ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

سرینگر /22مئی / این این این
انتظامیہ کی جانب سے رہبر جنگلات، رہبر زراعت،.

سرینگر /22مئی / این این این بارشوں کے بعد جموں کشمیر کے کئی علاقوں میں شبانہ.

کیمپ میں سینکڑوں مریضوں کا طبی معائنہ کیا گیا اور مفت ادویات بھی تقسیم کی.

افسانہ’’لمبے قد کا بونا‘‘

   76 Views   |      |   Sunday, May, 22, 2022

آزاد قیدی..۔۔۔۔۔۔۔۔مغربی مورال پر کراس

(مشتاق احمد نوری۔بہار)
(تجزیہ:ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری)

افسانہ’’لمبے قد کا بونا‘‘ میں مرکزی کردار’راجن‘(بونا)کی کردار نگاری دیکھ کر یوسف جمال کا شعر یاد آیا:
بونا تھا وہ ضرور مگر اس کے باوجود
کردار کے لحاظ سے قد کا بلند تھا
مشتاق احمد نوری صاحب ایک مشاق(بہت مہارت رکھنے والا)افسانہ نگار ہیں۔کیونکہ وہ فن افسانہ نگاری کا فہم بھی رکھتے ہیں‘ اس فن کو افسانے میں برتنے کا ہنر اور کسی بھی افسانے کے بنیادی تھیم کی تہہ تک پہنچنے کا ادراک بھی رکھتے ہیں۔جس کااندازہ دوسرے افسانہ نگاروں کے افسانوں پر ان کے کئے گئے تبصروں‘جوکہ کئی فورمز یا رسائل میں نظر سے گزرے ہیں‘سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔
اب پیش نظر افسانے کے عنوان ’’لمبے قد کا بونا‘‘ اور تھیم کی مماثلت پر غور کریں تو موضوعاتی برتاؤ میں افسانہ اور کہانی کے تھیم میں فنی اور موضوعاتی ربط متاثر کن انداز سے مماثلت کا حامل ہے۔کیونکہ عنوان استعارتی انداز سے خود ہی اشارہ کررہا ہے کہ بونا اگرچہ قد سے چھوٹا ہے لیکن ہے تو لمبے قد کاانسان‘وہ کیسے؟ اس کو افسانہ نگار نے بڑی ہنرمندی سے بونے راجن کی کردار نگار میں ثابت کرکے دکھایا ہے۔ایک تو بونوں کی نمائندگی کرکے سرکس کے مالک سے بونوں پر ہورہے استحصال کو ختم کروانے اور دوسرا سرکس میں کام کررہی لڑکیوں کے ساتھ زیادتیاں رکوانے کی مہم میں کامیاب ہونے سے۔سرکس مالک سے بونوں کے مسائل حل کرنے پر راجن بونوں کا ہیرو بن جاتا ہے اور سارے بونے اسے باس کہہ کر پکارنے لگتے ہیں:
’’راجن ان بونوں کے کندھے پر سوار تھا اور بڑے جوکر اسے پنکھے سے ہوا جھل رہے تھے۔‘‘
اور لڑکیوں کے ساتھ ہورہے استحصال کو ختم کروانے کے بعد’’اب لڑکیاں راجن کو دیکھ کر مسکرانے کی بجائے اس کا احترام کرتی تھیں۔‘‘
کسی بھی افسانے میں زبان وبیان‘موضوعاتی فضابندی‘کردارنگاری اور واقعات کی منظرکشی و جزئیات نگاری وغیرہ لازمی اجزا ہوتے ہیں۔اس افسانے میں یہ سبھی لوازمات دیکھ کر ہی میں اس کا تجزیہ کرنے کے لئے آمادہ ہوا۔برسبیل تذکرہ اسی موضوع پر میری نظر سے گلزار(فلم انڈسٹری)کا ایک اہم افسانہ’’ادّھا‘‘اور ایک ناول Dwrf people یا The Dwarf بھی گزرا ہے۔ ادھا کا میں نے تنقیدی جائزہ بھی لیا ہے۔ بہرحال‘کردار نگاری میں کہانی صیغہ واحد میں راوی کی زبان میں پیش ہوئی ہے اور کہیں کہیں حسب ضرورت مکالمے بھی پیش ہوئے ہیں۔پلاٹ میں کرداروں کے پس منظر اور پیش منظر کی عمدہ منظر کشی کی گئی ہے۔راجن کی کردا ر نگاری ساکن اور متحرک (Static and dynamic)رول کی عکاسی کرتی ہے۔پہلے وہ ایک قابل تعلیم یافتہ ہونے کے باوجودنفسیاتی طور پر اپنے بونے پن پرہورہے سماج کے طنزیہ رویہ کو خاموشی سے سہتا ہے اور مایوس بھی ہوجاتا ہے لیکن پھر سرکس میں اپنا ٹیلنٹ دکھاکر لوگوں اور سرکس والوں کے دل جیت لیتا ہے اور اس کے اندر اتنی خود اعتمادی پیداہو جاتی ہے کہ وہ ایک متحرک کردار بن کر افسانے میں سامنے آتا ہے۔ پیامی سطح پر دیکھیں تو بونے بھی سماج کی بہتری کے لئے کچھ نہ کچھ اچھا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اس لئے انہیں کم تریا طنز کا نشانہ بنانا اخلاقی پستی ہی کہلایا جاسکتا ہے۔ منظر نگاری کی بات کریں تو پورا افسانہ اگرچہ سرکس کے منظرنامے پر تخلیق ہوا ہے لیکن استعاراتی طور پر افسانے کے موضوعاتی کینوس پر توجہ دیں تو افسانہ سماج کے ان افراد کی کرب ریز زندگی اور دکھ بھری داستان کی بھی ترجمانی کرتا ہے جو یا تو بونے ہوتے ہیں یا کسی اور جسمانی نقص کی وجہ سے سماج کاطنز بن جاتے ہیں۔اب اگر کہانی کے موضوعاتی کینوس کو ردتشکیل سے گزاریں تو بونا ملک کی اقلیت کے مسائل اوراکثریت یا صاحب اقتدار لوگوں کے ہاتھوں ان پر ہورہے استحصال کی فکرانگیز عکاسی کرتا ہے جنہیں اب سیاسی طورپر بونا ہی بنایا گیا ہے۔ اس طرح سے یہ افسانہ‘افسانہ ہونے کے باوجود موضوعاتی طور پر سماج کے ایک اہم ایشو کی زندہ حقیقت(Living reality)کا تخلیقی منظرنامہ سامنے لاتا ہے۔یعنی یہ ان لوگوں کی احساس کمتری(Inferiority complex)یا احساس محرومی کااستعارتی سچ سامنے لاتا ہے جنہیں انسان ہونے کے باوجود ایک کھلونے سے زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی ہے اور ان کے وجود کو استہزابنایا جاتا ہے۔ان خصائص کی بنیاد پر یہ ایک کامیاب اور قابل توجہ افسانہ ہے۔
اب تکنیکی طور پر افسانے کے انجام پر غور کریں تو بونے ارجن کی موت یا ایک طرح سے قتل کی وجہ سے افسانہ المناک انجام (Tragic end)پر ختم ہوجاتا ہے۔میں نے جب اس پر غور کیا تو المناک انجام تو ٹھیک لگا لیکن اس انجام کی عشقیہ توجیہ کچھ خاص متاثر نہ کرسکی۔اگر اس کی بجائے راجن کی موت کی سازش میں درپردہ کردار’’شیرا ‘‘کی عشقیہ رقابت کے ساتھ ساتھ سرکس کے مالک کے بدلے کی آگ کو بھی دکھایا جاتا تو افسانہ سرمایہ دارانہ ذہانت یا استحصالی عناصر کے خلاف راجن کی موت یا کردارنگاری کو ایک انقلابی موڑ دے دیتا اورراجن کا کردار پورے زور کے ساتھی ایک انصاف پسند حامی(Protagonist)کے بطور سامنے آجاتا اور افسانہ ایک اہم سماجی ایشو کی بھرپورعکاسی کرکے نمائندہ احتجاجی افسانوں میں اپنی جگہ بنانے میں مزید کامیاب ہوجاتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔مسکراہٹ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Address:Wadipora Handwara Kashmir 193221
Cell: 7006544358

متعلقہ خبریں

سرینگر /22مئی / این این این
انتظامیہ کی جانب سے رہبر جنگلات، رہبر زراعت، اور رہبر کھیل کے تحت ہوئیں تعیناتیوں.

سرینگر /22مئی / این این این بارشوں کے بعد جموں کشمیر کے کئی علاقوں میں شبانہ درجہ حرارت معمول سے کچھ نیچے درج کیا گیا.

کیمپ میں سینکڑوں مریضوں کا طبی معائنہ کیا گیا اور مفت ادویات بھی تقسیم کی گئیں پلوامہ/ تنہا ایاز/ جنوبی ضلع پلوامہ.

سرینگر /21مئی // این این این سرینگر جموں شاہراہ پر خونی نالے کے قریب زیر تعمیر ٹنل مہند م ہونے کے بعد لاپتہ مزدوروں.

صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ (رکن پارلیمان) نے آج نٹی محلہ میر بحری کلان رینہ واری (ڈل) جاکر وہاں گذشتہ.