ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

پروفیسر گلشن مجید، شمشاد کرالی واری، عبدالخالق شمس، گلشن بدرنی، اور خالق.

بڑی تعداد میں عائشہ اور آنگن واڑی ورکروں کی شرکت
پلوامہ/تنہا ایاز/ چرار.

ندائے کشمیر /محمد ادریس/آج یہاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں کشمیری سیکشن.

یومِ رابندرناتھ ٹائیگور کے موقعے شبنم تلگامی کی تصنیف’’ گیتانجلی‘‘ کے کشمیری ترجمے کی رونمائی

   177 Views   |      |   Friday, December, 9, 2022

اطراف و اکناف سے آئے ہوئے سرکردہ ادیبوں اور دانشوروں نے کی شرکت

سرینگر/ 08مئی /این این این/ ادبی مرکز کمراز جموں کشمیرکی گولڈن جوبلی تقریبات کے سلسلے کے تحت بہارِ ادب تلگام پٹن نے ادبی مرکز کمراز کی سرپرستی میں جموں و کشمیر کے طراف و اکناف سے آے ہوے شاعروں، ادیبوں اور دانشوروں کی ایک پرُ وقار تقریب کے دوران رابندر ناتھ ٹائیگور کی سالگرہ کے موقعے پرٹائیگور کی نوبل انعام یافتہ شہرہ آفاق گیتانجلی کا شبنم تلگامی کا کشمیری ترجمہ جاری کیا ۔ تقریب کی صدارت سرکردہ ادیب ،نقاد اور کشمیری زبان و ادب کے معروف استاد پروفیسر شاد رمضان نے کی۔اور اُردو اور کشمیری زبانوں کے ممتاز قلمکار اور اُستاد پروفیسر محمد زماں آزردہ تقریب پر مہمانِ خصوصی کی حثیت سے موجود تھے ۔ ایوان، صدارت میں ادبی مرکز کمراز کے صدر محمد امین بٹ، بہارِ ادب تلگام کے سرپرست اعلی فیاض تلگای اور پرنسپل گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری سکول کوٹھی باغ کی پرنسپل محترمہ نصرت بُخاری صاحبہ بھی موجود رہے۔ مذکورہ کتاب پر ساہتیہ اکامی ایوارڈ یافتہ ادیب اور معروف صحافی مشتاق احمد مشتاق نے تبصرہ پیش کیا۔مقررین نے اس موقعہ پر شبنم تلگامی کی ان کوششوں کو کافی سراہا جو وہ کشمیری زبا ن و ادب کی ترقی ا ور ترویج کے لے انجام دے رہے ہیں۔ پروفیسر شاد رمضان نے شبنم تلگامی کے گیتانجلی کے ترجمے کو ایک بہترین ترجمہ قرار دیتے ہوئے اسے کشمیری زبزن و ادب کے لے ایک بہترین تحفہ قرار دیا۔ پروفیسر آزردہ نے شبنم تلگامی کو اتنا بڑا کارنامہ انجام دینے کیلئے مبارکباد پیش کی ۔تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا گیا جسکی سعادت معروف براڈکاسٹر ڈاکٹر جاوید احمد میر نے حاصل کی۔اور نعت نبیؐ پیش کرنے کی سعادت نونہال نعت گو عمر حسن درویش کو حاصل ہوئی۔ بہارِ ادب کے سرپرست فیاض تلگامی نے خطبہ استقبالیہ اور بہارِ ادب کے ہی جنرل سیکریٹری عابد اشرف نے تحریکِ شُکرانہ پیش کیا ۔جبکہ پوری تقریب کے دوران نظامت کے فرایض نوجوان براڈکاسٹر اظہر حاجنی نے انجام دئے ۔ تقریب میں جن دیگر اہم ادبا، شعرا اور دانشوروں نے شرکت کی اُن میں پروفیسر شوکت شفیع، پروفیسر منظور احمد راتھر،، سید ہمایوں قیصر، شبیر مُجاہد، عیاش عارف،سید اختر منصور، جاوید اقبال ماوری، شاہد دلنوی،بشیر منگوالپوری،شیخ طارق جاوید،عمر امتیاز،مشتاق احمد علی خان، حسرت گڈھا ، بھوانی بشیر یاسر، ریاض مسرور، ظاہر بانہالی، رشید روشن،نثار نسیم، شفیق قریشی، میر طارق رسول،منصور منتظر،ریاض انزو،یوسف جہانگیر،اظہار مبشر، منظور سوگامی، غلام نبی شاکر،جوہرانعام، مجید مجازی، شاکر شفیع، ڈاکٹر ریاض الحسن، غلام نبی شاہد، فاروق شاہین، غلام احمد دلدار،غلام محمد دلشاد،محمد رفیق یتو،چھان عبدالرحمان، مقبول فایق، ڈاکٹر شہزادہ سلیم وانی، اختر حسینی،محمد عبداللہ ڈولی پوری،، شیخ خورشید احمد، داکٹر سمع اللہ، بشیر طاہر، غلام حسن اجسی،محمد اکبر مسکین، غلام حسن بیکس، توحیدہ ناز، آفاق دلنوی ،، ایم وسیم،فریدہ شوق،مزمل شوق،مظفر معصوم مقبول،غلام حسن عجمی،، ریئس احمد پیر،عاشق حُسین،سرہان بشیر وانی، نذیر شلوتی،منشی مختار احمد،عمران وانی،روحی جان،ڈاکٹر حسین ہادی،سید روف بخاری،خالد بشیر تلگامی،رفاقت حفیظ،علی محمد ڈار،جاوید احمد وانی،محمد شفیع،منظور احمد،عبدلرشید الایی،بشیر احمد بٹ،حنا امین،غلام نبی لون،سید مسعود شاداب،اور فاروق وانی وغیرہ قابل ذکر ہیں،

متعلقہ خبریں

پروفیسر گلشن مجید، شمشاد کرالی واری، عبدالخالق شمس، گلشن بدرنی، اور خالق پرویز اعزازات پانے والوں میں شامل ندائے.

بڑی تعداد میں عائشہ اور آنگن واڑی ورکروں کی شرکت
پلوامہ/تنہا ایاز/ چرار شریف بڈگام کے لائف سکول میں سیو دی ڈیسٹیٹیوٹ.

ندائے کشمیر /محمد ادریس/آج یہاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں کشمیری سیکشن شعبئہ ماڈرن انڈین لنگویجز کے اہتمام سے.

تین منزلہ مکان جل کر خاکستر
بنی /ندائے کشمیر/مدثر علی/ کل 6نومبر منگلوار کو دیر رات گئے تقریباً 9:45 پر تین منزلہ.

ندائے کشمیر/محمد ادریس/گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج راجوری کے لیے یہ ایک قابل فخر بات ہے کہ اس کے ایک ہونہار طالب علم.