ایک روزہ سیمینار بعنوان ’’سائنس فیئر اور سائنٹفک ریسرچ کی تفہیم‘‘ کا کامیاب انعقاد 0

ایک روزہ سیمینار بعنوان ’’سائنس فیئر اور سائنٹفک ریسرچ کی تفہیم‘‘ کا کامیاب انعقاد

اورنگ آباد/ندائے کشمیر/خواجہ کوثر حیات
آج زندگی کا تصور سائنس کے بغیر نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ یعنی سائنس لازم و ملزوم ہے۔ دور حاضر کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ’’مائنڈز ان موشن فاؤنڈیشن‘ کے زیر اہتمام اور ’’تلنگانہ سائنس فیئر اکیڈمی ‘‘و ’’انجمن فروغ سائنس‘‘ (چیپٹر، اورنگ آباد ) کے اشتراک سے اساتذہ کے لئے ’’سائنس فیئر اور سائنٹفک ریسرچ کی تفہیم‘‘ اس عنوان کے تحت بتاریخ۲۳؍اگست ۲۰۲۳ء، بوقت صبح ۱۰:۳۰؍بجے ،شہر اورنگ آباد کے پرفضا مقام مجنوں ہل پر واقع مولانا ابوالکلام آزاد ریسرچ سینٹرمیں جناب ڈاکٹر رفیع الدین ناصر ( صدر : انجمن فروغ سائنس، چیپٹر، اورنگ آباد ) کی صدارت میں سیمینار منعقد کیا گیا ۔ سیمینار کا آغاز قاری اسرار پٹیل ناندی کی تلاوتِ قرآنِ سے ہوا ۔ جناب افروز خان ڈائریکٹر ’’ مائنڈز ان موشن فاؤنڈیشن‘‘ نے صدر جلسہ ،مقررین اور جناب ایڈوکیٹ فیض سید اور جناب مرزا سلیم بیگ کا استقبال کیا ۔افتتاحیہ کلمات میں خواجہ کوثر حیات نے سائنس کا مفہوم سمجھاتے ہوے سیمینار منعقد کرنے کی غرض وغایت پیش کی ساتھ ہی سائنس ایگزیبیشن اور سائنس فیئر میں فرق کو واضح کیا ۔ لیکچرر عرفان سوداگر صاحب نے ذمہ داران اور مہمانان کا تفصیلی تعارف پیش کیا ۔’’سائنسی سوچ اور تحقیق کا طریقہ کار‘‘ اس عنوان پر جناب عبدالصمد شیخ نے مفصل روشنی ڈالی کہ انسانی ترقی صرف سائنسی سوچ کی وجہ سے ہے۔ سائنسی سوچ تحقیق کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ یہی نہیں سائنسی سوچ کائنات کے اسرار کو سمجھنے کے لیے ایک منظم اور حقائق پر مبنی نقطہ نظر ہے۔ساتھ ہی سائنس پراجکٹ تیار کرنے کے مراحل واضح کرتے ہوئے کہا کہ سائنس میلہ کے ذریعے سائنسی طریقہ کار کو مکمل سمجھ کر طلباء میں سائنسی رحجان کو پروان چڑھانا اہم مقصد ہے ۔’’پروجیکٹ کی تیاری کا طریقہ کار ۔ چیلنجز اور حل‘‘اس عنوان کے تحت جناب صفر خان صاحب نے اساتذہ کی رہنمائی کرتے ہوئے واضح کیا کہ بچوں کے سوالات ، وسائل ، وسائل کے لیے مراکز ،تحقیق شدہ کام پر یا نئی تحقیق پر کام کرنا اور ٹائم مینجمنٹ ان تمام امور کو بچے سے خود کرواتے ہوئے اساتذہ کس طرح اپنی رہنمائی میں انجام دے سکتے ہیں اس کے لئے تفصیلی معلومات پیش کی ۔ جناب احمد الشہاب نے’’تحقیق کو آسان بنانے کے لیے اے آئی اور دیگر ٹولز‘‘ پر نوجوان مقرر نے کہا کہ جہاں ضرورت ہو وہاں Al ٹول کا استعمال کرتے ہوئے ریسرچ پیپرز، مینجمنٹ ٹول (مینڈیلی) اور مستند ڈیٹا ذرائع سے ڈیٹا اکٹھا کرنا (کاگل، این سی بی آئی) کا وقت ضرورت استعمال پر معلومات فراہم کی ۔مائنڈز ان موشن فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر عبدالباسط صدیقی نے مائنڈڑز ان موشن فاؤنڈیشن کے اغراض و مقاصد اور طریقہ کار کو پیش کیا اور اساتذہ سے اس تحقیقی کام کو کروانے اور طلباء میں سائنسی سوچ بیدار کرنے کی درخواست کی ۔ اپنے صدارتی خطبہ میں محترم ڈاکٹر رفیع الدین ناصر صاحب نے سب سے پہلے اس سائنس فیئر کو منعقد کرنے والی انجمنوں کا یکے بعد دیگرے شکریہ ادا کیا اور واضح کیا کہ اس میں طے شدہ مقاصد کی حصول یابی کے لئے ہم تمام اپنی ہرممکن کوششیں جاری رکھیں گے ۔ آپ نے رہنمائی کے لئے سائنس ویژن رکھنے والے سرپرستوں خصوصاً ڈاکٹر قاضی سراج اظہر صاحب(مشی گن، امریکہ) ، ڈاکٹر پرویز اسلم صاحب ، ڈاکٹر معز شمس صاحب ، ڈاکٹر ظفر احسن اور ڈاکٹر عزیز الرحمٰن و غفورالنساء صاحبہ کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا ۔ خواجہ کوثر حیات نے اختتامی کلمات میں کثیر تعداد میں شریک اساتذہ کی تعداد کو آنیوالے تابناک مستقبل کی ضمانت سے تعبیر کرتے ہوئے جلد ہی اگلے سائنسی ورک شاپ کی تاریخ سے آگاہ کرنے کا تیقن دیا ۔ دعا پر اختتام عمل میں آیا ۔ اختتام پر اساتذہ نے دیے گئے فیڈ بیک فارم جمع کروائیں اور اسنادات حاصل کیے ۔جناب پرویز خان نے نہایت عمدگی سے نظامت کے فرائض انجام دیے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں