فضائل ماہ رمضان مغفرت و آزادی 94

فضائل ماہ رمضان مغفرت و آزادی

عبدالرحمان فدا
سرپرست نوو ادبی کاروان پلوامہ

قرآن کریم میںسورہ البقرہ آیت ۱۸۳
ترجمہ: اے مومنو تم پر روزہ فرض کردیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم متقی ہوجائو۔
اس آیت مبارکہ سے صاف ظاہر ہے کہ روزے پچھلی امتوں پر بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض کی گئی تھیں۔ البتہ روزہ رکھنے کے طریقے بھی مختلف ہوسکتے ہیں اور عرصہ روزہ داری بھی۔ جس کے بارے کچھ بھی نہیں کیا جاسکتا ہے اور نہ وہ میرا موضوع ہی ہے۔ البتہ امت محمدیہؐ کےلئے ماہ رمضان کے روزے رکھنا حکم خداوندی ہے اور جس بات کا امراللہ تعالیٰ کی ذات سے منسوب ہو وہ فرض کہلایا جاتا ہے ۔ اس بابرکت مہینے کے اور بھی کئی نام ہیں مثلا شہرُالقران، شہر النوران، شہر الغفران، شہر المساوات، شہر البرکات، شہر المبارکہ، شہر الرحمہ وغیرہ۔ اس مقدس مہینے کو تین عشروں میں بانٹ دیا گیا ہے۔ عشرہ کے معنی ہیںدس۔یعنی اس مہینے کا ہر ایک عشرہ دس یوم کا ہے اور پہلا عشرہ رحمت دوسرا مغفرت اور آخری آزادی از نار جہنم کا عُشرہ ہے۔ اس عظیم مہینے کو سال کے دوسرے مہینوں پر اُسی قدر عظمت اور برتری حاصل ہے جس طرح حضور پر نور ﷺکو تمام انبیا پر قرآن مقدس کو دیگر آسمانی کتابوں پر حضرت جبریل امین کو باقی ملائکہ پر شب قدر کو تمام راتوں پر یوم جمعہ کو پورے ہفتہ پر اور حجرہ اسود کو دیگر تمام پتھروں پر ہے۔
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلعم نے ماہ شعبان کے آخری دن کو خطبہ میں فرمایا اے لوگو ایک بزرگ اور مبارک مہینہ آپ پر سایہ فگن ہونے والا ہے اور اس ماہ کی ایک رات ایک ہزار مہینوں کے برابر ہے گویا ایک رات کی عبادت ہزار مہینوں کی شب و روز عبادت سے بھی زیادہ بہتر ہے اور وہ رات ہے شب قدر۔ اس ماہ کے روزے اللہ نے فرض کئے ہیں اورنفل کیلئے رات کا قیام (نماز ترایح) مستُحب قرار دیا ہے۔ اس مہینے کی برکت سےنفلوں کو فرض کا ثواب دیا جاتا ہے اور ایک فرض ادا کرنے والے کو ستھرفرضوں کا ثواب بلکہ اُس سے بھی زیادہ دیا جائےگا۔ فرمایا گیا کہ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا جزا جنت ہے۔ یہ ایک دوسرے سے ہمدردی یار محبت اور اچھا سلوک کرنے کا مہینہ ہے ۔ رمضان کے مہینے میں کسی روزہ دار کو افطار کرانے والے کو دوزخ کی آگ سے نجات کا وسیلہ بن جائے گا چاہے ایک کھجور سے ایک گھونٹ دودھ یا پانی سے ہی اگر چہ پیٹ بھر کر کھلوانے کی استطاعت نہ ہو۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ رمضان کی پہلی رات میں ہی آسمانوں اور بہشت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں جو رمضان کے آخر تک کھلے ہی رہتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کئے جاتے ہیں۔ روایات میں ہے کہ خداوند کریم جبریل علیہ سلام کو رمضان کی پہلی رات کو حکم دیتا ہے کہ زمین پر اُتر کر تمام سرکش شیطانوں کو زنجیروں سے جکڑ کر دریائوں کے گردابوں میں ڈال دو تاکہ یہ امت مسلمہ کے روزہ داروں میں فساد یا خلل نہ ڈال سکیں۔ حضرت فاروق اعظمؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺنے فرمایا جو شخص ماہ رمضان میں ایمان کی حالت میں ثواب کی غرض سے روزہ رکھے اور رات کو قیام کرے تو اللہ تعالیٰ اُس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردیتا ہے۔ آپﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ میری اُمت کا کوئی شخص ایک نیکی کرے تو اس کے بدلے میں دس سے لے کر سات سو تک مزید نیکیاں اُس کے نامہ اعمال میں بڑھادی جاتی ہیں۔ روزہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ یہ عمل خاص میرے لئے ہے۔ اس میں آدمی اپنی آرزوں اور خواہشوں کو چھوڑ دیتا ہے وہ میری خاطر کھانا پینا اور دیگر لذات ترک کردیتا ہے اس لئے میں اپنی شان اور عظمت کے مطابق اجر دیتا ہوں۔ حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانیؒ کی مشہور تصنیف غنیتہ الطالبین سے منقول ہے کہ ماہ رمضان میں افطار کے وقت روزانہ ایک کروڑ ایسے لوگوںکو معاف فرمایا جاتا ہے جو جہنم کے مستحق ہوتے ہیں اور آخری روز یعنی عرفہ کی شام افطار کے وقت اتنے بندوں کو خطابخش دئے جاتے ہیں جتنے رمضان کے دوسرے تمام دنوں میں آزاد اور معاف کئے جاتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عوفیؓ سے روایت ہے کہ حضورِ پرنور ﷺکا ارشاد ہے کہ روزہ دار کا سوجانا بھی عبادت اور اُس کی خاموشی تسبیح ہے اور اس کی ہر جائز دعا قبول کی جاتی ہے۔ حضرت ابونصراپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آںسرورﷺ نے فرمایا اگر لوگوں کو رمضان کی بزرگیوں کا علم ہوتا تو وہ خدا سے دعا کرتے کہ رمضان پورےسال رہے۔ قبیلہ خزاعہ کے ایک شخص نے عرض کیا یا رسولﷺ آپ رمضان کی بزرگیاں بیان فرمادیں تو ارشاد ہوا کہ رمضان کی آمد کیلئے ایک سال سے دوسرے سال تک جنت کو آراستہ کیا جاتا ہے ۔ جب رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو عرش کے نیچے ایک ہوا چلتی ہے جو بہشت کے پتوں کو ہلاتی ہے حوریں بھی اسے محسوس کرتی ہیں وہ دعا کرتی ہیں کہ اے اللہ اپنے بندوں میں سے ہمارے لئے جوڑے بنادے تاکہ اُن کے دیکھنے سے ہماری آنکھیں روشن ہوں اور ہمارا حسن دیکھ کر اُن کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ چنانچہ رمضان کے روزہ رکھنے والوں میں کوئی شخص ایسا نہیں رہ جاتا ہے جس کا نکاح اُن حوروں میں سے ایک حور کے ساتھ نہ کیا جائے۔ ماہ رمضان کی ہر رات خدا تعالی تین مرتبہ پکارتا ہے کہ کیا کوئی سوال کرنے والا ہے اس کا سوال پورا کیا جائےگا کوئی توبہ کرنے والا ہے اُس کا توبہ قبول کیا جائےگا کوئی بخشش چاہنے والا ہے میں اُسے بخشش دوں گا۔
دعا ہے کہ خداہم سب کو ایمان احتساب اور صدقہ دلی کے ساتھ ماہ رمضان کی اطاعت کی ہمت عطا فرمائے اور ہمیں بھی ان خوش نصیبوں کے ساتھ شامل فرمائے جنہیں ماہ رمضان کے انعامات و اکرامات اور برکات سے نوازے اور ہمارے تمام کبیرہ و صغیرہ گناہ معاف فرمائے۔
( آمین)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں