ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

جموں کے بکرم چوک میں ایک المناک حادثے میں گاڑی دریا تیوی میں گر گئی جس کے.

پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ سادھنا ٹاپ پر خاتون سمیت تین افراد سات کلو نارکوٹکس.

گاندربل میں نوجوان کو مردہ پایا گیا وسطی ضلعع گاندربل کے گاڈوہ کھیتوں میں.

پہونچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا

   94 Views   |      |   Sunday, May, 29, 2022

مجھے یاد ہے سب ذرا ذرا

ڈاکٹر عبدالمجید بھدرواہی

نادیہ اور مبشر کی شادی دونوں اطراف کی رضامندی سے بڑے خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ دونوںگھرانے از حد خوش تھے اور اللہ تعالیٰ کے حضور ہمیشہ سربسجود رہتے تھے۔
پھرنہ جانے کیاہواکہ صرف ۳ ماہ کے اندر اندر دونوں کے درمیان تلخیاں اورغلط فہمیاں جنم لینے لگیں۔اوران کا ہنسنا کھیلنا دلوں میں فکروپریشانی اور غم وغصہ میں بدل گیا۔
بات بات پر ایک دوسرے کی نکتہ چینی کرنے اور جھگڑنے لگے نکتہ چینی دونوں ایک دوسرے کے کام کاج میں نقص نکالنے کی تلاش میں رہتے ۔ڈاکٹر نعمان جوکہ مبشر کا بچپن کا دوست تھا ۔نے بہت کوشش کی کہ ان کے درمیان غلط فہمیاں دور ہوں اور وہ پھرایک دوسرے سے شیر وشکرہوکررہیں مگراس کی بہت کاوشوں کے باوجود بھی وہ اس مشن میں ناکام ہوگیا۔آخر تھک ہار کراس نے اس مسئلہ سے کنارہ کشی اختیارکرلی۔
چھوٹی چھوٹی باتوں سے بات بڑھتے بڑھتے شور شرابے اور لڑائی جھگڑوں سے گذرتی ہوئی طلاق پرختم ہوگئی۔
دونوں میںتلخیاں ضرور تھیں مگرکوئی بھی طلاق کے لئے سوچ بھی نہیںسکتاتھا۔ تاہم نہ چاہتے ہوئے بھی ان کی علاحدگی بہ عمل آئی اب دونوں ہی اپنی اپنی جگہ پریشان رہنے لگے ۔ مگراب کیا ہوسکتا تھا۔
جاتے جاتے نادیہ نے مبشر کوصرف اتنا کہاکہ میرا خلوص بھرا پیار تجھے کبھی بھی سکون سے نہیں بیٹھنے دے گا اورتم تمام عمر بچھتاتے رہوگے اورپھر ایک دن خود مان جاؤ گے کہ قصور صرف اور صرف تمہاراہی ہے ۔
نادیہ کے والدین دو ماہ کے اندرہی اس دنیاکو خیر باد کہہ کر چلے گئے ۔تووہ اب وہ بالکل اکیلی رہ گئی۔
والدین کے چلے جانے کے بعد نادیہ اب خود بھی چھوٹی چھوٹی بیماریوں میں مبتلا رہنے لگی ۔ کبھی سردرد۔ کبھی زکام کبھی یہ فکر تو کبھی وہ پریشانی۔ ایک بارجب اُلٹیوں اور پیٹ درد نے اسے زیادہ پریشان کردیا تو وہ لیڈی ڈاکٹر کے ہاں گئی۔ جس نے معائینہ کرنے کے بعد بتایا کہ وہ حاملہ ہے۔ اس خبر سے نادیہ خوش بھی ہوئی اور پریشان بھی۔ خوش اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اولاد سے نوازہ اور پریشانی اس لئے کہ اب خرچہ اور بڑھ جائے گا۔ پہلے اپناخرچہ پھر بچہ کاخرچہ اور دیکھ بھال۔
بڑی کوشش سے اس کو ایک پرائیویٹ سکول میں اُستانی کی نوکری مل گئی۔
اسی دور ان مبشر نے دوسری شادی کی ۔مگر نادیہ نے شادی کے خیال کو اپنے دل ودماغ میں آنے ہی نہ دیا ۔
دوسری شادی کے ایک سال تک مبشر کے ہاں،وہ اب کبھی اس ڈاکٹر تو کبھی اس ڈاکٹر ، کبھی اس ہسپتال تو کبھی اس ہسپتال جاتا رہا۔ پیروں، فقیروں ، درگاہوں پر حاضریاں دینا اس کاایک معمول بن گیا ۔
آخر تھک ہار کر پریشان رہنے لگا ۔اب اوربھی کیا کیاجاسکتاتھا۔
آخر کارایک مشہور ماہر امراض خواتین سے ڈاکٹرنعمان نے بھابھی کی بچہ دانی میں ایک ایسا نقص ہے جس کی وجہ سے بچہ پیدا ہوناناممکن ہے ۔ باقی اللہ مالک کُل ہے۔
اپنے دوست کے ساتھ ساتھ اب ڈاکٹر نعمان بھی پریشان رہنے لگا ۔وہ ان کو اپنی طرف سے جھوٹی تسلیاں دیتا رہا۔
ایک دن اس نے بڑی ہمت جٹاکر کہہ ہی دیاکہ دوOptionsہیں ان میں سے اختیار کرنا ہوگایا تو ایک اور شادی کرایا کسی دوسرے بچے کو گود لے لو۔
پہلی تجویز کومبشر نے سیدھے طور ٹھکرا دیا ۔دوسری تجویز پر انہوںنے غور کرنا مان لیا۔
ڈاکٹر نعمان نے کہا کہ یہ فیصلہ بڑے سوچ سمجھ کرلیناچاہئے ۔اگر آپ فیصلہ کرو تو میں اپنے ہسپتالوںپر نظر رکھوا لوں گا کہ اگر کسی طرح ممکن ہو تو ہم بچہ گود لیں گے۔ہوسکتا ہے کہ کسی بچہ کی ماں زچگی کے دوران فوت ہوجائے یاکسی کے دوبچے ہوں اور وہ خود ہی دوسرے بچے کو گود دینے کے لئے تیار ہو۔ یہ سب اللہ کا کرنا ہوگا۔
اسی طرح نو ماہ گزر گئے۔
نادیہ ہسپتال میں Deliveryکے لئے داخل ہوئی اس کے ہاں لڑکا پیدا ہوا۔ خون کی کمی اور کمزوری کی وجہ سے نادیہ بڑی مشکل سے بچ گئی ۔ ڈاکٹروں کی کوشش سے نادیہ کو نئی زندگی ملی۔
جب نادیہ کو ہوش آیا تواس کو صحت یابی کی مبارک باددی گئی ۔ مگر ساتھ لڑکے کے پیدا ہونے کے بعد ہی فوت ہونے کی بری خبر سنادی ۔ایسا ڈاکٹر نعمان نے جان بوجھ کر سنایا۔
اس نے من گھڑت خبر مبشر اور اس کی بیوی کوسنادی کہ ایک لیڈی ڈاکٹر نے اس کوبتایا کہ ایک لڑکا مل سکتاہے جس کی ماںبچے کو جنم دینے کے بعد ہی فوت ہوگئی ہے۔
خیرایہ نوزائیدہ لڑکامبشر اور بھابھی کو دیا گیا وہ دونوں بہت خوش ہوگئے ۔
دن مہینے اورسال گذر تے گئے۔ یہ لڑکا پڑھتے پڑھتے کنڈر گارٹن سے پرائمری۔ہائی سکول کالج اور یونیورسٹی تک پڑھ کرایک کمپنی میں ملازم ہوگیا ۔
اب قدرتی طورپراس کے لئے رشتے آنے لگے۔ ایک لڑکی پر مبشر اور بھابھی کی نظر اٹک گئی۔
نکاح کی تاریخ مقرر ہوئی مگر اب مسئلہ بیٹے کے ماں باپ کا کھڑاہوا۔
مبشر اورنعمان دونوں ہی تعلیم یافتہ تھے ۔اسلامی شریعت سے واقف تھے ۔
بیٹے کے اصلی باپ اور ماں کا پتہ بہت ضروری تھا۔مبشر اس بیٹے کا پالنے والا ہوسکتاہے اصلی باپ نہیں جیساکہ حدیث شریف ہے۔زید بن حارثہ کا قصہ اس کی شریعت میں حکم صاف صاف ہے ۔
ڈاکٹرنعمان نے اس پریشانی میں ان کے ساتھ تین چار دن لگائے ۔
جوں جوں نکاح کی تاریخ نزدیک آتی گئی اتنی ہی پریشانی بڑھتی گئی۔ پھر جب ماحول گرم ہوگیا تو نعمان نے اپنی چپی توڑتے ہوئے انہیں بتایا کہ یہ لڑکا دراصل آپ کے ہی نطفے سے ہے ۔ شادی کے بعد حمل رہ گیا تھا۔ جب زچگی کا وقت آیا تو اس کوبتایا گیا کہ اس کا بچہ پیدا ہوتے ہی اللہ کو پیارا ہوگیا تھا۔(خدانخواستہ)
مبشر کویقین ہی نہیں آرہاتھا۔پھرجب بڑی مشکل سے یقین آیا تو اب یہ پریشانی حائل ہوئی کہ ماں کا مسئلہ کیسے حل ہو۔
اس پرڈاکٹرنعمان نے کہایہ کام بھی انشاء اللہ حل ہوجائے گا۔
اس بیچ بھابھی نے کہاکہ اسی وجہ سے شاید مبشر اوربیٹے دونوں کی تھوڑی پر کالا تل ہے۔
ڈاکٹرنعمان اب نادیہ کے یہاں گیا ۔ خیر خیریت کے بہانے اسنے نادیہ کو ساری بات تفصیل سے بتائی۔ سن کر وہ خوشی سے جھومنے لگی۔ اس کو نکاح کے دن شامل ہونے کے لئے منوالیا۔
ڈاکٹر نعمان نے کہاکہ نادیہ بہن ساری عمرمصیبت میںرہی۔ نہ خاوند ملا۔نہ بیٹا ملا۔ والدین کی موت بیٹے کی جھوٹی موت کی خبر کیوں نہ اس کو بھی یہ خوشخبری دیں۔
نکاح سے پہلے ملاقات کے دوران پوری بات ہوئی ۔ چونکہ سہہ طلاق نہیں ہوئی تھی اس لئے نکاح ثانی کی بات ضروری ہوئی۔ بھابھی نے کہامجھے کوئی اعتراض نہیں ۔ مبشر اس کابھی خاوند ہے ۔ بیٹا اسی کا ہے ۔ میں اس کو اپنانے کے لئے دل سے تیار ہوں۔ ہم دونوں سوکنیں بہنوں کی طرح رہیں گی۔
اس طرح اللہ نے اتنا الجھا ہوا مسئلہ چٹکی میں حل کردیا۔
’’پہونچی وہاں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔‘‘

����
ڈاکٹر عبدالمجید بھدرواہی
موبائل:8825051001

متعلقہ خبریں

جموں کے بکرم چوک میں ایک المناک حادثے میں گاڑی دریا تیوی میں گر گئی جس کے نتیجے میں ڈرائیو اور کنڈیکٹر کی موت ہوئی پولیس.

پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ سادھنا ٹاپ پر خاتون سمیت تین افراد سات کلو نارکوٹکس اور 2آئی ای ڈی سمیت گرفتار کئے گئے پولیس.

گاندربل میں نوجوان کو مردہ پایا گیا وسطی ضلعع گاندربل کے گاڈوہ کھیتوں میں 28سال کے نوجوان کی نعش برآمد کرلی گئی پولس.

ولر اردو ادبی فورم کشمیر ……………2022 نوٹ گزشتہ برسوں کے افسانوی ایونٹس کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے ولر.

ولر اردو ادبی فورم کشمیر ……………2022 نوٹ گزشتہ برسوں کے افسانوی ایونٹس کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے ولر.