ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

سرینگر /22مئی / این این این
انتظامیہ کی جانب سے رہبر جنگلات، رہبر زراعت،.

سرینگر /22مئی / این این این بارشوں کے بعد جموں کشمیر کے کئی علاقوں میں شبانہ.

کیمپ میں سینکڑوں مریضوں کا طبی معائنہ کیا گیا اور مفت ادویات بھی تقسیم کی.

ندائے کشمیر ’’مجھے کچھ کہناہے ‘‘

   162 Views   |      |   Sunday, May, 22, 2022

جی آر بیگ میموریل ٹرسٹ کی اہم میٹنگ منعقد

نـــوٹ:۔ معزز قارئینِ کرام ہفتہ روزہ ندائے کشمیر میں ’’مجھے کچھ کہناہے ‘‘ کے نام سے ایک سلسلہ وار کالم آج سے شروع کیا گیاہے ، جس میں ہر ہفتہ کسی مخصوص موضوع پرمختلف طبقہ ہائے فکر سے وابستہ لوگوں کا نقطہ نظر جاننے کی کوشش کی جائے گی۔ہفتہ ھٰذا کے لیے جس موضوع کا انتخاب کیا گیا ہے وہ ہے ’’کشمیری زبان و ثقافت کا تحفظ‘‘۔

(علی شیدا )

کشمیری زبان و ادب کی صورت حال اس قدر بھی مایوس کن نہیں ہے جتنا اسے مختلف ادبی نشستوں میں اچھالا جارہا ہے۔ وقت کے بدلنے کے ساتھ ساتھ زبان و ادب میں بھی تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں۔ یہ ایک مثبت فطری عمل ہے۔ اور اس سے زبان و ادب کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔
مختلف ادبی انجمنیں اپنی اپنی جگہ اپنی اپنی حثیت کے مطابق زبان و ادب کی خدمت کررہی ہیں۔ نئے موضوعات تلاشے جارہے ہیں اور زبان و ادب میں دیگر علوم کو شامل کرکے اسے وسعت دی جارہی ہے۔ نئے قلم کاروں کو پلیٹ فارم مہیا کیا جارہے ہے اور انہیں رہنمائی کے ساتھ ساتھ انعامات سے نواز کر حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ہاں یہ بات ضرور ہے کہ کچھ عناصر کشمیری زبان و ادب کے تئیں منفی رجحانات کو بڑھاوا دینے کے در پے ہیں ہمیں ایسے شکستہ خوردہ عناصر سے ہوشیار رہنا چاہئے۔کشمیری زبان و ادب کی تاریخ بہت پرانی ہے اور یہ ایک مکمل اور منفرد زبان ہے جو ادب کے لحاظ سے ہر طرح مالا مال ہے ۔

عبدل رحمان فدا

عظیم فلسفیوں، دانشوروں اور عالموں کا ماننا ہے کہ ایک قوم کی پہچان اس کی مادری زبان سے ہوتی ہے ۔جو قوم اپنی مادری زبان کو پیار اور لگن کے ساتھ زندہ رکھے وہ کون زندہ ہے اور وہ قوم جو اسے یعنی مادری زبان کو ہیچ اور نیچ سمجھ کر دوسری زبانوں کو روز مرہ کی زندگی کی استعمال میں لائے وہ وہ قوم مردہ ہے۔اگر ہم اپنی مادری زبان کشمیری کی بات کریں تو لگتا ہے کہ یہ زبان بھی روز بروز زوال پذیر ہی نظر آ رہی ہے ۔مختلف وجوہات کی بنا پر جس کے لیے ہم کشمیری قوم خاص کر کشمیری بولنے والے انفرادی صورت میں یا اجتماعی طور بذات خود ذمہ دار ہیں حالانکہ ہر سال تقریبا دو ڈھائی سو سے زاید نشری یا شعری مجموعے چھپ کر آتی ہے مگر قارئین کی تعداد گھٹتی جا رہی ہے جو انتہائی فکر انگیز بات ہے ۔کیونکہ ہمارا نوجوان طبقہ فلمی کہانیاں اور دیگر ناولیں پڑھنے میں کافی دلچسپی لیتے ہیں اور کشمیری زبان میں چھپی کتابیں مفت میں لینے سے قاصر ہیں۔صاحب ثروت کیا ہمارے متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان نسل اردو بولنا ہی پسند کرتے ہیں اور کشمیری بولنا انہیں ایک عیب سا لگتا ہے اور ایسے نوجوان اور ایسے گھرانے غلط فہمی کا شکار ہے اور اپنے معاشرے یا سماج میں اپنے کو مہذب تعلیم یافتہ اور ماڈرن ہونے کا فرضی دکھاوا کرنے کے شوقین نظر آتے ہیں لیکن یہ سب کچھ ایک دھوکا ہے کیونکہ اپنی مادری زبان کو حقیر سمجھ کر دیگر زبانوں کا سہارا لینا نہ کوئی بڑا پن ہے اور اور نہ مہذب ہونے کی نشانی ۔اس لئے انہیں اس غیر سنجیدہ عمل سے باز آنے کی تلقین کی جاتی ہے ۔میں وادی کے جملہ ادبی تنظیموں سے سے بھی گزارش کرتا ہوں کہ وہ بھی اپنی ادبی مجلس میں اس موضوع کی طرف خصوصی دھیان دیں اور کشمیری زبان و ادب کے حوالے سے مختلف مضامین کا اہتمام کیا جائے۔ اور عوام الناس خاص کر نوجوان نسل پر کشمیری زبان کو اپنی روزمرہ زندگی میں بروئے کار لانے کیلئے خصوصی زور دیں۔

غلام محمد دلشاد

موجودہ علمی لسانی اور سائنسی دور میں زیادہ ضرورت اور استمال ہونے والی زبانوں نے مقابلتہ” محدود اور مقید زبانوں کو اپنی حیت اور حشیت زندہ اور جاوید رکھنے کے لئے جدید آزماشیوں سے دو چار کیا ہے۔کشمیری زبان کو اس امتحان میں کوئی اثتشنا نہیں ہے ۔اگرچہ ماضی قریب سے جاری کشمیری زبان میں ماہر استادوں ، زبان دانوں اور ادبی تنظیموں کی کاوشوں اور کوششوں نے لسانی معاملے میں احساس محرومیت تقریبا ختم کیا ہے اور کشمیری زبان کو جلا بخشنے کی کوششیں جاری و ساری ہیں۔الیکٹرانک میڈیا دوڈ میں شامل ہے اور پرنٹ میڈیا اپنا رول ادا کرنے کی شروعات شد ومد سے کر چکا ہے۔مگر ہمیں تھکنے کا نام نہ لیکر اس زبان کو پاپر جائی کے لئے وقت کے تناظر میں نت نئے طور طریقے تراشنے کی اشد ضرورت ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کیا ہم ابھی کشمیری زبان میں سرکاری اور نجی طور پر کوئی یکسان رسم الخط تک نہیں دے پائے ہیی۔اس بات کا اپنے وقت میں مرحوم جناب غلام نبی گوہر صاحب بھی استفسار کرتے رہے۔میں ذاتی طور مایوس نہیں ہوں مگر مطمین ہونا منجمد ہونے کے مترادف ہے۔میری حقیر اور مودبانہ گزارش ہےکہ طالب علموں، زبان دانوں،قلمکاروں صحافیوں اور شناساوں کو اپنے تحقیقاتی جائزہ جات، مضامین اور معلوماتی مواد کشمیری زبان میں برملہ طور مختلف میڈیا و دیگر ذرائع کے ذریعے آگے آ کر اپنی مادری زبان کو عصری تقاضوں کے تحت وقتی سانچے میں ڈالنے کی کوشش کرنی چاہے کیونکہ ہمارا دوام ہماری زبان کے ساتھ وابستہ ہے

متعلقہ خبریں

سرینگر /22مئی / این این این
انتظامیہ کی جانب سے رہبر جنگلات، رہبر زراعت، اور رہبر کھیل کے تحت ہوئیں تعیناتیوں.

سرینگر /22مئی / این این این بارشوں کے بعد جموں کشمیر کے کئی علاقوں میں شبانہ درجہ حرارت معمول سے کچھ نیچے درج کیا گیا.

کیمپ میں سینکڑوں مریضوں کا طبی معائنہ کیا گیا اور مفت ادویات بھی تقسیم کی گئیں پلوامہ/ تنہا ایاز/ جنوبی ضلع پلوامہ.

سرینگر /21مئی // این این این سرینگر جموں شاہراہ پر خونی نالے کے قریب زیر تعمیر ٹنل مہند م ہونے کے بعد لاپتہ مزدوروں.

صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ (رکن پارلیمان) نے آج نٹی محلہ میر بحری کلان رینہ واری (ڈل) جاکر وہاں گذشتہ.