لفظے چند ،برائے حاشیہ خیال (از نصرت نسیم) 144

لفظے چند ،برائے حاشیہ خیال (از نصرت نسیم)

تبصرہ نگار: قانتہ رابعہ

آج کا بہت بڑا اہم اور المیہ یہ ہے کہ کتاب لکھنے والے تو لکھ رہے ہیں کہ ایک قلمکار کے لیے لکھنا ایسا ہی ہے جیسے طعام و کلام اور سانس لینا ۔۔قلم کی حرمت کا خیال رکھنے والوں کا قلم رکنے کے لیے نہیں ہوتا مگر صد افسوس کہ ڈھیروں سرمایہ لگا کر جب اپنے قیمتی وقت کا کچھ حصہ کتاب لکھنے کے بعد کتاب شائع ہو جاتی ہے تو کتاب کو ہاتھوں میں لینے والے نہیں ملتے ۔مل بھی جائیں تو باذوق قاری خال خال ہی نظر آتے ہیں ۔وہ دور گزر گئے جب کتاب کی اشاعت مشکل کام تھا اور اس کی تشہیر کے ذرائع نہ ہونے کے برابر تھے پھر بھی کتاب سے عشق رکھنے والے قاری کو کتاب کی اشاعت کے بارے میں پل پل کی خبر ہوتی تھی اور جب تک کتاب ہاتھوں میں آکر نظروں سے گزر نہ جائے اس کے سیاق و سباق اور چنیدہ حصے اہل ذوق کو نہ سنا دئے جائیں، کتاب پر دو چار لوگوں سے تبصرہ نہ کرلیا جائے ،روح کو تسکین نہیں ملتی تھی۔ آج کے سوشل میڈیا کے پر فتن دور میں اس کے ہزار فائدے اپنی جگہ لیکن کتاب بینی پر بہرحال اثر پڑا ہے ۔اگر معدودے چند ایک اس سے بچے ہوئے ہیں کتاب کا شوق بھی رکھتے ہیں۔ اسے دل کی آنکھوں سے پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کے بارے میں زیر حاصل گفتگو بھی کرتے ہیں تو ان میں سے ایک نمایاں نام محترمہ نصرت نسیم صاحبہ کا ہے ۔ان کے باذوق قاری ہونے پر تو سب ہی متفق ہیں لیکن مطالعہ کی گئی کتب پر ان کے معلومات سے بھرپور خوبصورت زبان میں کئے عمدہ تبصرے اور تجزئیے بھی ادب میں شاہکار ہیں ۔اس کا پتہ ان کی کتاب حاشیہ خیال سے چلتا ہے۔
کہنے کو یہ ایک کتاب ہے جس میں انہوں نے جن اکیس کتب پر عمدگی سے تبصرے کئے تھے وہ جمع کر دیے ہیں لیکن سچ بات ہے کہ عطار اور لوہار والی مثال اس پر منطبق آتی ہے کچھ نہ بھی خریدو گے تو خوشبو تو لے کر ہی آؤ گے۔

کتاب میں ادب کی ہر صنف سخن سے متعلق کسی نہ کسی کتاب پر تبصرہ شامل ہے۔ ان تبصروں کو تجزیہ ،بھی کہا جاسکتا ہے اور اس کی خوبصورت انداز کی وجہ سے انشائیہ نما بھی ، جس میں شاعری کے ساتھ ساتھ سفر نامے ،سیرت پر ولی رازی کی غیر منقوط کتاب ہادی عالم ،ضیاء یوسف زئی کی آپ بیتی کا ترجمہ ،سلمان باسط کی خود نوشت ،ناسٹلجیا،افسانوی مجموعے کے علاؤہ بہت سی کتب شامل ہیں ۔ہر مضمون ایک پھول ہے جو کتاب میں جمع ہو کر اکیس پھولوں کا گلدستہ بن جاتا ہے جس پر بے اختیار اکیس توپوں کی سلامی دینے کا دل چاہتا ہے۔
ان اکیس مضامین میں بہت سے نادر خزانے جمع ہیں آپ جانئیے کہ اکیس بیش بہا قیمتی کتب کا نچوڑ کتنا اہم ہوتا ہے۔ یہ وہی جانتا ہے جو ایک کتاب نہیں ایک لفظ کی قیمت جانتا ہو ایسے ہی تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے نہیں فرمایا تھا کہ جو مجھے ایک لفظ بھی سکھا دے وہ میرا استاد ہے۔
نجمہ عثمان کا سفر نامہ حج ہو یا سعود عثمانی کے اسفار ،باونی کے افسانے ہوں یاشجاعت علی راہی کا بچوں کے لئے ناولٹ سب پر محترمہ نصرت نسیم نے لکھنے کا حق ادا کیا اور قارئین کے لیے اس طرز پر لکھا کہ متعلقہ کتاب کے بارے میں قاری کی اشتہاء بڑھے ۔ان کے طرز تحریر میں کوئی ثقالت نہیں ہے سادہ ہے اور زندگی سے بھرپور ،کچھ فقروں پر بے اختیار رک کر داد دینا پڑتی ہے۔ جیسے دو ہنسوں کا جوڑا ( جو محترم جبار مرزا صاحب نے اپنی نصف بہتر کی جدائی پر لکھی ہے) میں لکھتی ہیں:
،،اکل۔حلال اور صدق مقال لازم و ملزوم ہیں ،،
اس چھوٹے سے فقرے میں جہاں معنی آباد ہے مزید لکھتی ہیں:
“جبار مرزا صاحب اپنے جد کی طرز پر تاج محل بنانے پر تو قادر نہیں مگر پیار کی روشنائی سے جزبہ دل اور محبت سے ایک ایک لفظ صفحہ قرطاس پر بکھیر کر تاج محل تعمیر کرڈالا۔”
کتاب سنہرے ہاتھ جو کوہاٹ کی نابغہ روزگار شخصیت نامور مصور لیاقت علی خان کی داستان حیات ہے جو کوہاٹ ہی کی ہر دلعزیز ہستی محترم شجاعت علی راہی صاحب نے تصنیف کی ہے۔
تیس برس بلدیہ ابو ظہبی کے ساتھ وابستہ رہنے والی شخصیت لیاقت علی خان کی داستان اتنی دلچسپ اور محنت و مشقت سے بھر پور زندگی کی ہے کہ بے اختیار ان کے بارے میں مزید جاننے کو جی چاہتا ہے۔
انیس سو نناوے میں انہیں دنیا کی سب سے بڑی پورٹریٹ بنانے کا اعزاز حاصل کرنے والے کی اپنے ملک میں قدردانی کا یہ عالم تھا کہ قائد اعظم سے محبت و عقیدت کی بناء پر فور بائے فورکے دو سو ٹکڑوں پر انہوں نے پورٹریٹ بنانے کا کام شروع کیا جو سات ماہ کی ان تھک محنت سے تیار ہوا ۔بے نظیر سے نواز شریف تک سب کی خواہش تھی کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا پورٹریٹ اپنے ہاتھوں سے نصب کریں م۔شرف نے اپنے دور میں تئیس مارچ 2001ء کو مینار پاکستان پر اس کی تنصیب کا حکم دیا اس کو بعد ازاں مستقل طور پر کنوینشن سینٹر کے باہر لگانے کا فیصلہ کیا جو تب سے سرد خانے میں پڑی ہے،،
ایک جگہ محترم راہی صاحب رقمطراز ہیں لیاقت علی خان کی تصویر دیکھنا گویا اپنے ذوق نظر کی تربیت کرنا ہے،،،
کتاب میں ایک کالم محترمہ شازیہ ستار نایاب کی مزاحیہ کتاب “توبہ ہے بھئی “، بھی رونق بڑھانے کا باعث ہے۔
محترمہ نصرت نسیم کی خوبی یہ ہے وہ کتاب کا پیش لفظ پڑھ کر کالم لکھنے کی بجائے مکمل۔کتاب سے خوبصورت فقرے کشید کرتی ہیں۔ ایک تتلی کی مانند جو پورے گلستان کی سیر کرتی ہے لیکن منتخب پھول سے ہی رس کشید کرتی ہے کرونا کے متعلق لکھتی ہیں۔
“یوں کھایا چین نے اور ہاتھ ساری دنیا دھونے لگی”۔
اویس قرنی کے افسانوی مجموعے ،اگلی بار ،پر تبصرے کو شاہکار قرار دیا جا سکتا ہے لکھتی ہیں:
افسانہ لفظ کا جادو اور درد کا دارو ہے۔
افسانہ قرینے کی روایت قلم کی تلاوت اور قلمکار کی عبادت ہے۔
افسانہ جگنوؤں کی بارات ہے۔
افسانہ جذبات کی سہیلی اور مناظر کی نیرنگی ہے
افسانہ کسی کی آنکھوں میں ساحل کی تلاش ہے
کتاب اگلی بار کے بارے میں پڑھئیے:
“ایک افسانے میں کئی افسانے ہیں کہانی در کہانی بلکہ ایک سطری لائن اپنی جگہ مکمل داستان سموئے ہوئے
بہت عمدہ تبصرے پر میں محترمہ نصرت نسیم کو مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ میرے لیے مشک بات یہ کہ ہر کالم میں سے اقتباس نقل کئے جانے کے قابل ہیں اور ڈر یہ ہے کہ یہ کالم ہی کہیں کتابی شکل اختیار نہ کر جائے ۔محسن مگھیانہ صاحب کا سفر نامہ حج ہو یا ولی رازی کی ہادی عالم ،سب معلومات میں اضافے کا سبب ہیں مثلاً مجھے تو کم علم کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ غیر منقوط سیرت کی اس کتاب سے پہلے کتنی کتنی غیر منقوط کتب ادب کی دنیا میں پہلے سے موجود ہیں۔
لکھتی ہیں:
“جس وقت سے سیرت کی یہ کتاب میرے زیر مطالعہ ہے میں حیرت و استعجاب کی کیفیت میں ہوں کہ اکبر کے نو رتنوں میں سے فیضی کے بارے میں پڑھا تھا کہ اس نے غیر منقوط الفاظ میں قرآن مجید کی تفسیر لکھی تھی لیکن یہ تفسیر چیدہ چیدہ واقعات پر مشتمل تھی جبکہ رازی کی یہ کتاب سیرت کے نہ صرف سارے پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے بلکہ پیدائش سے لے کر وصال تک کے تمام واقعات کو ترتیب کے ساتھ بیان کیا گیا ہے”۔
کالم میں اپنی نوعیت کی اس واحد کتاب کی تیاری کے مراحل کے علاؤہ ایک دو بہت خوبصورت اقتباسات بھی دئیے گئے ہیں۔
کتاب ہاتھ سے رکھنے سے پہلے سلمان باسط کی ناسٹلجیا کے بارے میں بھی ایک دو سطور پڑھیئے :
“کسی کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ خود کو پڑھوائےاور قاری پڑھتے ہوئے اس میں گم ہو جائے”۔ بلاشبہہ یہی الفاظ حاشیہ خیال کے لیے بھی کہے جاسکتے ہیں در حقیقت یہ کتاب ان کے لیے بہت مفید ثابت ہو گی ۔جو اچھی کتب خریدنے اور پڑھنے سے اس لیے کتراتے ہیں کہ انہیں معلوم نہیں ہوتا کون سی کتب پڑھے جانے کے قابل۔ہیں کہاں سے کتنے میں اور کیسے مل سکتی ہیں۔
یہ کتاب جسے فخریہ طور پر،،حاصل مطالعہ،،بھی نام دیا جا سکتا ہے یقیناً اس قابل ہے کہ خرید کر پڑھی جائے اور کتب کا ذوق رکھنے والوں کو اس سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہئیے
میں مصنفہ اور پریس فار پیس فاؤنڈیشن کو مبارکباد پیش کرتی ہوں جنہوں نے مجھے اس لائق سمجھا کہ میں اس پر اپنی رائے دے سکوں۔
������

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں