62

اسمبلی الیکشن ہوئے حکومت بنائی متاثرہ کنبوں کواراضی لوٹادی جائے گی اور مالی امداد بھی فراہم کی جائے گی /فاروق عبداللہ

سرینگر/ 22 فروری /جموں وکشمیرمیں اسمبلی الیکشن ہونے کے بعد اکثریت میں ا ٓکرحکومت بنالی تو اینٹی اینکروج منٹ مہم کے دوران جن کنبوں کونقصان پہنچاہے ان کی نہ صرف امداد کی جائے گی بلکہ انہیں اراضی بھی واپس لوٹانے کا عندیہ دیتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ موجودہ رکن پارلیمنٹ نے کہاکہ لگتا نہیں ہے کہ مرکزی حکومت جموں وکشمیر کو سٹیٹ ہڈ کادرجہ دیگی لوگوں کوبے وقوف بنایاجارہاہے آر ڈر پرآرڈر نکالے جارہے ہے جس سے لوگوں کی پریشانیوں میں اضافہ ہورہاہے وقت آ گیاہے کہ سارک ممالک مضبوط مستحکم ہواور وہ اپنے مسائل معیشیت اور اقتصادیات کونئی جہت دے ۔اے پی آئی نیوز کے مطابق جموںو کشمیر سرکار کی جانب سے جائیداد ٹیکس وصول کرنے کے فیصلے کوسرکار کی مرضی کے مترادف قرار دیتے ہوئے گاندربل ،بڈگام ،سرینگر حلقے کے ممبران پارلیمنٹ نے این سی اور سابق وزیراعلیٰ نے سرکار کے فیصلے کولوگوں کے لئے انتہائی مشکل قرار دیتے ہوئے کہاکہ عوامی حکومت کی عدم موجودگی میں فیصلے پہ فیصلے ٹھونسے جارہے ہے اور ہردن کوئی نہ کوئی آرڈر یاحکم نامہ جاری کیاجاتاہے جس سے لوگوں کوراحت ملنے کے بجائے انہیں مشکل کاسامناکرنا پڑتاہے ۔انہوںنے کہاکہ عوام کے غیض غضب کے بعد اگر چہ انہدامی کارروائی روک دی گئی تھی تاہم اب جائیداد ٹیکس نافز کرنے کااعلان کیاگیااور یہ اس بات کی عکاسی ہے کہ جموںو کشمیرکے لوگوں کونہ تو بات کرنے کاحق ہے اور نہ ہی اعتماد میں لینے کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے ۔سابق وزیراعلیٰ نے جموںق کشمیرمیں اسمبلی الیکشن کرانے کے ضمن میں الیکشن کمشن آف انڈیا کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہاکہ مرکزی حکومت نہیں چاہتی ہے کہ جموںو کشمیرمیں اسمبلی الیکشن ہواور سٹیت ہڈ بحال کرنے کے سلسلے میں نہ تو حکومت سنجیدہ ہے اور نہ ان کاکوئی ارادہ ہے ۔لوگوں کوبے وقو ف بنانے کے لئے اور انہیں ڈرانے دھمکانے کے لئے نئے نئے احکامات صادر کئے جاتے ہے۔ انہوںنے کہاکہ بی جی پی الیکشن کمشن کی آڑ میںچھپناچاہتی ہے اس لئے وہ جموںو کشمیر میں اسمبلی الیکشن کرانے میں سنجیدہ نہیں ہے ۔انہوںنے کہاکہ فیڈر شپ تب تک کام نہیں کریگی جب تک نہ عوامی حکومت بحال ہو انہدامی کارروائی کے دوران متاثرہ کنبوں کو مالی امداد اور اراضی واپس لوٹانے کاعندیہ دیتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب بھی اسمبلی الیکشن ہونے اور جموںو کشمیرکوکامیابی ملے تو ان کنبوں کواراضی واپس لوٹادی جائے گی اور ان کے لئے اقدامات اٹھائے جائینگے ۔انہوںنے بھارت پاکستان کے درمیان کشیدگی اور چین کے ساتھ بھارت کے تعلقات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہاکہ چین کچھ بھی کرسکتاہے ا سپربھروسہ نہیں کیاجاتاہے تاہم سارک ممالک کوچاہئے کہ وہ مل بیٹھ کراپنی اقتصادیات کونئی جہت دے ۔سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہمیں اپنے مسائل کوبات چیت کے زریعے حل کرنے کی کو شش کرنی چاہئے ۔بھارت کوہندو راشٹر قرار دینے کے بارے میں سوال کاجواب دیتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ میں کثرت میں وحدت والے ملک میںیقین رکھتاہوں اور بھارت میں مختلف مذاہب ماننے والے لوگ رہتے ہیںاو رملک کے عوام کااتہاس انتہائی لازمی ہے جس کے لئے ہمیں اپنے آپ کوآگے لاناہوگا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں