود تھے۔آٹھ دسمبر کو جنوبی ریاست تمل ناڈو کے ضلع کنور میں ایئر فورس کے ہیلی کاپٹر کے حادثے میں ان کی موت ہوئی تھی۔ اس حادثے میں ان کی اہلیہ سمیت 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ فی الحال دس لاشوں کی شناخت ہونا باقی ہے۔اس حادثے میں زندہ بچنے والے واحد شخص ورون سنگھ کا علاج بنگلور کے ایک ہسپتال میں جاری ہے۔جنرل راوت کی موت پر ملک کے رہنماؤں نے خراج عقیدت پیش کیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ‘جنرل بپن راوت ایک شاندار سپاہی تھے۔ ایک سچا محب وطن جس نے فوج کی جدت کاری میں اہم کردار ادا کیا۔ اسٹریٹجک معاملات پر ان کی بصیرت اور نقطہ نظر بے مثال تھا۔ میں ان کی عدم موجودگی سے بہت افسردہ ہوں۔31 دسمبر 2016 کو جب جنرل بپن راوت کو فوج کی کمان سونپی گئی تھی اور اس وقت سے یہ واضح تھا کہ وزیر اعظم مودی کو ان پر بہت اعتماد ہے۔جنرل راوت کا آرمی چیف بننا کوئی عام عمل نہیں تھا۔ انھیں ان کے دو سینئر افسران کی سینیارٹی کو نظر انداز کر فوج کی کمان سونپی گئی تھی۔اگر انھیں روایتی عمل کے ذریعے آرمی چیف بنایا گیا ہوتا تو سینیارٹی کے بنیاد پر اس وقت مشرقی کمان کے سربراہ جنرل پروین بخشی اور جنوبی کمانڈ کے سربراہ پی محمد علی حارث کی باری تھی۔لیکن مودی حکومت نے سینیارٹی کو ترجیح دینے کے بجائے ان دونوں سے جونیئر جنرل راوت کو ترجیح دی۔ تب کئی ماہرین نے کہا تھا کہ جنرل راوت انڈیا کی سلامتی سے متعلق موجودہ مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اس کے بعد انڈیا کو تین بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھے جن میں سرحد پار سے ہونے والے دہشت گردی کو روکنا، مغربی سرحد سے ‘پراکسی جنگ کو روکنا اور شمال مشرقی انڈیا میں انتہا پسندوں پر لگام ڈالنا۔اس وقت جنرل راوت کے بارے میں کہا گیا کہ وہ گذشتہ تین دہائیوں سے تنازعات والے علاقے میں کامیاب فوجی آپریشن کرنے کا بہترین تجربہ رکھتے ہیں۔جنرل راوت کو انتہا پسندی اور لائن آف کنٹرول کے چیلنجوں سے نمٹنے کا ایک دہائی کا تجربہ بھی تھا۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ جنرل راوت نے شمال مشرقی انڈیا میں انتہا پسندی کو کنٹرول کرنے اور میانمار میں باغیوں کے کیمپوں کو ختم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔1986 میں جب چین کے ساتھ کشیدگی بڑھی تھی تب جنرل راوت سرحد پر ایک بٹالین کے کمانڈنگ کرنل تھے۔ کہا جاتا ہے کہ وزیر اعظم مودی جنرل راوت کے کریئر کے اس تجربے سے بہت متاثر تھے اور انھوں نے فوج کی کمان سونپنے میں سینیارٹی کی پرواہ نہیں کی۔تاہم مودی پہلے وزیراعظم نہیں ہیں جنھوں نے انڈین آرمی چیف کے انتخاب میں سینیارٹی کو نظر انداز کیا۔ان سے پہلے 1983 میں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے بھی فوج کی کمان لیفٹیننٹ جنرل ایس کے سنہا کی سنیارٹی کی پرواہ کیے بغیر ان کے جونیئر لیفٹیننٹ جنرل اے ایس ویدیا کو سونپی تھی۔ جنرل ایس کے سنہا نے اندرا گاندھی کے اس فیصلے کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔اندرا گاندھی نے 1972 میں بھی ایسا ہی کیا تھا۔ انھوں نے سینیارٹی کو نظر انداز کرتے ہوئے مقبول لیفٹیننٹ جنرل ایس بھگت کی سینیارٹی کو نظر انداز کرتے ہوئے کمان ان کے جونیئر لیفٹیننٹ جنرل جی جی بیور کے حوالے کی تھی۔وزیر اعظم نریندر مودی نے 15 اگست 2019 کو انڈیا کے 73 ویں یوم آزادی کے موقعہ پر لال قلعہ سے اپنی تقریر میں فوج، بحریہ اور فضائیہ کے درمیان بہتر رابطے کے لیے ‘سی ڈی ایس یعنی چیف آف ڈیفنس سٹاف کے عہدے کی تخلیق کا اعلان کیا۔اعلان کرتے وقت مودی نے کہا تھا کہ ‘وقت کے ساتھ ساتھ اصلاحات کی ضرورت ہے۔ فوجی نظام کو بہتر بنانے کے لیے بہت سی رپورٹیں آئی ہیں۔ ہماری تینوں فوجوں کے درمیان ہم آہنگی ہے لیکن جس طرح دنیا بدل رہی ہے، آج جس طرح ٹیکنالوجی پر مبنی نظام بنایا جا رہا ہے، اسی طرح انڈیا کو ٹکڑوں میں نہیں سوچنا پڑے گا۔ تینوں فوجوں کو ایک ساتھ آنا ہوگا۔ ہماری فوج دنیا میں بدلتی ہوئی جنگ کی نوعیت اور سلامتی کے مطابق ہونی چاہیے۔ آج ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ چیف آف ڈیفنس سٹاف بنایا جائے گا جو کہ سی ڈی ایس تینوں فوجوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرے گا۔مودی نے اس ذمہ داری کے لیے جنرل راوت کا انتخاب کیا۔جنرل راوت 31 دسمبر 2019 کو آرمی چیف کے عہدے سے ریٹائر ہوئے اور انھیں سی ڈی ایس کی ذمہ داری دی گئی۔جنرل راوت کے آرمی چیف بننے کے چند ہی مہینوں میں ڈوکلام میں چین کے ساتھ کشیدگی کی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔ڈوکلام بھوٹان کا ایک خطہ ہے جہاں چین اپنے فوجی اڈے بنا رہا تھا۔ انڈیا نے وہاں اپنی فوجیں تعینات کر دیں۔ یہ کہا گیا کہ یہ آرمی چیف جنرل راوت کی جارحانہ فوجی پالیسی کا حصہ ہے۔ڈوکلام بحران کے دوران جنرل راوت نے کہا تھا کہ انڈیا ‘ڈھائی محاذوں پر جنگ کے لیے تیار ہے۔ ڈھائی محاذ سے ان کی مراد تھا چین، پاکستان، اور انڈیا کے اندر موجود باغی گروہ۔ جنرل راوت کے اس بیان پر چین نے سخت اعتراض کیا تھا۔لیکن جنرل راوت کے بیانات کئی مرتبہ متضاد بھی ہوتے تھے۔ کئی دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر آپ تیار بھی ہیں تب بھی دو محاذوں پر سامنا کرنا آسان نہیں ہوتا اور اس لیے آپ کو سفارت کاری کا سہارا لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دنیا کی تاریخ میں جب بھی کوئی ملک دو محاذوں پر لڑا ہے اس کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے اور یہ قطعی آسان نہیں رہا ہے۔اس سوال کے جواب میں دفاعی تجزیہ کار راہل بیدی کہتے ہیں کہ ‘بپن راوت کو سی ڈی ایس کی ذمہ داری اس وقت دی گئی جب اس عہدے پر امیدوار کے انتخاب کا کوئی اصول موجود نہیں تھا۔ ایسے میں جنرل راوت کو یہ عہدہ سونپنا اہم بھی تھا اور آسان بھی۔ جنرل راوت کو فوجی اصلاحات، دفاعی معیشت اور تینوں افواج میں رابطے میں بہتری کے لیے سی ڈی ایس بنایا گیا تھا۔ ان کے کام میں ابھی ایک سال باقی تھا۔وہ کہتے ہیں کہ ‘دونوں کی نظریاتی قربت بھی پی ایم مودی کے بھروسے کی ایک بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔ جنرل راوت مسلسل سیاسی بیانات دیتے تھے اور ان بیانات میں ان کی سوچ بی جے پی کی سوچ کے قریب نظر آتی تھی۔ اس کے علاوہ جنرل راوت ملک کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کے بھی قریب تھے۔ پی ایم مودی اجیت ڈوول پر بھی کافی توجہ دیتے ہیں۔جنرل راوت کا 2016 میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والی ‘سرجیکل سٹرائیکس میں بھی اہم کردار سمجھا جاتا ہے۔جنرل بپن راوت نے 26 دسمبر 2019 کو کہا کہ ‘لیڈر وہ ہوتے ہیں جو لوگوں کو صحیح سمت میں لے جاتے ہیں۔ جس طرح یونیورسٹی اور کالج کے طلباء کی بڑی تعداد احتجاج کر رہی ہے، شہروں میں تشدد اور آتش زنی بڑھ رہی ہے۔ قیادت کو ایسا نہیں ہونا چاہیے۔جنرل راوت کے اس بیان پر حزب اختلاف کی جماعتوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ ‘کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘جنرل راوت کے بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مودی حکومت میں حالات اس قدر بگڑ چکے ہیں کہ فوج کے اعلیٰ ترین فرد اپنے ادارہ جاتی کردار کی حدود کو عبور کر رہا ہے۔انھوں نے مزید کیا کہ ‘ایسی صورت حال میں یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کہیں ہم فوج کو پالیٹیسائیز کر کے پاکستان کے راہ پر تو نہیں گامزن ہیں؟ کسی اعلیٰ فوجی افسر کے جمہوری تحریک کے بارے میں ایسے بیان کی مثال آزاد انڈیا کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی نہیں ملتی۔یچوری نے آرمی چیف سے اپنے بیان پر ملک سے معافی مانگنے کو کہا تھا۔ ‘کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے حکومت سے اس معاملے پر جنرل کی مذمت کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔جنرل راوت کے اس بیان پر آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے صدر اور رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے بھی اعتراض کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ ‘اپنے عہدے کی حدود کو جاننا ہی قیادت ہے۔ یہ شہریوں کی بالادستی اور آپ جس ادارے کے سربراہ ہیں اس کی سالمیت کا تحفظ ہے۔راہل بیدی کا کہنا ہے کہ جنرل راوت کے بیانات تب ہی رکیں ہوں گے جب حکومت نے انھیں روکنے کا اشارہ دیا ہو گا۔جنرل راوت نے چین کے بارے میں بھی کھل کر بولتے تھے۔ حال ہی میں انھوں نے کہا تھا کہ پاکستان نہیں بلکہ چین انڈیا کے لیے خطرہ ہے۔بعض اوقات جنرل راوت کے بیان کی وجہ سے حکومت کو سفارتی تعلقات میں بھی بے چینی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ چین نے مشرقی لداخ میں ‘لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر اپریل 2020 سے پہلے کے نظام کو تبدیل کر دیا ہے اور یہ اس وقت ہوا جب جنرل راوت سی ڈی ایس تھے۔ ایسی بہت سے مسائل ہیں جو اگلے سی ڈی ایس کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوں گے۔جنرل راوت اسرائیل کے ساتھ فوجی تعلقات بڑھانے کے بھی حق میں تھے۔ ان کی موت پر اسرائیل کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے غم کا اظہار کرتے ہوئے کئی رد عمل سامنے آئے۔ وزیراعظم نفتالی بینیٹ سے لے کر سابق وزیراعظم تک نے غم کا اظہار کیا۔اسرائیل کے ریٹائرڈ آرمی جنرل بینی گینٹز نے ٹویٹ کیا کہ ‘جنرل راوت اسرائیل کی دفاعی افواج کے حقیقی شراکت دار تھے۔ جنرل راوت نے دونوں ممالک کے درمیان سیکورٹی تعاون کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ جلد ہی اسرائیل آنے والے تھے۔مودی حکومت اسرائیل کے حوالے سے پچھلی حکومتوں سے کافی مختلف رہی ہے۔ نریندر مودی بطور وزیر اعظم اسرائیل کا دورہ کرنے والے پہلے انڈین وزیر اعظم ہیں۔ اس سے قبل وزرائے اعظم اسرائیل جانے سے گریز کرتے تھے۔(بشکریہ بی بی سی)

متعلقہ خبریں

جموں کے بکرم چوک میں ایک المناک حادثے میں گاڑی دریا تیوی میں گر گئی جس کے نتیجے میں ڈرائیو اور کنڈیکٹر کی موت ہوئی پولیس.

پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ سادھنا ٹاپ پر خاتون سمیت تین افراد سات کلو نارکوٹکس اور 2آئی ای ڈی سمیت گرفتار کئے گئے پولیس.

گاندربل میں نوجوان کو مردہ پایا گیا وسطی ضلعع گاندربل کے گاڈوہ کھیتوں میں 28سال کے نوجوان کی نعش برآمد کرلی گئی پولس.

صدرِ جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبد للہ نے حضرت میرک شاہ صاحب ؒ کے سالانہ عرص مبارک باد.

کونہِ بل پانپور میں آج صبح ایک دلدوز سانحہ پیش آیا جسمیں دو افراد موت کی آغوش میں چلے گۓ۔ کونہِ بل علاقے میں کھیتوں.