ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

صدرِ جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبد للہ نے حضرت.

کونہِ بل پانپور میں آج صبح ایک دلدوز سانحہ پیش آیا جسمیں دو افراد موت کی.

جنوبی قصبہ قاضی گنڈ میں ٹرین کی ٹکر سے 50 سال کی خاتون لقمہ اجل بن گئیں فہمیدہ.

چین کے ساتھ سرحدی دفاع کو مزید تیزی سے مضبوط بنانے کے لیے کام شروع

   108 Views   |      |   Saturday, May, 28, 2022

کروز میزائل، ہووٹزر، امریکی ساختہ چنوک ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر اور اسرائیل میں بنائے گئے ڈرونز نصب

سرینگر /4نومبر /ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں چین اور بھارتی فوج کے درمیان جھڑپ کے ایک سال بعد ہندوستان نے اپنے سرحدی دفاع کو مزید تیزی سے مضبوط بنانے کے لیے کام شروع کردیا ہے جہاں یہ مقام دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے ایک وجہ تنازع بنا ہوا ہے۔ سی این ایس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق2020 کے وسط سے دونوں ملکوں میں کشیدگی میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہوا جب دونوں ملکوں کی فوج میں میں ہاتھوں سے ہونے والی جھڑپ میں کم از کم20 ہندوستانی اور چار چینی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ہر فریق معمول کے مطابق اپنے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں گشت کرتا ہے تاہم بھارت نے چین پر سرحد کے قریب مستقل بستیاں قائم کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔لیفٹیننٹ جنرل منوج پانڈے نے گزشتہ ماہ خطے کے ایک غیر معمولی دورے کے دوران صحافیوں کو بتایا تھا کہ ہم نے چین کی جانب سے انفراسٹرکچر میں بنیادی پیشرفت کا مشاہدہ کیا ہے اور اس کی وجہ سے ہم نے وہاں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔بھارت نے اروناچل پردیش میں اپنی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کرتے ہوئے کروز میزائل، ہووٹزر، امریکی ساختہ چنوک ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر اور اسرائیل میں بنائے گئے ڈرونز کو نصب کیا ہے۔خطے کے افسروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال جھڑپوں نے سرحد پر فوج کی موجودگی بہتر اور مضبوط بنانے کی فوری ضرورت کو اجاگر کیا کیونکہ سرحد پر کشیدگی کم کرنے کے لیے دونوں فریقوں میں مذاکرات ناکام ہو گئے تھے۔تبت کے قریبی علاقے توانگ میں عمومی طور پر درجہ حرارت نقطہ انجماد سے گر جاتا ہے اور آکسیجن کی کمی بھی ہو جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ موسم سرما میں قریبی فوجی چوکیوں کا بیرونی دنیا سے رابطہ کئی ہفتوں کے لیے منقطع کیا جا سکتا ہے۔ہندوستانی فوج کے ایک بریگیڈیئر نے بتایا کہ خطے کا جغرافیہ انسانوں کے لیے نقصان دی ہے، اگر کوئی مکمل طور پر فٹ، تربیت یافتہ یا موسم کے لحاظ سے تیار نہیں ہے تو یہ موسم مہلک ہوسکتا ہے۔فوجی انجینئر سطح سمندر سے 13ہزار فٹ کی بلندی پر ایک بہت بڑی سرنگ بنا رہے ہیں جو اگلے سال تک کھلنے کا امکان ہے تاکہ اس علاقے کو جنوب کی جانب سے مزید راستوں سے منسلک کیا جا سکے۔پراجیکٹ کے ڈائریکٹر کرنل پرکشت مہرا نے کہا کہ ان سرنگوں کی تعمیر کے بعد توانگ میں مقامی لوگوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان ہر موسم میں رابطہ ممکن ہو سکے گا۔اسی طرح کا ایک منصوبہ لداخ میں زوجیلا پہاڑی درے کے چٹانی خطوں کے نیچے چل رہا ہے کیونکہ وہاں سے موسم سرما میں گزرنا ناممکن ہے اور اس کی تعمیر کے بعد کشمیر میں ہندوستانئی فوج کو تیز تر امداد پہنچانے میں مدد ملے گی۔ اروناچل پردیش تبت سے ہمالیہ کے دوسرے کنارے تک پھیلا ہوا ہے اور اپنے شمالی پڑوسی چین کے ساتھ مشترکہ بدھ ثقافتی ورثے کا حامل ہے۔چینی حکمرانی کے خلاف ناکام بغاوت کے بعد دلائی لاما 1959 میں ریاست سے فرار ہو گئے تھے اور تب سے وہ ہندوستان میں مقیم ہیں۔بیجنگ اروناچل پردیش کو جنوبی تبت قرار دیتے ہوئے اس پر اپنی ملکیت کا دعویٰ بھی کرتا ہے اور 1962میں مختصر خونریز جنگ کے بعد زیادہ تر علاقے پر قبضہ کر لیا تھا

متعلقہ خبریں

صدرِ جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبد للہ نے حضرت میرک شاہ صاحب ؒ کے سالانہ عرص مبارک باد.

کونہِ بل پانپور میں آج صبح ایک دلدوز سانحہ پیش آیا جسمیں دو افراد موت کی آغوش میں چلے گۓ۔ کونہِ بل علاقے میں کھیتوں.

جنوبی قصبہ قاضی گنڈ میں ٹرین کی ٹکر سے 50 سال کی خاتون لقمہ اجل بن گئیں فہمیدہ بانو زوجہ بشیر احمد ساکنہ پازنتھ نامی.

سرینگر کے صورہ اور اونتی پورہ کے آگہانجی پورہ علاقوں میں فوج و فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین مسلح تصادم آرائیوں.

سرینگر /26مئی جنوبی قصبہ اونتی پورہ کے آگہناز پورہ علاقے میں جمعرات کی شام فوج و فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین.