صحرا سا دل یہ لگتا ہے گلزار کے بغیر 0

ہماری ذات بھی شامل کرو رہائی میں

غزل

عمران راقم

ہماری ذات بھی شامل کرو رہائی میں
سکون دل کونہیں موسم جدائی میں
وفا کی بات کہیں ہو تو رونے لگتا ہے
دوانہ شخص ہوا ہے وہ بے وفائی میں
نقوش چھوڑ نہ پائیں وہ دل پہ تحریریں
لہو جگر کا ملایا بھی روشنائی میں
حیات بجھتےچراغوں کی لوٹ سکتی تھی
دعا کشید بھی کرتے اگر دوائی میں
نہ دیتا سانس کی گرمی تو اور کیا کرتا
بہت ہی کانپ رہا تھابدن رضائی میں
پیا تھا زہر کو جس نے وہ اب بھی زندہ ہے
مری ہی جان سلامت نہیں بھلائی میں
نظر سے دور ہے منظر ابھی قیامت کا
حجاب اب بھی سلامت ہے بےحیائی میں
ہری سفید اور کیسر کے رنگ میں مل کر
غضب کی چوڑیاں جنچتی ہیں اس کلائی میں
مکان سینکڑوں پل میں جلا بھی سکتی ہے
بلا کی آگ چھپی ہے دیا سلائی میں
ذرا سا نام ہے شہرت ہے مرتبہ ہے کچھ
یہی شمار ہے راقم مری کمائی میں

عمران راقم

9163916117 /9062102672
3,Grant Street, kolkata… 700013 India

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں