ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

عوام کی راحت رسانی اور متاثرین کی فوری بازآبادکاری کیلئے ٹھو س اقدامات.

سکھ یاتریو ںکا جتھا برسی میں شرکت کیلئے پاکستان پہنچ گیا سرینگر /22/جون 2022/.

حکومت کو چاہئے کہ وہ ہمارے دفاع کو مضبوط کرے لیکن اگنی پتھ اسکیم سے کمزور.

شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات

   39 Views   |      |   Friday, June, 24, 2022

شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات

گونر انتظامیہ سے زچلڈارہ راجوار کےلوگوں کی فریاد
زاہد جمال بانڈے

گزشتہ کئی ماہ سے سرحدی ضلع کپوارہ کا علاقہ راجوار جوسیاحتی مقام بنگس وادی کے دامن کے تلے واقع ہے بالخصوص زچلڈارہ پوشون جنگلی درندوں کی موجودگی کی وجہ سے سے مسلسل سرخیوں میں رہا ہے ۔کئی ہفتوں سے تین جنگلی درندے جن میں ایک بھاری بھرکم ریچھنی اور اس کے تند وتوانا دو بچے زچلڈارہ کی ہر بستی میں پائے گیے اور کئی مقامات سے بالکل نزدیک سے دیکھے بھی گئے ۔اگر چہ ان کے حوالے سے سوشل میڈیا پرایک ماہ کے زیادہ عرصے سے بھی خبریں گشت کرتی رہیں اور تحصیل انتظامیہ نے وایلڈ لایف کوراقم کی گزارش کوقبول شرف بخشتے ہوئیے وایرلس اور دیگر طریقے سے مطلع بھی کیاان کے کہنے پر قابو میں آنے سے دو روز قبل پنجرے کو نصب بھی کیا گیا تاہم مقامی نوجوانوں نے بروز سنیچر رات 10بجے کے آس پاس بتاریخ 7 مئی 2022اور8 مئی 2022 دوران دو ریچھ قابو میں لانے میں کامیابی حاصل کی جائے۔اس دوران واقع پر لوگوں کی بے بسی اور وایلڈ لایف کی وقت پر نہ آنے کی بے حسی کو مد نظررکھتے ہوئے رات دیر گئے تک فوج اور پولیس نے جائے واقع پر آکر اپنی نفری رکھی اور لوگوں کے مال و جان اور جنگلی حیات کو تحفظ دینے میں عملی کردار نبھایا جس کو لوگوں کی طرف سے کافی سراہا گیا۔ بعد ازاں پھر علی الصبح وایلڈ لایف کی ٹیم محمد الطاف ڈار صاحب کی سربرہی میں انہیں محفوظ جگہ پر چھوڑنے کے لیے آئے اور کسی حد تک مقامی لوگوں کو راحت ملی۔دوسرے روز اسی طرح بروز سوموار کی صبح کو بھی یہی ٹیم آئی اور دوسرے پنجرے میں قابو کئے گئےریچھ کو لے گئےجو اتوارکی رات کوقابو میں لایا گیا ۔ ابھی تک ریچھنی کو قابو میں لانے میں کامیابی حاصل نہیں ہویی جو اس وقت کیمرے میں عکس بند تو کی گیی لیکن تاحال قابو میں نہ آسکھی اور آس پاس ہی مقامی بستی میں موجودگی کے شواہد ملتے ہیں تاہم مقامی بستی کو برابر احتیاط برتنے کو کہا گیاکیوں عینی شاہدین کے مطابق صبح و شام اور اور دوران شب کئی جنگلی جانور بغیر کسی خوف و ڈر کے بستوں میں گشت کر رہے ہیں۔جس سے تشویش برابر جاری ہے ۔
دو روز قبل کی اس کامیابی میں سب سے زیادہ متحرک اورعوام دوست جانباز کارکن محمد اکبر لون ولد علی محمد لون جو 2010 سے مسلسل ذاتی طور عوام کے مال و جان کے تحفظ اور وایلڈ اینیملزجنگلی جانوروں کے تحفظ کے لیے دیگر نوجوانوں کو رضاکارانہ طور کام میں لاکر بغیر کسی معاوضے کے بےلوث خدمات انجام دیتاآیا ہےجو واقعی لایق تحسین اور قابل تقلید کام بھی ہے نے کلیدی رول نبھایا ۔لیکن بدقسمتی سے نہ تو آج تک ان کی اور دیگر نوجوانوں جن میں راقم صاحب تحریر زاہد جمال بانڈے نے بھی مثبت رول نبھایااور ادنی خدمت اپنی لوگوں اور حیاتیات کے لیے وقف کی اور کرتا رہےگا کی نہ تو تاحال حوصلہ افزایی کی گیی نہ کسی نے متعلقہ محکمہ اور گونر انتظامیہ کی توجہ ان کی طرف مبذول کرایی جن کی ایک طویل فہرست ہر ذی حس اور پرخلوص شخصیت سے حاصل کی جاسکتی ہے ۔مزکورہ نوجوان کئ بار متعلقہ محکمہ کو جنگلی درندے پکڑنے میں ساتھ ساتھ رہے ۔اور اپنے اپنے حساب سے بے لوث خدمات انجام دیتے رہے اور آج کی طرح اکثر اوقات پر جب کبھی بھی اس طرح کے واقعات رونما ہوتے تھے مزکورہ نوجوان اپنی زندگیوں کی پرواہ کیے بغیر پیش پیش رہتےتھے اور انشاء اللہ آیندہ بھی اپنی طرف سے خدمت خلق کو ترجیح دیں گے ۔
بحر حال محکمہ میں افرادی قوت (Man power) میں اضافہ کرنے کی غرض سے اور کمی کو دور کرنے کی غرض سے گونر انتظامیہ سے یہی توقع رکھی جاسکتی ہے کہ out source کے طرز پر ہی صحیح مزکورہ نوجوانوں کی حوصلہ افزایی کی جانی چاہیے اور انہیں خصوصی طور کسی مخصوص کوٹہ یا بجٹ میں سے تعینات کیا جانا چاہیےاور یہ سلسلہ پوری UT جمووکشمیر کے دور دراز گاوں میں مرحلہ وار طریقے پر شروع کیا جانا چاہیے۔ جس کے یہ نوجوان مستحق بھی ہیں اور بڑھتی ہویی بے روزگار کے چلتے یہ لوگ سب سے زیاہ مستحق ہیں ۔انتظامیہ کو چایے کہ ہر گاوں میں کم سے کم بیس بیس متحرک اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کی صلاحیتوں سے استفادہ حاصل کرکے مقامی طور تعینات کیا جانا چاہیے ۔جو وقت کی ضرورت اور تقاضہ بھی ہے ۔کیوں یہ ایسے نوجوان ہیں جنہیں ان جنگلی جانوروں کی وجہ سے کافی خسارہ سے دوچار بھی ہونا پڑا جن میں ان کے مال مویشی اور باغات کے پیڑ اور پھل و دیگر گھریلوی اشیاء کا کافی حد تک نقصان ہوا بھی ہوا جسکے ثبوت تصاویر اور ویڈیو کی صورت میں بھی انتظامیہ کی مدد سے حاصل کیے جاسکتے ہیں ۔ایسےسلسلے کاآغاز کرنے سے ایک تو جنگلی حیات کو کسی تک تحفظ مل سکھے گا دوسرا یہ کی انسانی مال وجان کے زیاں میں کافی حد تک کمی ہونے میں مدد مل سکھتی ہے ۔شرط یہ ہے کہ عملی جامع پہنایا جایے اور ساتھ ہی ہر تحصیل صدر مقام پر کم سے کم ایک سب آفس کے علاوہ مخصوص امبلنس ambulance بھی 24×7 چوبیس گھنٹے دستیاب ہونی چاہیے جو وقت کی ضرورت اور تقاضہ بھی ہے ۔
لھٰذاضرورت اس بات کی ہے کہ انتظامیہ عوام کی بہبودی اور محکمہ کو عوام دوست بنانے کے لیے اس طرح کے لاحہ عمل اولین فرصت میں ہری جھنڈی دکھانے کے لیے لوگوں کے دل جیتنے میں عملی جامہ پہنایے جس عوام اور محکمہ کے ساتھ ساتھ جنگلی جانور بھی محفوظ رہ سکھیں اس طرح کی حکمت عملی کے لوگ منتظر بھی ہیں اور یقین پیہم بھی ہے کہ گونر منوج سنہا جی اس پروجیکٹ پر ضرور کا کرنے کے احکامات صادر فرمایے گے اور لوگوں کے دل جیتنے میں ترجیحی بنیادوں پر اسے ہری جھنڈی بھی دکھایں گے ۔
تحریر زاہد جمال بانڈے مقامی سوشل اکٹوسٹ اور ادیب وقلم کار
رابطہ نمبر 7006560689
Zjbnday@gmail.com
معرفت ۔صدر انجمن صدایے فن راجوار ہندوارہ پن کوڈ193221

متعلقہ خبریں

ڈاکٹر عبدالمجید بھدرواہی
میں نے زلیخا کو ایک ہی نظرمیںاچھی طرح دیکھا اور پھر اُسے دیکھتا ہی رہ گیا ۔ وہ بلاکی.

غزل
فیاض تلگامی
اپنا تازہ کلام بھیجا ہے
اُس نے مجھ کو سلام بھیجا ہے
اپنے نازک گلاب کی خوشبو
خوبصورت.

غزل
اعجاز اسد
مرا حبیب ہی مجھ سے اگر خفا ہوگا
فقیرِ عشق ہوں، انجام جانے کیا ہوگا
خود اپنےدل پہ سدا دستکیں.

سبزار رشید بانڈے خوشی کا جذبہ اور دکھ کا جذبہ اللہ تعالی نے انسان میں پہلے ہی رکھا ہے۔ خوشی اور غم کا آپس میں بہت.

(حصہ اول)
از قلم شگفتہ حسن
حج کا مفہوم:
حج عربی زبان کا لفظ ہے۔ جس کے لغوی معنی ” قصد” کرنا، “زیارت”.