ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

جموں کے بکرم چوک میں ایک المناک حادثے میں گاڑی دریا تیوی میں گر گئی جس کے.

پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ سادھنا ٹاپ پر خاتون سمیت تین افراد سات کلو نارکوٹکس.

گاندربل میں نوجوان کو مردہ پایا گیا وسطی ضلعع گاندربل کے گاڈوہ کھیتوں میں.

شیر کشمیر بھون میں نیشنل کانفرنس اوبی سی ونگ کا یک روزہ کنونشن

   104 Views   |      |   Saturday, May, 28, 2022

حضرت سید میرک شاہ صاحب ؒکاشانی کے عرس پر ڈاکٹر فاروق کی مبارکباد

حدبندی کمیشن میں توسیع پہ توسیع حکومتی قول و فعل میں تضاد کی عکاس

تاناشاہی اور افسر شاہی بہت ہوگئی، عوامی حکومت کا کوئی متبادل نہیں ہوسکتا: ڈاکٹر فاروق عبداللہ

سرینگر؍ ؍08دسمبر؍ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر کے لوگ اس وقت زبردست گوناگوں مسائل سے دوچار ہیں ، تاناشاہی سے مسائل کا حل نہیں ہوسکتا ، صرف عوامی حکومت ہی عوام کو موجودہ دلدل سے نکال سکتی ہے ۔ان باتوں کا اظہار انہوں نے آج شیر کشمیر بھون جموں میں پارٹی کی او بی سی ونگ سے وابستہ عہدیداران اور کارکنان کے یک روزہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کنونشن میں پارٹی کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال ، صوبائی صدر ایڈوکیٹ رتن لعل گپتا، اعجاز جان، مشتاق احمد بخاری،وجے لوچن ، اجھے سدھوترا ، شیخ بشیر احمد اور دیگر لیڈران بھی موجود تھے۔ کنونشن کا اہتمام او بی سی ونگ کے چیئرمین عبدالغنی تیلی نے کیا تھا۔ کنونشن میں 3قراردادیں منظور کی گئیں، جن میں دفعہ370اور 35اے کی بحالی، جموں وکشمیر کے ریاستی درجے کی واپسی کے علاوہ او بی سی کیلئے 27فیصد ریزرویشن اور شیڈل کاسٹ و شیڈول ٹرائب کی طرز پر یک وقتی کٹیگری سرٹیفکیٹ کی اجرائی کا مطالبہ شامل ہے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنا خطا ب جاری رکھتے ہوئے حکومت کے قول و فعل میں تضاد اور حد بندی کمیشن کو توسیع پہ توسیع دینے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے حدبندی کمیشن قائم کیا اور اُن سے کہا گیا تھا کہ 6مارچ 2021کو اپنی رپورٹ مکمل کی جائے اور اس میں توسیع نہیں ہوگی لیکن کل پارلیمنٹ میں بتایا گیا کہ کمیشن اپنا کام کررہا ہے اور اس میں کوئی وقت مقرر نہیں کیا گیا ہے۔ جن لوگوں نے کل پارلیمنٹ میں یہ بات کہی انہی لوگوں نے کہا تھا کہ 6مارچ تک حد بندی مکمل ہوجائے گی۔ہم بھی اس کمیشن کے ممبر ہیں، لیکن آج تک ہمیں نہ بلایا گیا، نہ ہمیں کوئی رپورٹ دکھائی گئی اور نہ ہی ہمیں پتہ ہے کہ کمیشن کر کیا رہا ہے؟یہ حال ہے کہ یہاں کی جمہوریت کا ، یہ لوگ کہتے ایک بات ہے اور کرتے دوسری بات ہیں‘‘۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ’’بہت تاناشاہی ہوگئی، بہت افسرشاہی ہوگی،بہت لیفٹنٹ گورنر کی حکومت ہوگئی،عوام اب اور زیادہ نہیںسہہ سکتے، اب عوامی حکومت آنی چاہئے، عوامی حکومت سے ہی لوگوں کے مسائل حل ہوسکتے ہیں، چاہے جتنے بھی جھوٹے دعوے کئے جائیں تاناشاہی سے مسئلے حل نہیں ہوسکتے۔ جموں وکشمیر کی زمینی صورتحال ہی دیکھ لیجئے، نئی دلی سے یہاں امن و امان، ترقی اور ٹورازم کے دعوے کئے جارہے ہیں لیکن زمینی حالات ان سارے دعوئوں کی نفی کرتے ہیں۔ ‘‘صدرِ نیشنل کانفرنس نے کہا کہ اخبار والوں اور میڈیا والوں کو سچ شائع کرنے کی اجازت نہیں، اگر یہ لوگ زمینی صورتحال کی صحیح عکاسی کریں گے تو انہیں جیل بھیج دیا جائے گا اور ان پر ایسے ایسے قوانین کا اطلاق عمل میں لایا جائے گا کہ وہ زندگی بھر عدالتوں میں الجھے رہیں گے اور ساتھ ہی سرکاری اشتہار بند کئے جائیں گے تاکہ اُس کا اخبار بند ہوجائے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں ایسا قانون لایا جانا چاہئے جس میں میڈیا کو آزاد سے لکھنے پر تحفظ حاصل ہو ۔ صرف لوگوںکو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی تحریروں پر پابندی ہونی چاہئے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جموں وکشمیر میں ہماری حکومتوں کے دوران ذرائع ابلاغ پر کوئی پابندی نہیں تھی اور صحافی حکومت کیخلاف آزادی سے لکھتے تھے اور ہم بھی اخباروں کے اداریہ پڑھ کر حقائق سے آشنا ہوجاتے تھے اور سرکار صحیح راستہ اپناتنی تھی۔ انہوں نے کہا کہ انشاء اللہ جموں و کشمیر میں عوامی حکومت آئیگی اور میڈیا و ذرائع ابلاغ پھر سے آزاد ہوجائیگا۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ اگرچہ اس وقت میڈیا اور اخبار والوں پر دبائو ہے لیکن زمینی سطح پر لوگ جانتے ہیں کیا ہورہا ہے، آج کے لوگ باشعور ہیں اور کھرے اور کھوٹے میں فرق کرنا اچھی طرح جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے حقوق کیلئے بے خوف لڑنا چاہئے، یہ لوگ ہم پر بہت سارے الزامات لگائیں گے، میرے والد پر بھی الزامات لگائے گئے اور مجھ پر بھی لگائے گئے لیکن اس میں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ ان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں، ہمیں ہمت اور حوصلے کیساتھ ثابت قدم رہنا چاہئے، کل یہی لوگ ہمارے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ آپ صحیح تھے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس حکومتوں کے دوران خصوصاً عمر عبداللہ کی حکومت میں او بی سی طبقہ کی زندگی کا معیار بہتر بنانے کیلئے بہت کام ہوا اور اس سلسلے میں او بی سی بورڈ کا بھی قیام عمل میں لایا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس او بی سی سمیت تمام پچھڑے ہوئے اور پسماندہ طبقوں کی بہتری کیلئے کام کرتی رہے گی۔

متعلقہ خبریں

جموں کے بکرم چوک میں ایک المناک حادثے میں گاڑی دریا تیوی میں گر گئی جس کے نتیجے میں ڈرائیو اور کنڈیکٹر کی موت ہوئی پولیس.

پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ سادھنا ٹاپ پر خاتون سمیت تین افراد سات کلو نارکوٹکس اور 2آئی ای ڈی سمیت گرفتار کئے گئے پولیس.

گاندربل میں نوجوان کو مردہ پایا گیا وسطی ضلعع گاندربل کے گاڈوہ کھیتوں میں 28سال کے نوجوان کی نعش برآمد کرلی گئی پولس.

صدرِ جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبد للہ نے حضرت میرک شاہ صاحب ؒ کے سالانہ عرص مبارک باد.

کونہِ بل پانپور میں آج صبح ایک دلدوز سانحہ پیش آیا جسمیں دو افراد موت کی آغوش میں چلے گۓ۔ کونہِ بل علاقے میں کھیتوں.