‌‌آبِ حیاتُک کُل 107

“غمِ زندگی “

سبدر شبیر

اے غم زندگی سکھایا تو نے کیا کیا
جنم سے لے کر آج تک دکھایا
تو نے کیا کیا
وہ مالک ہے کُن کا وہی محافظ
وہ آزماتا گیا کھویا تو نے
کیا کیا پایا تو نے کیا کیا
اے غم زندگی ۔۔۔۔
وجود کے پہلے دن سے
وہی کشمکش کس لیے
کس لیے۔۔۔۔ کس لیے
اے زندگی ۔۔
کبھی دھوپ میں کبھی چھاؤں میں
کبھی خوشیوں میں
کبھی غم کے صحراؤں میں
کبھی انتظار میں
کبھی اشکبار میں
تو کھو گئی گردشِ
نفس امار میں
اے غم زندگی
میں بھول گیا مجھے اب یاد نہیں
کہ نیستان سے جدا ہوا
میں کیوں جدا ہوا
میں انکے فراق میں اِک مسافر بے بس
نہیں کوئی راستہ تلاش میں
نہ میرے خیال میں
اے غم زندگی ۔۔۔۔
یہ جو سامنے آج ہے
یہ سفر ہے مختصر
نہیں کوئی پردہ
رہے گا
وہ پیالہ پی کر
وہ جب کھول دینگے
تمہاری کتاب اے زندگی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں