ویڑیو

ای پیپر

اہم خبریں

نقب زنی میںملوث دو ملزمان کو مالہ مسروقہ سمیت گرفتار کیا گیا سرینگر //15مئی.

سی یو ای ٹی کے ذریعہ گریجویشن میں فارم داخل کرنے کی 22؍ مئی آخری تاریخ سرینگر.

پولیس نے بھائی بہن سمیت تین ملزمان کو گرفتار کر کے تحقیقات شروع کر دی سرینگر.

ڈاکٹر عزیز حاجنی فخر کشمیر کیوں اور کیسے؟

   50 Views   |      |   Wednesday, May, 18, 2022

ڈاکٹر عزیز حاجنی فخر کشمیر کیوں اور کیسے؟

عبدالرحمان فداؔ

جن تک کا کو ئی فرد اپنے وطن عزیز کے لوگوں کیلئے اُن کا خیر خواہ اور ہمدر ہو نے کا دعوی پیش کر ے اور خضر جیسی رہنمائی کرے کس کی بدولت قوم کی تقدیر ہی بدل جائے تو ایسے ہی لوگ قوم کی پہچان کن کر اس قدر عوامی مقبولیت حاصل کر پاتے ہیں کہ قوم اُن کو اعلی خطابوں سے نوازتے ہیں اور بعد از مرگ بھی اُن کو اِ ن ہی القابوں سے یاد جر تے ہیں مثال کے طور پر کشمیر کو سامراجی طاقتوں نے سکھوں سے حاصل کر نے کے بعد ڈوگروں کو پچھتر لاکھ کھوٹے سکوں کے عوض فروخت کیا تھا تو کسی نے بھی اس کے خلاف آواز اُٹھانے کی جُرت ہی نہیں کی تھی تو شیخ محمد عبداللہ نے سرکاری ملازمت کو خیر آباد کتر کے اس سودا کو بیعہ نامہ امرتسر کیہلاتا ہے کے خلاف علم بغاوت بلند کی اور اُس وقت کے مایہ ناز ماہر قانون اور آسوذ کار سیاست دان مرزا محمد افضل بیگ نے شیخ صاحب کا شانہ بہ شانہ ساتھ دیا اور سالہا سال قیدو بند کی سلاخوں کی پیچھے تکالیف کا سامنا کر نا پڑا مگر بالآخر دوگرا شاہی کا خاتمہ کر دیا اور نیا کشمیر کا نعرہ بلند کیا قوم بنے بلا لحاظ مذہب وملت رنگ و نسل اور علاقائی تعصب سے ہٹ کر شیخ محمد عبداللہ کو شیر کشمیر اوت مرزا افضل بیگ کو فخر کشمیر کے خطابوں سے نوازا۔ جب بھی ان دو رہنمائوں کا گذر کسی بھی علاقے سے ہوا کرتا تھا یا عوامی جلسوں کو خطاب کر تے تھے تو شیر کشمیر شیخ محمد عبداللی اور فخر کشمیر مرزا محمد مرزا افضل بیگ زندہ بار کے فلک شگاف نعروں سے فضا گونج اُٹھتی تھی۔ رہی یہ سیاسی لوگوں کی بات اگر علم و ادب کے میدان میں رہائے نمایاں انجام دینے والوں کو دیکھا جائے تو علامہ اقبالؒ کو بر طانوی حکومت کی جانب ہندو پاک تقسیم سے قبل’ سرــ‘ کا خطاب مل گیا اور پو ری دنیانے قبول کیا اور علامہ اقبال کو علامہ سر محمد اقبال کے نام سے یاد کیا گیا اور ہتی دنیا تک کو بھی بھی طاقت اس کو بدل نہیں سکے گی۔
اپنے ہی کشمیر ی شاعر پیر زادی غلام احمد مجہور کی مثال باکل تازہ ہے جب انہوں نے اپنے قلم کا استعمال اسطرح کیا اُن کی دلوں انگیز نظموں نے سادہ لوح کشمیر یوں میں ایسا جوش و جذبہ پیدا کر دیا کہ وہ بھی غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کیلئے حریت پسند تحریک کا حصہ نب گئے اور مجہور صاحن کو جو عوامی مقبولیت حاصل ہو ئی شائد ہی رسول میر کے بعد اور کو ئی اس کا دعوٰی کر سکتا ہے جس کے عوض مجہور کو شاعر کشمیر کا خطاب مل گیا اور آج بھی اُن کا نام عذت و احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے اور آئیندہ بھی لیا جائے گا جب تک کشمیری زبان زندہ ہے لیکن یہ بات میرے فہم و ادراک سے بالا تر ہے کہ ایک مخصوص ٹولی مرحوم ڈاکٹر عزیز حاجنی کو فخر کشمیر کہنے لگے اور وہ بھی بعد از مرگ
سچ ہے کہ محبت اندھی ہے مگر اتنی بھی نہیں ہے مجھے یقین ہے کہ مرحوم حاجنی صاحب کو اگر بقید حیات یہ ٹولی اس خطاب سے نوازتے تو وہ بھی ہر گز ہر گز اے قبول نہ کرتے کیو کہ انہیں بخوبی علم تھا کہ فخر کشمیر کا لقب پانے میں کون سی خصوصیات کا ہو نا لازمی ہے اس کے علاوہ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ مذکو رہ لقب قوم نے کسی کو بخشا ہے اور اب دوسرا اس کا حقدار نہیں ہو سکتا ہے اگر چہ پہلے والے سے بھی زیادہ ہی قابل کیو نہ ہو۔
اس میں شک نہیں کہ موحوم حاجنی صاحب صفہ اول کے اُن دانشوروں میں یاد کیا جانا ہمارے اوپر حق ہے جو کشمیر زبان کو عروج پر دیکھنا چاہتے تھے اور جس تن دہی کے ساتھ انہوں نے کشمیری زبان کی خدمت کی اُس کا صلہ تو اپسے اپنی حیاتی میں ہی مل گیا۔ خدا حاجنی صاحب کو کروٹ کروٹ مغفرت کرے مگر مذکورہ جماعت سے میری گذارش ہے کہ وہ خفا نہ ہو جائیں اور اس پر کھلے ذہن سے دوبارہ سوچ و چار کریں تاکہ فخر کا لفظ اتنا سستا نہ ہو کہ اب یہ حاجنی صاحب سے بڑے دانشوروں کے ناموں کے ساتھ جوڑنا نہ پڑے۔ اگر یہ لوگ اپنے فیصلے پر ڈٹے رہیں تو خدا را مجھے بتائو کہ پروفیسر رحمان راہی، محی الدین حاجنی، پروفیسر غلام نبی فراق، امین کامل، رسنجو تلہ گامی، غلام نبی آتش، پروفیسر شار رمضان، پروفیسر مجروح رشید، پروفیسر شفیع شوق، ناجی منور اور محمد یوسف ٹینگ جیسے قد آور ادبی شخصیات کو کسی خبان سے نوازا جائے میں یہ بھی عرض کر نا مناسب سمجھتا ہوں کہ ایسے فیصلے صرف ادبی لوگوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ ایسے فیصلے سماج کے ہر طبقہ کے لوگوں کو بھی ہضم ہو نا چاہئے جس کی روایت ماضی سے ملتی ہے۔

متعلقہ خبریں

اطراف و اکناف سے آئے ہوئے سرکردہ ادیبوں اور دانشوروں نے کی شرکت سرینگر/ 08مئی /این این این/ ادبی مرکز کمراز جموں.

مقررین نے دن کی اہمیت کے حوالے سے مفصل روشنی ڈالی سرینگر/ 08مئی /این این این/ تنہا ایاز// عالمی یوم مادر کے سلسلے میں.

✍ اُردُو تحریر 📃:
تفسیر: ‎صراط الجنان {اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِ: بیشک ہم نے اس قرآن کو.

اشفاق مجید آئے دن ہم دیکھتے ہیں کہ موبائل کا استعمال ہر ایک کے لیے لازمی بن چکا ہے اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ موبائل.

یوںہی کوئی بے وفانہیں ہوتا
ڈاکٹر عبدالمجید بھدرواہی میری اورعرفان کی بہت پرانی اورگہری دوستی تھی ۔ہم ایک ہی.